• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
فائل فوٹو
فائل فوٹو

مومنہ حنیف

جب کوئی نوجوان اپنی رائے کا اظہار کرتا، کوئی نیا خیال یا کسی اہم مسئلے پر گفتگو کرتا ہے تو بعض سننے والےفوراً یہ کہہ دیتے ہیں کہ ’’تم کس کھیت کی مولی ہو؟‘ بظاہر یہ ایک عام سا محاورہ ہے، لیکن درحقیقت اس کے پیچھے صلاحیتوں کو کم تر سمجھنے کا رویہ پوشیدہ ہوتا ہے۔ نظرانداز کیے جانے کی ایک داستان چھپی ہوتی ہے۔

آج کا نوجوان جب اپنے اردگرد کا ماحول دیکھتا ہے، اپنی تعلیم، محنت کے باوجود خود کو بے اختیار محسوس کرتا ہے تو وہ دل ہی دل میں یہی سوال کرتا ہے کہ آخر میری حیثیت کیا ہے؟ کیا میں صرف جلسوں کی رونق بڑھانے کے لیے ، نعرے لگانے، ڈگری لینے اور پھر بے روزگاری کا سامنا کرنے کے لیے پیدا ہوا ہوں یا پھر واقعی اس ملک کا مستقبل ہم نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے؟

نوجوانوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب عام انتخابات ہوتے ہیں تو نوجوان ملک کا مستقبل بن جاتے ہیں، جلسے جلوس ہوں تو نوجوان قوم کی طاقت بن جاتے ہیں، ریلیاں نکلیں تو وہ انقلاب کا نشان بن جاتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی انتخابات ہو جاتے ہیں تو نوجوان عام ہجوم کا حصہ بن جاتے ہیں۔

ان کی مشکلات، ضروریات، خواب اور ان کی آواز یں کہیں گم ہو جاتی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نوجوان حساب کھاتے کا رجسٹر ہیں، جسے ضرورت کے وقت کھولا جاتا ہے اور کام ختم ہونے پر بند کر دیا جاتا ہے۔

آج کا نوجوان عجیب دور سے گزر رہا ہے۔ راتوں کو جاگ جاگ کر پڑھتا ہے، امتحان دیتا ہے، ڈگری لیتا ہے۔ لیکن جب عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ صرف ڈگری کافی نہیں۔نوکری کے لیے تجربہ ہی نہیں سفارش بھی درکار ہے۔

یہ ایسا چکر ہے جس میں ہزاروں نوجوان دھنسے ہوئے ہیں، ایسے میں ان کے ذہن میں سوال جنم لیتا ہے کہ اگر تعلیم ہی ان کے کام نہیں آرہی تو پھر ان کی وقعت کیا ہے؟ یوں ان کے خواب، وسائل کی کمی، نظام کی خرابی یا مواقع کی قلت کی وجہ سے دم توڑ دیتے ہیں۔

بہت سے نوجوان اپنی خواہشات کو دفن کرکے صرف زندہ رہنے کی جدوجہد میں مصروف ہو جاتے ہیں، یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب قوم اپنی سب سے بڑی طاقت کھونے لگتی ہے۔ کیونکہ جب خواب مر جاتے ہیں تو ترقی بھی رک جاتی ہے۔

آج کے بیش تر نوجوانوں کے پاس معلومات ہیں۔ وہ باخبر ہیں ہر موضوع پر تبصرہ کرتے ہیں، مگر ان کی اکثریت صرف ورچوئل دنیا تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ وہ فیس بک پر انقلاب لاتے، انسٹاگرام پر کامیابی کے خواب دیکھتےاور ٹک ٹاک پر شہرت حاصل کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں، مگر حقیقی زندگی میں ان کی صلاحیتیں استعمال ہی نہیں ہوتیں۔ سوشل میڈیا کا ہیرو، حقیقی زندگی کا زیرو بن کر رہ گیا ہے۔

ہمارے معاشرے میں ایک عجیب رویہ پایا جاتا ہے۔ جب کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو سب سے پہلے نوجوانوں کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے، مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ ان نوجوانوں کو کیا ملا؟ کیا انہیں معیاری تعلیم روزگار رہنمائی اور کیا مثبت ماحول ملا؟

اگر ایک پودے کو پانی نہ دیا جائے تو اس کی نشوونما رُک جاتی ہے، وہ مرجھا جاتا ہے، بالکل اسی طرح نوجوان بھی اپنے ماحول، تربیت، اور حالات کی پیداوار ہوتے ہیں۔ انہیں مناسب رہنمائی یعنی صحیح اور غلط میں تمیز سکھانے کے لیے بزرگوں، اساتذہ کی مدد، صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے سازگار ماحول ،توجہ اور حوصلہ افزائی آگے بڑھاتی ہےان کی کوششوں کی قدر کرنے سے اعتماد بڑھتا ہے۔

اگر وہ راستہ بھٹک جائیں، تو اس کا الزام صرف انہی پر نہیں لگایا جا سکتا، یہ معاشرہ، نظام، اور والدین بھی ذمہ دار ہوتے ہیں۔ لیکن اگر انہیں صرف ہجوم سمجھا جائے گا تو وہ ہجوم ہی رہیں گے، بوجھ سمجھا جائے گا تو وہ بوجھ بن جائیں گے لیکن اگر انہیں سرمایہ سمجھا جائے گا تو وہ سرمایہ ثابت ہوں گے۔نوجوان قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ، روشن مستقبل کی ضمانت اور ترقی کی سب سے بڑی اُمید ہوتے ہیں۔ وہ آج محنت کر کے آنے والے کل کی تاریخ رقم کرسکتے ہیں۔