ڈاکٹر نعمان نعیم
یہ ایک حقیقت ہے کہ انسانی زندگی کے ادوار میں جوانی کا دَور جوش و جذبات سے بھر پور ہوتا ہے، جس میں انسان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کئی فتوحات اپنے نام کرتا، خوب نام کماتا ہے، لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اسی دَور میں ایک ایسے رہبر کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، جس کی زندگی کو اپنے لیے نمونہ سمجھتے ہوئے اس کی تقلید کی جا سکے، جسے اپنا رول ماڈل بنایا جا سکے۔ ہم اس حوالے سے خوش قسمت ترین ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرم، خاتم النبیین حضرت محمدﷺ کو مبعوث فرمایا۔
آپ ﷺکی ذاتِ اقدس سے ہمیں زندگی کا نصب العین ملا۔ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ سے اگر ہم آپ کی جوانی کے ایام کا جائزہ لیں، تو اُن میں نسلِ نو کے لیے بہترین زندگی گزارنے کے گُر پوشیدہ ہیں، جن پر عمل کرکے نوجوان اپنے معاملاتِ زندگی دُرست کر سکتے ہیں اور معاملات کی یہ دُرستی صرف اعمالِ صالح کے لیے نہیں، بلکہ معاشرے میں موجودہ بگاڑ کے سُدھار میں بھی کارگر ثابت ہوسکتی ہے۔
اسلام نے ہر دور میں نوجوانوں کو قوم کی اصل قوت تسلیم کیا ہے اور ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں اہم ترین عسکری، علمی اور سیاسی قیادت سونپی ہے۔
قرآنِ کریم کی روشنی میں
اصحابِ کہف کی جرأت اور حق پر ڈٹ جانا:اللہ تعالیٰ نے حق کا پرچم بلند کرنے والے ان نوجوانوں کی تعریف میں فرمایا: "بے شک وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے انہیں ہدایت میں اور زیادہ ترقّی دی۔"(سورۃ الکہف: 13)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نوجوانی کا عزم: باطل کے سامنے ڈٹ جانے والے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نوجوانی کا ذکر قرآن میں یوں آیا: "ہم نے ایک نوجوان کو ان (بتوں) پر تنقید کرتے سنا جسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔(سورۃ الأنبياء: 60
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں
عرشِ الٰہی کا سایہ اور نوجوانی کی عبادت: نبی کریم ﷺ نے قیامت کے دن عرش کے سائے میں جگہ پانے والے سات لوگوں میں نوجوان کو خصوصی مقام دیا:ترجمہ: "اور وہ نوجوان جس کی نشو و نما اور جوانی اللہ کی عبادت میں گزری ہو۔"(صحیح البخاری)
جوانی کی طاقت کو غنیمت جاننا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ترجمہ: "پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو اور اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے۔"(المستدرک للحاکم)
سیرتِ طیبہ سے عملی مثالیں (نوجوانوں پر اعتماد اور قیادت)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ (عسکری سپہ سالاری): نبی کریم ﷺ نے روم جیسی سپر پاور کے مقابلے کے لیے لشکر کی قیادت 18 سال کے نوجوان حضرت اسامہ بن زیدؓ کو سونپی، جس میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما جیسے سینئر صحابہ شامل تھے۔
حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ (پہلے سفیرِ اسلام):نبی کریم ﷺ نے بیعتِ عقبہ کے بعد مدینہ منورہ میں اسلام کی اشاعت اور پہلے اسلامی مرکز کی بنیاد رکھنے کے لیے محض 20-22 سال کے نوجوان حضرت مصعب بن عمیرؓ کو اپنا پہلا سفیر بنا کر بھیجا۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ (عدالتی و انتظامی قیادت):محض 27 سال کی عمر میں نبی کریم ﷺ نے حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن کا والی (گورنر) اور قاضی بنا کر بھیجا اور ان کی علمی و اجتہادی صلاحیت پر مکمل اعتماد کا اظہار فرمایا۔
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ (علمی و تدوینی قیادت): نبی کریم ﷺ نے محض 20-21 سال کی عمر میں حضرت زید بن ثابتؓ کو عبرانی زبان سیکھنے کی ذمہ داری دی اور بعد میں قرآنِ کریم کی تدوین و جمع جیسے عظیم الشان تاریخی کام کی قیادت ان کے سپرد کی گئی۔
سیرتِ طیبہ کا واضح پیغام ہے کہ معاشرے کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی صلاحیتوں پر بھروسا کر کے انہیں فیصلہ سازی اور قیادت کے عملی مواقع فراہم کرے۔
دوسرا چیلنج سطحی علم مادیت پر مبنی علم موجودہ انفارمیشن ایج میں سطحی علم کثرت سے دستیاب ہے، لیکن حکمت اور عملی مہارتوں کا شدید فقدان ہے۔ اسلام معلومات جمع کرنے کے بجائے علم کی گہرائی، فہم اور اس کے عملی اطلاق پر زور دیتا ہے۔
1. قرآنِ کریم کی روشنی میں معلومات بمقابلہ حکمت: قرآن محض معلومات کو علم نہیں مانتا، بلکہ اسے "حکمت" کے ساتھ جوڑتا ہے: ترجمہ: "اور جسے حکمت عطا کی گئی، اسے بہت بڑی خیر عطا کی گئی۔"(سورۃ البقرۃ: 269)
(حکمت سے مراد علم کا صحیح، بروقت اور بصیرت کے ساتھ استعمال ہے، جو صرف سطحی معلومات سے حاصل نہیں ہوتا)
سطحی سوچ اور عدم فہم پر تنقید: قرآن ان لوگوں کی مذمت کرتا ہے جو باتوں کی گہرائی میں اترے بغیر سطحی نتائج نکالتے ہیں: ترجمہ: "ان کے پاس دل ہیں لیکن وہ ان سے سمجھتے نہیں (گہرائی و فہم سے کام نہیں لیتے)۔"(سورۃ الأعراف: 179)
2. احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں علم کی گہرائی (فہم) کی اہمیت:رسول اللہ ﷺ نے سطحی معلومات کے بجائے فہم اور بصیرت کو خیر کی علامت قرار دیا: ترجمہ: "اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، اسے دین کی گہری سمجھ (فہم) عطا کرتا ہے۔"(صحیح البخاری) (جاری ہے)