• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’ڈیٹا سائنس‘‘ جس نے دنیا کے چہرے کو بدل کر رکھ دیا

جازب شاہ

دنیا تیزی سے ڈیجیٹل ہو رہی ہے اور ہر شعبہ ڈیٹا پر انحصار کرنے لگا ہے۔ ایسے میں ’’ڈیٹا سائنس‘‘ایک ایسی مہارت بن کر اُبھرا ہے جو نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے بلکہ معاشروں اور معیشتوں کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر رہاہے۔ دراصل ڈیٹا سائنس اعداد و شمار، ریاضی اور ٹیکنالوجی کا امتزاج ہے جو خام معلومات کو کارآمد نتائج میں بدلتا ہے۔ یہ آج کے دور کا وہ علم ہے جس نے دنیا کے چہرے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے دور میں اس کی قدر اور بڑھ گئی ہے۔ یہ شعبہ ریاضی، شماریات، کمپیوٹر سائنس اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج سے وجود میں آیا ہے۔ نوجوانوں کے لیے یہ سب سے منافع بخش اور تیزی سے ابھرتا ہوا شعبہ ہے۔یہ نہ صرف جدید مہارت ہے بلکہ مستقبل کی کامیابی کی کنجی بھی ہے۔

سادہ الفاظ میں’’ ڈیٹا سائنس‘‘ معلومات کو سمجھنے اور ان سے نتائج اخذ کرنے کا علم ہے جب مختلف ذرائع سے معلومات جمع کی جاتیں ، انہیں منظم کرکےان کا تجزیہ کیا جاتا ہے، جس میں اعداد و شمار اور تجزیاتی مہارتوں کی مدد سے معلومات کو سمجھا اور ان سے مفید نتائج اخذ کیے جاتے ہیں، جو اداروں کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد دیتے ہیں۔مصنوعی ذہانت کی بنیاد ڈیٹا پر قائم ہے۔ اگر معیاری ڈیٹا موجود نہ ہو تو اے آئی درست نتائج نہیں دے سکتا۔

دنیا بھر میں ڈیٹا سائنسدانوں کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایک ماہر ڈیٹا سائنس دان کو مسائل کا نیا حل تلاش کرنا پڑتا اور ایسے طریقے اختیار کرنے ہوتے ہیں جو بہتر نتائج فراہم کر سکیں۔ یہ نہ صرف ذہنی طور پر دلچسپ اور تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارتا ہے بلکہ تعلیمی و عملی زندگی میں بھی بہت مفید ہے۔ایک نوجوان جب مختلف معلومات کا جائزہ لیتا ہے تو اس کی تحقیق کرنے کی عادت زیادہ ہوجاتی ہے۔ وہ صرف سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے کے بجائے حقائق اور اعداد و شمار کی بنیاد پر رائے قائم کرنا سیکھتا ہے۔

ڈیٹا سائنس کی فیلڈ پاکستان میں قدرے نئی ہے، تاہم عالمی رجحان میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ یہاں بھی رجحان تبدیل ہورہا ہیں۔ ماضی میں کاروباری فیصلے اندازوں کی بنیاد پر کیے جاتے تھے، لیکن اب حقائق اور اعداد و شمار کی مدد سے حکمت عملی تیار کی جاتی ہے۔ دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں اپنے فیصلے ڈیٹا کی بنیاد پر کرتی ہیں۔ کاروبار، تعلیم، صحت، زراعت اور سرکاری اداروں میں بھی ڈیٹا سائنس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

اگر نوجوان بھی اس میدان میں مہارت حاصل کریں تو وہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پراپنا کیریئر بنا سکتے ہیں۔ جو نوجوان ریاضی، شماریات، کمپیوٹر سائنس اور تحقیق میں دلچسپی رکھتے ہیں، ان کے لیے ڈیٹا سائنس بہترین انتخاب ہو سکتا ہے۔

آن لائن کورسز، سرٹیفکیٹس اور عملی منصوبوں کے ذریعے اس میں مہارت حاصل کی جا سکتی ہے۔ انٹرنیٹ پر بے شمار مفت کورسز، ویڈیوز اور تربیتی مواد دستیاب ہے جو اس شعبے میں داخل ہونے کے خواہش مند افراد کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

دنیا بھر کی کمپنیاں ایسے افراد کی تلاش میں ہیں جو ڈیٹا کا تجزیہ اور کاروباری مسائل کے حل تجویز کر سکیں اسی لیے ڈیٹا اینالسٹ، ڈیٹا سائنٹسٹ اور مشین لرننگ انجینئر جیسے پیشے تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کو مؤثر بنانے کے لیے بڑی مقدار میں ڈیٹا درکار ہوتا ہے۔ جتنا بہتر اور معیاری ڈیٹا ہوگا، اتنی ہی بہتر کارکردگی ہو گی، یہی وجہ ہے کہ ڈیٹا سائنس کو جدید ٹیکنالوجی کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جاتا ہے۔

آج کاروبار، صحت، تعلیم، زراعت، بینکنگ اور کھیلوں سمیت تقریباً ہر شعبہ اس سے فائدہ اٹھا یا جارہا ہے۔ مثال کے طور پر اسپتال مریضوں کی بہتر دیکھ بھال کے لیے، تعلیمی ادارے طلبہ کی کارکردگی بہتر بنانے اور کاروباری ادارے صارفین کی ضروریات سمجھنے کے لیے ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اس لیےاسے سیکھنےوالے نہ صرف مختلف شعبوں میں اپنی خدمات انجام دے سکتے بلکہ گھر بیٹھے بھی بین الاقوامی پراجیکٹس پربھی کام کرکے کما سکتے ہیں ۔ نوجوان اگر ڈیٹا سائنس کی مہارت حاصل کر لیں تو ان کے لیے روزگار کےمزید دروازے کھل سکتے ہیں۔

آج کل تو جس کے پاس ڈیٹا کو سمجھنے والے ہاتھ ہیں، وہی دنیا پر راج کر رہا ہے، پھر کسی کی نوکری نہیں کرنی پڑتی، اپنے کمرے میں بیٹھ کر لندن، دبئی، امریکہ کی کمپنیوں کے لیے کام کر سکتے ہیں۔

لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ، بس یہی آفس ہے۔ اور اگر نوجوان اس شعبے کو زراعت کے ساتھ جوڑیں تو وہ نئی جدتیں متعارف کرا سکتے ہیں۔ نیز پروگرامنگ (Python،R)، شماریات اور ریاضی، ڈیٹا ویژولائزیشن، مشین لرننگ،تنقیدی سوچ،مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت تحقیق وتجزیہ،ٹیم ورک، بزنس انالیٹکس، کمپوٹر بیسک پروگرامنگ لینگویجز میں مہارت اورڈیٹا ویزولائزیشن، گراف کی صورت میں سیکھنا بھی ضروری ہے۔

مصنوعی ذہانت، اسمارٹ سٹیز، خودکار نظام اور ڈیجیٹل معیشت جیسے تصورات ڈیٹا پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ اس شعبے میں جدید سوچ، نئے اور بہتر کاروباری آئیڈیاز کامیابی کی ضمانت ہیں۔ ڈیٹا سائنس صرف ایک ملازمت نہیں بلکہ مستقبل کی دنیا میں کامیابی کا دروازہ ہے۔