• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صوبائی ڈرگ انسپکٹر غلام علی لاکھو کو محکمہ صحت رپورٹ کرنے کا حکم

کراچی (بابر علی اعوان) محکمہ صحت سندھ نے صوبائی ڈرگ انسپکٹر غلام علی لاکھو کو فوری طور پر ریلیو کرکے محکمہ صحت میں رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں، جبکہ انہیں تاحکم ثانی محکمہ صحت میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ احکامات ایسے وقت میں جاری کیے گئے ہیں جب رواں ماہ 10 ستمبر کو پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے چیف سیکریٹری سندھ کو مکتوب ارسال کرکے غلام علی لاکھو پر فارما کمپنیوں کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے، غیرقانونی مطالبات، ادویات کا اسٹاک ضبط کرنے، فروخت رکوانے اور جھوٹے الزامات و مقدمات کے ذریعے کاروباری سرگرمیاں متاثر کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ 25 ستمبر کو سیکریٹری صحت سندھ طاہر حسین سانگی کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وزیر صحت سندھ کی منظوری سے غلام علی لاکھو، صوبائی انسپکٹر آف ڈرگز (BS-18)، ڈسٹرکٹ ایسٹ، جو چیف انسپکٹر آف ڈرگز سندھ کا اضافی چارج بھی سنبھال رہے تھے، کو فوری طور پر ریلیو کیا جاتا ہے اور وہ تاحکم ثانی محکمہ صحت میں رپورٹ کریں گے۔ پی پی ایم اے کی شکایت کے 15 روز بعد جاری ہونے والے اس حکم کو فارما صنعت کی شکایت کے تناظر میں ہونے والی پیش رفت کی اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ پی پی ایم اے نے اپنے 10 ستمبر کے خط میں چیف سیکریٹری سے مطالبہ کیا تھا کہ غلام علی لاکھو کے خلاف مبینہ اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیرقانونی اقدامات پر سخت کارروائی کی جائے۔ ایسوسی ایشن نے الزام عائد کیا تھا کہ سرکاری تجزیہ کار کی رپورٹ یا کسی جرم کے ثبوت کے بغیر بعض کمپنیوں اور ان کے ڈسٹری بیوٹرز کے خلاف اسٹاک ضبط کرنے، فروخت پر پابندی اور قانونی کارروائی کی جاتی ہے، جبکہ مبینہ مطالبات تسلیم نہ کرنے کی صورت میں کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے۔ پی پی ایم اے نے معاملے کی تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے خط کی نقول وزیراعلیٰ سندھ، وزیر صحت، سیکریٹری صحت، اینٹی کرپشن سندھ، ایف آئی اے، ڈریپ اور سندھ کوالٹی کنٹرول بورڈ کے حکام کو بھی ارسال کی تھیں۔

اہم خبریں سے مزید