• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج کا نوجوان ایک ایسے دور میں جی رہا ہے جہاں ہر طرف تبدیلی، مقابلہ اور کشش کا طوفان برپا ہے۔ اس تیز رفتار دنیا میں اس کی سوچ، اس کے خواب اور اس کی ترجیحات مسلسل بدل رہی ہیں۔’’رول ماڈل ‘‘ کا تصور بھی ایک نئی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اب اُس کا سامنا ایک ایسی دنیا سے ہے، جہاں رول ماڈلز صرف کتابوں یا تاریخ تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کے موبائل اسکرین پر ہر لمحہ موجود ہیں، جن کی زندگی بظاہر خوبصورت، پرتعیش اور بے فکری سے بھرپور دکھائی دیتی ہے۔

اگر اس کے سامنے مثبت اور باکردار رول ماڈلز ہوں تو وہ ایک تعمیری شخصیت بن جاتا ہے، لیکن اگر ظاہری خوبصورتی، دولت یا شہرت کو معیار بنا لے تو اس کی سوچ سطحی ہو جاتی ہے۔ ہمیں اپنے اردگرد دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے نوجوان کس کو فالو کر رہے ہیں، کن باتوں کو اہمیت دے رہے اور کس کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ ہر دور میں انسان کو رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے، ایسی رہنمائی جو عمل، کردار اور طرزِ زندگی کی صورت میں اس کے سامنے ہو۔ انسان محض اصولوں سے نہیں سنورتا، بلکہ وہ شخصیات کے سائے میں پروان چڑھتا ہے، انہی کے نقشِ قدم پر چلتا اور انہی کے انداز کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ پہلے زمانے میں یہ مسئلہ نہیں تھا۔اُس وقت بچے کا پہلا ہیرو اس کا باپ ہوتا تھا۔ ماں کی دعا اور استاد کی مار سے بچے کی شخصیت پروان چڑھتی تھی انسان بنتا تھا۔

آج باپ دن رات پیسے کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے، شام کو تھکا ہارا آتا ہے، کھانا کھا کرسو جاتا ہے۔ بچے سے بات کرنے کا وقت نہیں، استاد صرف نصابی تعلیم دیتے ہیں۔ خالی جگہ ٹک ٹاک اسٹار، کرکٹ کھلاڑی اور فلمی ایکٹر نے لے لی ہے۔یعنی نوجوان کے پاس فالو کرنے کو لاکھوں لوگ ہیں عملی رول ماڈل کوئی نہیں۔

لیکن رول ماڈل کوئی بڑی مشہور شخصیت ہی نہیں ہوتی، ایک محنتی استاد، بڑا بھائی وغیرہ بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو عملی زندگی میں سکھاتے ہیں کہ مشکلات کا مقابلہ کیسے کرنا ہے۔یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ صرف ایک ہی رول ماڈل بنائیں۔ مختلف لوگوں سے مختلف خوبیاں سیکھ سکتے ہیں۔

اگر ہم اس سفر کو ابتداء سے دیکھیں تو انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی رہنمائی کا یہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر، ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے ایسے برگزیدہ ہستیاں مبعوث فرمائیں جو نہ صرف حق کا پیغام لے کر آئیں بلکہ اپنی عملی زندگی کے ذریعے انسانیت کے لیے مکمل نمونہ بھی بنیں۔

یہ ہستیاں باکردار، با اصول اور عملی زندگی کا روشن استعارہ تھیں، جن سے یہ سیکھا کہ زندگی کیسے گزاری جاتی ہے، مشکلات کا سامنا کیسے کیا جاتا ہے، اور حق و باطل کے درمیان فرق کیسے قائم رکھا جاتا ہے۔

اس سلسلے کی تکمیل نبی آخر الزماں حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ پر ہوئی، جن کی پوری زندگی انسانیت کے لیے ایک مکمل اور جامع نمونہ بن کر سامنے آئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ترجیحات بدلنے لگیں، جس نے خصوصاً نوجوان نسل کو فکری انتشار میں مبتلا کر دیا ہے، اسی پس منظر میں جب ہم اس سوال کی گہرائی میں اترتے ہیں کہ آخر ’’رول ماڈل‘‘ کی اہمیت کیا ہے، تو یہ حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے کہ نوجوان کی شخصیت مشاہدے اور تقلید کے عمل سے تشکیل پاتی ہے۔

انسان فطری طور پر دیکھ کر سیکھنے والا ہے، اور لڑکپن کے بعد جوانی کا دور تو ویسے بھی اثر پذیری کا سب سے حساس مرحلہ ہوتا ہے۔ اس عمر میں جس شخصیت کو آئیڈیل بنا لیا جائے، اس کے خیالات آہستہ آہستہ نظریات میں ڈھل جاتے ہیں، اس کی عادات روزمرہ زندگی کا حصہ بننے لگتی ہیں، اور ترجیحات غالب آ جاتی ہیں۔

ایک مضبوط اور مثبت رول ماڈل نوجوان کو صرف راستہ ہی نہیں دکھاتا بلکہ اسے راستے پر چلنے کا حوصلہ بھی دیتا ہے،مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس تصور میں ایک خاموش مگر گہری تبدیلی رونما ہوئی۔ جو ہماری اجتماعی ترجیحات کا نتیجہ ہے۔ ہم نے اصل اور نقل میں فرق کرنا چھوڑ دیا، کردار کی گہرائی کے بجائے ظاہری چمک دمک کو اہمیت دینا شروع کر دی اور نئی نسل کو یہ باور کرانے میں کوتاہی کی کہ اصل کامیابی کیا ہوتی ہے۔

نتیجتاً ایک ایسا رجحان پروان چڑھا جس میں محنت کے بجائے شارٹ کٹ، اصولوں کے بجائے مفاد، اور سادگی کے بجائے نمائش کو فوقیت حاصل ہو گئی، پھر معاشرے میں اخلاقی اقدار کی کمزوری نے ایسے رویوں کو مزید تقویت دی اور نوجوان آہستہ آہستہ ایک ایسے دھارے میں بہنے لگے جہاں انہیں سمت کم اور شور زیادہ نظر آتا ہے۔

ایک حقیقی اور کامل رول ماڈل وہی ہو سکتا ہے جس کی زندگی متوازن ہو، جو نہ صرف کامیاب ہو بلکہ باکردار بھی ہو، جو نہ صرف آگے بڑھے بلکہ دوسروں کو بھی ساتھ لے کر چلے۔

سوشل میڈیا نے جہاں معلومات تک رسائی کو آسان بنایا، وہیں اس نے ایک ایسی دوڑ کو بھی جنم دیا ہے جس میں ہر شخص خود کو ’’آئیڈیل ‘‘کے طور پر پیش کرنے میں مصروف ہے۔ بظاہر کامیابی کے چمکتے ہوئے مناظر، فلٹرز سے مزین زندگی، اور دکھاوے پر مبنی طرزِ حیات نے حقیقت اور فریب کے درمیان حد فاصل کو دھندلا دیا ہے۔ نوجوان جب اس دنیا کو دیکھتا ہے تو وہ اس ظاہری چمک کو ہی اصل سمجھ بیٹھتا ہے، اور یوں وہ ایک ایسے تعاقب میں نکل پڑتا ہے جس کی بنیاد مضبوط نہیں ہوتی۔

حقیقی ہیروز، جو علم، کردار اور خدمت کے میدان میں نمایاں ہوتے ہیں، اکثر پس منظر میں چلے جاتے ہیں، جبکہ مصنوعی شہرت رکھنے والی شخصیات کو نمایاں کر کے ایک ایسا تصور پیش کیا جاتا ہے جس میں کامیابی کا معیار صرف دولت، شہرت اور وقتی مقبولیت رہ جاتا ہے، یہی وہ عوامل ہیں جنہوں نے مادہ پرستی کو فروغ دیا، اور نوجوانوں کی ترجیحات کو بتدریج تبدیل کر دیا، حقیقت کی جگہ دکھاوے نے لے لی۔ اس کے اثرات نوجوانوں کی شخصیت پر نہایت گہرے اور دور رس ثابت ہو رہے ہیں۔ ذہنی انتشار بڑھ رہا ہے، کیونکہ سمت واضح نہیں، احساسِ کمتری جنم لے رہا ہے۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان اندھی تقلید سے نکل کر شعوری انتخاب کی طرف آئیں۔ وہ ہر چمکتی ہوئی چیز کو سونا نہ سمجھیں بلکہ کردار، علم اور خدمت کو اپنا معیار بنائیں۔ والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ، ان کے سامنے ایسی شخصیات پیش کریں جو محض کامیاب نہیں بلکہ باکردار بھی ہوں۔