• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کینیڈا میں پراسرار جزیرہ نمودار ہونے کے چند ہفتوں بعد غائب

---تصویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---تصویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا

کینیڈا میں درختوں سے ڈھکا ایک وسیع و عریض جزیرہ اچانک نمودار ہونے کے چند ہفتوں بعد پراسرار طور پر غائب ہو گیا، جس کے بعد مقامی افراد اور حکام اس کی حقیقت اور غائب ہونے کی وجہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ عجیب و غریب جزیرہ جولائی میں برٹش کولمبیا کے ولسٹن ریزروائر میں ایک مقامی کشتی بان نے دیکھا تھا، جس نے اس کی تصاویر بنائیں اور انہیں مقامی رہائشی راکی ایوری کے ساتھ شیئر کیا۔

تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئیں، تاہم سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ آخر اتنا بڑا جزیرہ وہاں آیا کہاں سے؟

بعد ازاں سیٹلائٹ تصاویر نے بھی اس جزیرے کی موجودگی کی تصدیق کر دی۔

 بی سی ہائیڈرو کے مطابق 21 جولائی کی سیٹلائٹ تصاویر میں فنلے بے کے مغرب میں یہ غیر معمولی زمینی ٹکڑا دکھائی دیا۔

حکام کے مطابق جزیرہ تقریباً 230 فٹ چوڑا اور 460 فٹ لمبا تھا، یعنی اس کا رقبہ تقریباً 2 امریکی فٹ بال گراؤنڈز کے برابر بنتا ہے، جزیرہ درختوں اور دیگر نباتات سے ڈھکا ہوا تھا۔

تاہم اگست میں جب لوگوں نے دوبارہ اس مقام پر نظر ڈالی تو جزیرہ وہاں موجود نہیں تھا، جس کے بعد قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ شاید وہ پانی میں ڈوب گیا ہے۔

بی سی ہائیڈرو کے ترجمان کے مطابق ممکن ہے کہ یہ زمینی ٹکڑا بہہ کر سمندر کے کنارے یا کسی دوسرے نسبتاً محفوظ حصے میں پہنچ گیا ہو، جس کا مطلب ہے کہ جزیرہ اب بھی کہیں موجود ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایک ممکنہ وضاحت یہ ہے کہ غیر معمولی طور پر بلند پانی کی سطح کے باعث یہ زمینی حصہ ساحل سے الگ ہو گیا ہو، اس کے بعد تیز ہواؤں نے اسے سمندر  میں بہا دیا ہو۔

وسیع رقبے کے باعث پراسرار طور پر غائب ہونے والے تیرتے جزیرے کو دوبارہ تلاش کرنا بھی ایک مشکل کام بن گیا ہے۔

بی سی ہائیڈرو کا کہنا ہے کہ اس عجیب و غریب زمینی ٹکڑے کو تلاش کر رہے ہیں، تاکہ اگر یہ دوبارہ کہیں نمودار ہو تو اس کا سراغ لگایا جا سکے۔

دلچسپ و عجیب سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید