• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

3 لاکھ 15 ہزار سال پرانے انسان کا چہرہ سائنسدانوں نے دوبارہ بنا لیا

---تصاویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---تصاویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا

سائنسدانوں نے انسانی نسل کے قدیم ترین افراد میں سے ایک کا چہرہ دوبارہ تشکیل دے دیا، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تقریباً 3 لاکھ 15 ہزار سال پہلے انسان کیسا دکھائی دیتا تھا۔

یہ چہرہ مراکش کے علاقے جبل ایرہود سے ملنے والے قدیم ہومو سیپینز فوسلز کی بنیاد پر دوبارہ تشکیل دیا گیا ہے۔

 یہ مقام انسانی نسل کی ابتداء کے بارے میں سائنسی نظریات کو تبدیل کرنے والی اہم دریافتوں میں شمار ہوتا ہے۔

محققین نے کھوپڑی کی مدد سے فرانزک تکنیک استعمال کرتے ہوئے چہرے کی تشکیل نو کی، جس میں بنیادی طور پر ’ایرہود 1‘ نامی فوسلز کو مدِ نظر رکھا گیا۔

تشکیل نو کے مطابق اس شخص کا چہرہ چوڑا، ماتھے کا ابھرا ہوا حصہ نمایاں اور مجموعی خدوخال ایسے تھے جو آج کے انسانوں سے بھی کسی حد تک مشابہ دکھائی دیتے ہیں۔

تاہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ کسی ایک شخص کا مکمل اور درست چہرہ نہیں بلکہ دستیاب فوسلز کی شواہد کی بنیاد پر ایک سائنسی تشکیل نو ہے، کھوپڑی کی ہڈیوں سے جلد کی رنگت، بالوں اور دیگر نرم بافتوں کی تفصیلات معلوم نہیں ہوسکتیں، اس لیے ان پہلوؤں میں فنکارانہ اندازہ شامل ہوتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق جبل ایرہود سے ملنے والے فوسلز کے چہرے، جبڑے اور دانت جدید ہومو سیپینز سے کئی اہم مماثلتیں رکھتے ہیں، تاہم ان کی کھوپڑیاں موجودہ انسانوں کے مقابلے میں زیادہ لمبی اور کم گول تھیں۔

خاص رپورٹ سے مزید