تفہیم المسائل
نماز میں امام کو متنبہ کرنے کے لیے بلند آواز سے سبحان اللہ کہا جاتا ہے اور چونکہ عورت کا نماز میں آواز بلند کرنا شرعاً ممنوع اور مذموم ہے اس لیے نبی اکرم ﷺ نے عورت کو سبحان اللہ کہنے کے بجائے ہاتھ کی پشت پر ہاتھ مارنے کا حکم دیا ہے، علّامہ بدرالدین عینی حنفی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :’’شارع علیہ السلام نے عورت کے سبحان اللہ کہنے کو اس لیے مکروہ قرار دیا ہے کہ اس کی آواز فتنہ ہے ،اس لیے اسے اذان ، امامت اور نماز میں بلند آواز کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے سے منع کیا جاتا ہے ،(عمدۃالقاری، جلد: 7،ص: 279،مطبوعہ: مصر)‘‘۔
علّامہ کمال الدین ابن ہمام لکھتے ہیں: ’’ نوازل میں تصریح ہے کہ عورت کی آواز عورت (واجبُ السَّتر) ہے اور اس سے یہ نتیجہ اَخذ کیا ہے کہ عورت کا نابینا مرد سے قرآن پڑھنے کے بہ نسبت عورت سے قرآن مجید پڑھنا زیادہ پسندیدہ ہے، فرمایا: کیونکہ عورت کی آواز عورت ہے، (فتح القدیر جلد 1ص:260)‘‘۔
امام اہلسنّت امام احمد رضا قادری قدس سرہ العزیز سے سوال ہوا:’’ عورتوں کا زنانی محفلِ میلاد النبی ﷺ میں آوازسے نثرو نظم پڑھنا اور نظم خوش آوازی ولحن کے ساتھ اس طرح پڑھنا کہ مکان کے باہر ہمسائے اور دوسرے لوگ سن رہے ہوں یا سن سکتے ہوں ،کیا شرعاً جائز ہے ‘‘۔
آ پ نے جوا ب میں لکھا :’’عورت کا خوش الحانی سے بآواز ایسا پڑھنا کہ نا محرموں کو اس کے نغمہ کی آواز جائے ،حرام ہے۔ نوازِل لِلامام فقیہ اَبُو اللّیث میں ہے : ’’عورت کا اونچی آوازسے شعر پڑھنا ’’عورت‘‘ یعنی محل ستر ہے‘‘، اسی طرح کافی امام ابو البرکات نسفی میں ہے :’’عورت بلند آواز سے(حج کی) تلبیہ نہ پڑھے اس لیے کہ اس کی آواز قابلِ سترہے‘‘، نیز امام ابوالعباس قرطبی کی کتاب السّماع پھر بحوالہ علامہ علی مقدّسی ’’امداد الفتاح علّامہ شرنبلالی‘‘ اور ’’ردالمحتار علّامہ شامی‘‘ میں ہے:’’ہم عورتوں کو اپنی آوازیں بلند کرنے، انہیں لمبا اور دراز کرنے ،(لہجے کو)نرم (پرکشش) بنانے اور اُن میں تقطیع کرنے(یعنی ایک ایک لفظ جد ا کر کے تحلیلی عروض کے مطابق پڑھنے) کی اجازت نہیں دیتے ،کیو ں کہ ان کے سبب مر دوں کا ان کی طر ف میلان ہو تا ہے اور ان کے جنسی جذبات برانگیختہ ہو تے ہیں ،اسی وجہ سے عورت کو یہ اجازت نہیں کہ وہ اذان دے، (فتاویٰ رضویہ ج22،ص:242-43 )‘‘ ۔
صدرالشریعہ علّامہ امجد علی اعظمی ؒ ’’غنیۃ‘‘ کے حوالے سے لکھتے ہیں ـ: ’’عورت کو عورت سے قرآن مجید پڑھنا غیر محرم نابینا سے پڑھنے سے بہتر ہے کہ اگرچہ وہ اسے دیکھتا نہیں مگر آواز تو سنتا ہے اور ’’عورت کی آواز بھی عورت ہے ‘‘، یعنی غیر محرم کو بلا ضرورت سنانے کی اجازت نہیں ، (بہارِ شریعت جلد 1ص:207 )‘‘۔
موجودہ زمانے میں خواتین کی محافل ِ میلاد ونعت ان تمام خرافات سے خالی نہیں ہیں ، جو امام اہلسنّت امام احمد رضاقادری ؒنے بیان فرمائیں ، نیز اب سوشل میڈیا پر اس کی بھرپور تشہیر اور محافل کی مکمل کوریج دیکھی جاسکتی ہے، خواتین بھی بے پردہ نظر آتی ہیں۔ آپ نے صرف خواتین کا مجمع رکھا ہے، لیکن اطراف وجوانب میں مرد حضرات کی موجودگی یقینی ہوتی ہے، جو یقینی طورپر محفل میں موجود تمام خواتین کے محرم تو نہیں ہوں گے، کئی منتظم ہونے کے سبب اور ساؤنڈ سسٹم والے ان کے درمیان آزادانہ گھومتے پھرتے ہیں۔
اگر کوئی یہ کہے کہ شادی بیاہ کی مختلف النوع اور عقیقے وسالگرہ کی تقریبات میں تویہ سب کچھ ہورہا ہوتا ہے، تو عرض ہے کہ یہ سب کچھ ہماری اجازت سے ہرگز نہیں ہوتا اور ہر کوئی اپنے اَفعال کاخود ذمے دار ہے۔
بہتر یہ ہے کہ گھر کے اندر یا چھت پر قناتیں لگاکر لاؤڈاسپیکر کے بغیر یہ مجالس منعقد کی جائیں اور گھریلو مرد بھی اجنبی عورتوں کے درمیان جانے سے گریز کریں یا آپ کی بیان کردہ صورت میں چہار دیواری کے اندریا بند شامیانوں میں لاؤڈاسپیکر کے بغیر یہ مجالس منعقدکی جائیں، کیونکہ لاؤڈ اسپیکر چاہے صرف چہاردیواری کے اندر ہو، اس کی صوتی لہروں کو آپ کنٹرول نہیں کرسکتے۔(واللہ اعلم بالصّواب)