آپ کے مسائل اور اُن کا حل
سوال: دو بھائی ایک کاروبار میں شریک تھے، جو کہ ان کے والد کی طرف سے انھیں ملا تھا۔ اب دونوں بھائی باہمی رضامندی سے کاروبار تقسیم کرچکے ہیں، ایک بھائی یہ چاہ رہا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ہی اپنی بیوی اور اولاد کا حصہ دے دے، اولاد میں پانچ بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ اس کی تقسیم کا شرعی طریقہ کیا ہوگا؟
جواب: ہر شخص اپنی زندگی میں اپنے مال و جائیداد کا مالک ہے، اور اس میں ہر جائز تصرف کا اختیار رکھتا ہے، اگر وہ زندگی میں ہی اپنی جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو اسے اس کا حق ہے، تاہم زندگی میں جائیداد کی تقسیم وراثت نہیں ہے، بلکہ تحفہ/ گفٹ ہے، اور اولاد کو تحفہ دینے میں اولاد کے درمیان برابری ضروری ہے، بغیر کسی شرعی عذر کے کسی کو کم یا زیادہ دینے کی وجہ سے آدمی گناہ گار ہوتا ہے، تاہم اولاد میں سے اگر کوئی زیادہ دین دار، خدمت گزار یا زیادہ حاجت مند ہو تو اس کو دوسروں کی بنسبت زیادہ دینے کی شرعاً اجازت ہے۔ لیکن اولاد میں سے کسی کو بالکلیہ محروم کردینا جائز نہیں ہے۔
لہٰذا اگر مذکورہ شخص اپنے پانچ بیٹوں اور ایک بیٹی کے درمیان جائیداد تقسیم کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے بہتر ہے کہ اولًا اپنے اور اپنی اہلیہ کے لیے کچھ مال و جائیداد رکھ لے، تاکہ بوقتِ ضرورت اولاد یا دوسروں کی محتاجی نہ ہو، پھر جو مال یا جائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہتا ہے وہ پانچ بیٹوں اور بیٹی کے درمیان برابر برابر تقسیم کرکے انھیں حوالے کردے۔
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟
انہوں نے کہا : ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔ (مشکاۃ المصابیح، باب العطایا، ج:1، ص:261، ط: قدیمی – ترجمہ: مظاہر حق، ج:3، ص: 193، ط: داراالاشاعت)