پاکستان میں متعین روسی سفیر البرٹ پی خورئیو نے کہا ہے کہ روس مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو مثبت قدم کے طور پر دیکھتا ہے، مکہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں براہ راست تنازع کے نتیجے میں سامنے آیا تھا۔
اسلام آباد میں روس یوکرین تنازع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روسی سفیر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ تنازع امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کے نتیجہ میں شروع ہوا۔
انھوں نے کہا کہ اس معاہدے کو آگے چل کر اپنے آپ کو مضبوط ثابت کرنا پڑے گا۔ ممالک کا اپنی سلامتی کی ذمہ داری سنبھالنے کی کوشش کرنا مثبت بات ہے، یہ عمل روسی صدر پیوٹن کے بیان سے بھی ملتا جلتا ہے۔
روسی سفیر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر روس نے سب سے پہلے تصور پیش کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ روس نے یہ تصور پیش کیا تھا کہ کہ کیسے خطے میں سلامتی کو برقرار رکھ سکیں۔ ہمارے اس تصور میں مساوی حقوق کی بنیاد پر کثیرالجہتی تعلقات قائم کیے جائیں گے۔