کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن بلوچستان کےصدر عبدالرزاق ، ایاز زیارتوال اور سیف الرحمٰن کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا ہے اس کے باوجود ہزاروں بچے اسکولوں سے باہر ہیں ۔ حکومت ہر گاوں میں اسکول ، ہر کلاس میں استاد ، تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی ، غریب طلباء کے لئے مفت تعلیم ، اسکالر شپ میں شفافیت ، ہاسٹل ، ٹرانسپورٹ کی فراہمی کو یقینی بنائے ، تعلیمی اداروں میں خالی اسامیوں پر فوری بھرتیاں اور تعلیمی بجٹ کو شفاف بنایا ، طلبا یوینیز بحال اور مادری زبان میں تعلیم دی جائے ۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں دیگر نومنتخب صوبائی عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔ انہوں نے کہا کہ پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن بلوچستان کی نومنتخب کابینہ کی حلف برداری کی تقریب 21 ستمبر کو کوئٹہ پریس کلب میں ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کی سیاست کی بنیاد طاقت ، تشدد اور نفرت پر نہیں بلکہ عدم تشدد ، جمہوریت ، امن اور ترقی پر مبنی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود یہاں ہزاروں بچے درسگاہوں سے باہر ہیں۔ جہاں سکول موجود ہیں وہاں اساتذہ کی کمی ہے اور جہاں اساتذہ ہیں وہاں تعلیمی سہولیات ناپید ہیں۔ حکومت تعلیمی سہولیات کی فراہمی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرئے۔ انہوں نے افغانستان میں لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم پر پابندی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتےہوئے کہا کہ تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔