• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئی چیز سیکھنے پر دماغ میں کیا ہوتا ہے؟ دلچسپ ویژولائزیشن نے راز کھول دیا

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

نئی چیز سیکھنے کا عمل صرف معلومات کو یادداشت میں محفوظ کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس دوران دماغ میں نیورونز کے درمیان نئے روابط بھی تشکیل پاتے ہیں۔

ایک دلچسپ ویژولائزیشن میں دکھایا گیا ہے کہ سیکھنے کے دوران دماغ کے نیورونز کس طرح ایک دوسرے سے جڑتے اور معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔

ویڈیو کا آغاز نیورونز کے خوردبینی منظر سے ہوتا ہے، جہاں ایک نیورون کا حصہ قریبی دوسرے نیورون کی جانب بڑھتا ہوا دکھائی دیتا ہے، بڑھتا ہوا حصہ جب دوسرے نیورون کے قریب پہنچ کر اس سے جڑتا ہے تو اسے ایک نئے عصبی رابطے کی تشکیل کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

اس کے بعد نیورونز کی شاخوں میں روشنی کی مانند چمک نمودار ہوتی ہے، جو دماغ میں معلومات کے پراسیس ہونے کے دوران پیدا ہونے والی برقی سرگرمی اور نیورونز کے درمیان رابطے کی علامت ہے۔

ماہرین کے مطابق جب انسان کوئی نئی چیز سیکھتا اور اسے بار بار دہراتا ہے تو نیورونز کے درمیان موجود روابط مضبوط اور زیادہ مؤثر ہو سکتے ہیں، یہی عمل معلومات کو یاد رکھنے اور پہلے سیکھی گئی مہارتوں کو آسانی سے یاد کر کے استعمال کرنے میں مدد دیتا ہے۔

تاہم یہ ویژولائزیشن دماغ میں یادداشت بننے کے عمل کی لفظی یا حقیقی تصویر نہیں بلکہ اس پیچیدہ عمل کو سمجھانے کی ایک سادہ نمائندگی ہے، جو سیکھنے کے دوران دماغ میں ہونے والی حیرت انگیز تبدیلیوں کو اجاگر کرتی ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید