• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: دھوبی کے دھوئے ہوئے کپڑے پاک ہوتے ہیں یا ناپاک جب کہ یقین نہ ہو کہ وہ کپڑے پاک کرتا ہے یا نہیں؟ سنا ہے کہ اگر دھوبی کو پاک کپڑے دیے جائیں تو اس کے دھونے کے بعد بھی وہ پاک سمجھے جائیں گے اور ناپاک کپڑے دھوبی کو دیے تو اس کے دھونے کے بعد بھی ناپاک رہیں گے۔ اس بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب: دھوبی کو پاک کپڑے دیے جائیں یا ناپاک، بہرصورت دھوبی کے دھونے کے بعد وہ بلاتردد پاک ہوجاتے ہیں، اس لیے کہ دھوبی حضرات عموماً پانی کی اتنی مقدار استعمال کرتے ہیں جس سے ناپاک کپڑے پاک ہوجاتے ہیں۔

الا یہ کہ کپڑے دھونے کے بعد بھی کپڑے پر ناپاکی کا اثر واضح ہو تو کپڑا پاک نہیں ہوگا، لیکن یہ حکم صرف دھوبی کے ساتھ خاص نہیں ہے، دھونے والا کوئی بھی ہو، ناپاکی کا اثر باقی رہنے کی صورت میں کپڑا پاک نہیں ہوتا۔

اگر کسی کو دھوبی سے کپڑے دھلوانے میں تردد ہو، لیکن متبادل دھونے کا انتظام نہ ہو تو اس کے لیے بہتر ہے کہ ناپاک کپڑے پاک کرکے دھوبی کو دے دے، تاکہ شکوک اور وساوس میں مبتلا نہ ہو۔ نیز دھوبی سے کہہ دینا چاہیے کہ وہ دھلائی کے دوران کم از کم آخری مرتبہ بالکل صاف پاک پانی سے کپڑے نکالے؛ تاکہ کسی قسم کا شبہ باقی نہ رہے۔

اقراء سے مزید