کراچی (بابر علی اعوان) سندھ میں انسدادِ پولیو مہمات کے دوران غیر متعلقہ اور کم گریڈ ملازمین کو یونین کونسل مینجمنٹ آفیسر (یو سی ایم او) تعینات کرنے کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا ہے۔ پیر سے شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کے دوران ضلع وسطی میں مالی، نائب قاصد، چوکیدار اور ڈرائیور کو یو سی ایم او مقرر کردیا گیا ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ضلع وسطی سمیت کراچی کے تین اضلاع کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوچکی ہے اور شہر میں وائرس کے ماحولیاتی پھیلاؤ کے باعث انسدادِ پولیو مہم میں یونین کونسل کی سطح پر مؤثر نگرانی، درست مائیکرو پلان، بچوں کی حقیقی کوریج اور شفاف رپورٹنگ پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ ایسے میں یو سی ایم او کی ذمہ داری کے لیے مقررہ اہلیت رکھنے والے افراد کے بجائے غیر متعلقہ ملازمین کی تعیناتی نے پولیو پروگرام کی پالیسی پر عملدرآمد کے حوالے سے سوالات پیدا کردیئے ہیں۔ یاد رہے کہ ’جنگ‘ نے 31 اگست 2024ء کو نشاندہی کی تھی کہ انسدادِ پولیو مہمات میں ڈاکٹروں کے بجائے مالی، ڈرائیور، وارڈ سرونٹ، آیا اور دیگر غیر متعلقہ افراد کو یو سی ایم او تعینات کیا جارہا ہے۔ خبر کا نوٹس لیتے ہوئے اُس وقت کے ای او سی کوآرڈینیٹر ارشاد علی سوڈھر نے 8 ستمبر 2024ء کو ہدایات جاری کی تھیں کہ نائب قاصد، کلرک، خانسامہ، ڈریسر، ڈرائیور، چوکیدار، مالی، اسٹور کیپر، اٹینڈنٹ، اسٹینوگرافر، وارڈ سرونٹ، انسیکٹ کلیکٹر اور ڈیٹا آپریٹر سمیت دیگر غیر متعلقہ افراد کو یو سی ایم او تعینات نہ کیا جائے۔ اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سینٹرل ڈاکٹر عدنان خان کا کہنا تھا کہ ضلع میں بڑی تعداد میں ڈاکٹرز کے تبادلے ہوچکے ہیں، جبکہ بعض موجود ڈاکٹرز کام کرنے پر آمادہ نہیں ہیں، جس کے باعث مذکورہ افراد کو عارضی طور پر یو سی ایم او کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔