تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے ترقی کی منزل طے کی تو اس کے پیچھے نوجوانوں کا کردار نمایاں رہا۔ انقلاب برپا کرنا ہو، نئی ایجادات، علم و تحقیق کے میدان میں کامیابیاں یا معاشرتی اصلاح کا فریضہ سرانجام دینا ہو، ہر دور میں نوجوان ہی تبدیلی کے علمبردار بنے۔
لیکن آج اگر نوجوانوں کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ان کی مختلف کیٹاگری نظر آتی ہیں۔ پہلی کیٹا گری میں وہ نوجوان آتے ہیں جو اپنی تعلیم، ملازمت، کاروبار یا ہنر کے حصول میں مصروف رہتے، اپنے مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کرتے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارتے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔
دوسری طرف ایسے نوجوان ہیں جو زندگی میں کچھ کرنا تو چاہتے ہیں لیکن حالات، وسائل کی کمی یا رہنمائی کے فقدان کی وجہ سے مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔ وہ جدوجہد تو کرتے ہیں لیکن راستے میں آنے والی رکاوٹیں انہیں مایوسی کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔
تیسری قسم کے نوجوان نہ صرف مقصد سے دور ہو چکے ہیں بلکہ وقت کی اہمیت سے بھی ناواقف ہیں۔ ان کی راتیں موبائل فون، ویڈیو گیمز، اور فضول مصروفیات میں گزرتی ہیں۔ صبح جب اُٹھنے کا وقت ہوتا ہے، تو وہ سو رہے ہوتے ہیں۔ جب آنکھ کھلتی ہے تو دن کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو چکا ہوتا ہے، پھرجاگتے ہی موبائل فون ہاتھ میں لے لیتے ہیں، دن بھر مختلف ویڈیوز دیکھتے، دوستوں کے ساتھ وقت گزارتے اور رات کو دوبارہ موبائل کی دنیا میں گم ہو کر زندگی کا ایک اور دن ضائع کر دیتے ہیں۔ یہ طرز زندگی نہ صرف جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ ذہنی، اخلاقی اور معاشی اعتبار سے بھی غلط ہے۔
جب کسی نوجوان کے پاس کوئی مقصد نہ ہو تو اس کی زندگی ایک ایسی کشتی کی مانند ہوتی ہے جو سمندر میں بغیر پتوار کے بھٹک رہی ہو۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بہت سے نوجوان اپنی صلاحیتوں سے ناواقف ہیں، انہیں یہ معلوم ہی نہیں کہ وہ زندگی میں کیا بننا چاہتے ہیں سوال یہ ہے کہ نوجوان بے مقصد زندگی کیوں گزار رہے ہیں؟ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلی وجہ بے روزگاری اور معاشی مشکلات ہیں۔
دوسری وجہ تعلیمی نظام کی کمزوریاں ہیں، جو اکثر نوجوانوں کو عملی زندگی کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنے میں ناکام ہے۔ تیسری وجہ سفارش، اقربا پروری اور میرٹ کا فقدان بھی نوجوانوں میں احساس محرومی پیدا کررہا ہے۔ جب ایک محنتی اور قابل نوجوان یہ دیکھتا ہے کہ ترقی کا معیار قابلیت کے بجائے تعلقات بن گئے ہیں تو اس کا اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے۔
ایک وجہ تربیت کا فقدان بھی ہے۔ ایمان، صبر، شکر اور امید وہ صفات ہیں جو انسان کو مشکلات میں بھی مضبوط رکھتی ہیں لیکن جب نوجوان ان اقدار سے دور ہوں تو معمولی ناکامیاں بھی شدید مایوسی کی طرف لے جاتی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان اپنی زندگی کا واضح مقصد متعین کریں۔ انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ وہ پانچ یا دس سال بعد خود کو کہاں دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہیں نئی مہارتیں سیکھنے کی عادت اپنانی چاہیے۔ دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور کامیابی انہی لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو مسلسل سیکھتے رہتے ہیں۔
والدین کی بھی اہم ذمہ داری ہے کہ وہ صرف نوجوانوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ان کی شخصیت سازی پر توجہ دیں۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے نوجوان بچپن ہی سے ایک ایسے خوف کے ساتھ پروان چڑھتے ہیں جس کا نام ہے،’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘۔ یہ ایک ایسا جملہ ہے جو بظاہر معمولی محسوس ہوتا ہے لیکن درحقیقت اولاد کی شخصیت، خود اعتمادی اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔
جب ایک نوجوان ہروقت پر یہ سنتا ہے کہ ایسا مت کرو، ویسا مت کرو، لوگ کیا سوچیں گے، تو آہستہ آہستہ وہ اپنی خواہشات اور صلاحیتوں کے بجائے دوسروں کی توقعات کے مطابق جینے لگتا ہے۔ نتیجتاً وہ اپنے اندر موجود بے شمار صلاحیتوں کو استعمال ہی نہیں کر پاتا۔
حقیقت یہ ہے کہ جو نوجوان دوسروں کی تنقید اور رائے کے خوف سے آزاد ہو کر اپنے مقصد پر توجہ دیتے ہیں، وہی زندگی میں آگے بڑھتے ہیں۔ کامیابی ہمیشہ ان لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو اپنے مقصد کو لوگوں کی رائے پر ترجیح دیتے ہیں، وہ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرتے ہیں، غلطیوں سے سیکھتے اور آگے بڑھتے ہیں۔
آج بیش تر نوجوان اپنی زندگی کے فیصلے اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر کرنے کے بجائے معاشرے کے ردعمل کو سامنے رکھ کر کرتے ہیں، جو صحیح نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، اپنے وقت کی قدر کریں اور اپنی زندگی کو ایک واضح مقصد دیں۔ کامیابی بغیر محنت، نظم و ضبط اور مستقل مزاجی کے حاصل نہیں ہوتی۔
جو نوجوان آج اپنا وقت و ضائع کر رہے ہیں، وہ دراصل اپنا مستقبل ضائع کر رہے ہیں، جو نوجوان محنت، لگن اور وژن کے تحت کام کر رہے ہیں وہ کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر مقصد واضح، ارادے مضبوط اور مسلسل کوشش کی جائے تو حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، منزل تک پہنچا جا سکتا ہے۔
آج کا نوجوان بیک وقت امید بھی اور چیلنج بھی ہے۔ اگر وہ موبائل کی غلامی، سستی، مایوسی اور بے مقصدیت سے نکل کر علم، کردار، محنت اور مثبت سوچ کو اپنا لے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتا ہے بلکہ پورے معاشرے کی تقدیر بھی سنوار سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان اپنے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پہچانے، اپنے خوابوں کو زندہ رکھیں اور اپنی نوجوانی کو ایک عظیم مقصد کے لیے وقف کریں۔