• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مومنہ حنیف

آج کا نوجوان ایک ایسے دور میں جی رہا ہے جہاں آزادی، خودمختاری اور ’’میری زندگی، میری مرضی ‘‘جیسے تصورات بہت تیزی سے فروغ پا رہے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی سوچ کا دائرہ تبدیل ہو رہا ہے، ان کے خیالات اور زندگی گزارنے کے طور طریقوں میں بھی روز بہ روز تبدیلیاں آ رہی ہیں وہ چاہتا ہے کہ اس کے معاملات میں کوئی اس سے باز پرس نہ کرے، اس کے فیصلوں پر سوال نہ اٹھائے، اور اسے مکمل اختیار حاصل ہو کہ وہ اپنی زندگی کو جس طرح چاہے گزارے۔

بظاہر یہ خواہش ایک مثبت اور ترقی پسند سوچ معلوم ہوتی ہے، جس کے پیچھے کئی اہم وجوہات اور اثرات پوشیدہ ہیں۔ ان کے پاس معلومات کا ایک وسیع سمند رانٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کی صورت میں موجود ہے، جس نے انہیں دنیا کے ہر کونے سے جوڑ دیا ہے۔ اب وہ صرف اپنے خاندان یا معاشرے تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر روابط ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو زیادہ باشعور، سمجھدار اور خودمختار سمجھتے ہیں۔

اپنی زندگی کے معاملات میں خود فیصلہ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی بات سنی جائے، ان کی رائے کو اہمیت دی جائے، انہیں اپنی زندگی کا راستہ چننے کا حق دیا جائے۔ یہ خواہش فطری ہے اور اس کا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ نوجوان ذہنی طور پر بالغ ہو رہے ہیں۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر فیصلہ جو وہ خود کریں، درست بھی ہوگا؟ فیصلہ کرنے کی آزادی کے ساتھ ساتھ اس کے نتائج کی ذمہ داری بھی آتی ہے، اگر کوئی نوجوان اپنی مرضی سے کوئی راستہ اختیار کرتا ہے تو بظاہر یہ خودمختاری لگتی ہے، مگر کئی بار یہی خودمختاری اسے غلط راستوں پر بھی لے جا سکتی ہے۔ نوجوانی میں جذبات کا غلبہ ہوتا ہے۔

جلد متاثر اور جلد فیصلے کرتے ہیں، بسا اوقات اُن کے نتائج کے بارے میں گہرائی سے نہیں سوچتے۔ یہی وجہ ہے کہ اس عمر میں کی گئی بعض غلطیاں بعد میں پچھتاوے کا سبب بنتی ہیں۔ اُنہیں شاید اس کا ادراک نہیں کہ، زندگی صرف لمحاتی خوشیوں کا مجموعہ نہیں۔ یہ ایک مسلسل سفر ہے، کچھ راستے ایسے ہوتے ہیں جہاں تجربہ، رہنمائی اور مشورہ بہت ضروری ہوتا ہے۔

’’میری زندگی، میری مرضی‘‘ اس میں بغاوت بھی ہے اور تعمیر بھی، فرق صرف اس بات کا ہے کہ اسے کس طرح اپنایا جاتا ہے۔ اگرصرف خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنا یا جائے تو یہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، شعور، تدبر اور ذمہ داری کے ساتھ اپنایا جائے تو کامیابی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

خودمختاری کا مطلب یہ نہیں کہ بندہ دوسروں سے کٹ جائے یا کسی کی رائے کو اہمیت نہ دے۔ ایک سمجھدار نوجوان دوسروں کے تجربے سے بھی فائدہ اٹھاتا ہے، خاص طور پر والدین اور بزرگوں کی رہنمائی زندگی کے پیچیدہ فیصلوں میں بہت مددگار ثابت ہوتی ہے۔ بہت سے نوجوان سمجھتے ہیں کہ ان کے والدین، اساتذہ یا معاشرہ ان پر مکمل اعتماد نہیں کرتے۔

وہ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ انہیں سمجھا نہیں جا رہا، ان کی صلاحیتوں کو تسلیم نہیں کیا جا رہا، اور بلا وجہ پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ نوجوان ہر پابندی کو بوجھ سمجھیں۔ کچھ اصول اور حدودحفاظت کے لیے ہوتے ہیں۔

زندگی میں ایسے مواقع بھی آتے ہیں جہاں انسان کو کچھ ایسے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ جن میں جذبات کے بجائے عقل اور حکمت کا استعمال ضروری ہوتا ہے۔ اگر ہر فرد اپنی مرضی کو ترجیح دے اور دوسروں کے احساسات کو نظر انداز کرے تو رشتے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ یہاں ایک نہایت اہم سوال پیدا ہوتا ہے، کیا زندگی بغیر احتساب کے بہتر ہو سکتی ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ احتساب زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے، اگر اسے کوئی روکنے والا نہ ہو، تو وہ آہستہ آہستہ اپنی حدود سے تجاوز کرنے لگتا ہے۔ احتساب کا مطلب صرف تنقید نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو غلطیوں کا احساس دلاتا اور اسے بہتر بننے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

اسلامی تعلیمات میں بھی احتساب کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ انسان کو نہ صرف دوسروں کے سامنے بلکہ اپنے رب کے سامنے بھی جواب دہ ہونا ہے۔ یہی احساسِ جواب دہی انسان کو برائی سے روکتا اور نیکی کی طرف مائل کرتا ہے۔ اگر نوجوان اس حقیقت کو سمجھ لے تو وہ باز پرس کو بوجھ نہیں بلکہ ایک رہنمائی کے طور پر دیکھے گا۔

ایک دائرے میں تو ہر فرد کی اپنی زندگی ہوتی ہے، اس کی پسند و نا پسند، ترجیحات، خواب اور خواہشات ہیں، لیکن اس میں بھی توازن ضروری ہو، سب کچھ دوسروں کی رضا مندی سے کرنا یا سب کچھ اپنی خواہش پر کرنا۔

آج کی نوجوان نسل کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ آزادی اور ذمہ داری کے درمیان توازن قائم کرے۔ اگر وہ آزادی کو اپنائے گا،ذمہ داری کو نظر انداز کرے گا تو زندگی میں مشکلات کا شکار ہو جائے گااور اگر وہ آزادی کے ساتھ ساتھ ذمہ داری کو بھی قبول کرے گا تو کامیاب ہوگا۔

میری زندگی، میری مرضی کا نعرہ وقتی طور پر تو اچھا لگتا ہے، مگر یہ انسان کو تنہا کر دیتا ہے۔ اصل طاقت جذبات کے بہاؤ میں بہہ جانے میں نہیں، بلکہ صبر کے ذریعے ان پر بند باندھنے میں ہے۔