انزلہ صدیقی
انسانی معاشرے کی بنیاد جس بنیادی اینٹ پر رکھی گئی ہے، اسے برداشت کہتے ہیں۔ کائنات کا پورا نظام ایک خاص توازن اور باہمی ہم آہنگی سے چل رہا ہے۔ درخت زمین سے جڑے ہیں، دریا اپنے راستوں پر رواں ہیں اور رات دن کو راستہ دے رہی ہے۔ اس پورے نظام میں ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے کا ایک خاموش معاہدہ موجود ہے۔
لیکن جب انسانی معاشرت بالخصوص اپنے سیاسی منظر نامے پر نگاہ ڈالتے ہیں، تو روح کانپ اٹھتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے اختلافِ رائے کو ایک گناہِ کبیرہ بنا دیا ہے۔ سیاست، جو کبھی نظریات کی جنگ اور عوامی خدمت کا ذریعہ ہوا کرتی تھی، اب محض ذاتی دشمنی اور انا کا اکھاڑا بن چکی ہے۔ سیاست میں برداشت کا یہ فقدان ہمارے پورے معاشرتی ڈھانچے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔
اگر ہم ماضی کے دریچوں میں جھانکیں، تو سیاست کا ایک انتہائی خوبصورت اور باوقار چہرہ نظر آتا ہے۔ جب سیاسی رہنما پارلیمنٹ کے اندر ایک دوسرے پر سخت ترین تنقید کرتے تھے، لیکن جیسے ہی ایوان سے باہر نکلتے، تو ایک دوسرے کے ساتھ چائے پیتے ہوئے گفتگو کرتے تھے۔ وہ نظریات کے مخالف تھے، ایک دوسرے کے وجود کے دشمن نہیں تھے۔
ان کا لہجہ تلخ ضرور ہوتا تھا، لیکن اس تلخی میں بھی ایک رکھ رکھاؤ، ایک تہذیب اور ایک ادبی چاشنی ہوا کرتی تھی۔ لفظوں کا چناؤ اس طرح کرتے تھے کہ بات بھی پوری ہو جائے اور سامنے والے کی عزتِ نفس پر حرف بھی نہ آئے۔ مگر آج کا سیاسی منظر نامہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ اب گفتگو میں دلیل کی جگہ چیخ و پکار نے لے لی ہے۔
سیاسی عدم برداشت نے ہماری نوجوان نسل کی سوچ، رویوں اور نفسیات کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ پورا معاشرتی تانا بانا بکھرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ سیاست کو ایک تعمیری عمل کے بجائے تخریبی کھیل سمجھنے لگے ہیں۔ جب وہ اپنے ملک کے سیاسی افق پر دن رات گالی گلوچ، الزام تراشی، تضحیک اور دشمنی کا ماحول دیکھتے ہیں تو ان کے رویوں میں بھی تلخی سرایت کرنے لگی ہے۔
شاید انہوں نے یہ اخذ کر لیا ہے کہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے بدتمیزی، جارحیت اور دوسروں کو نیچا دکھانا ضروری ہے۔ اختلافِ رائے کو ایک عام بات یا دوسرا نقطہ نظر سمجھنے کے بجائے دشمنی اور غداری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اس رویے نے نوجوانوں کے اندر سے دوسروں کو سننے اور سمجھنے کا مادہ تقریباََ ختم کر دیا ہے، جس سے معاشرے میں فکری بانجھ پن پیدا ہو رہا ہے۔ یہ ایک ایسی فکری پستی ہے جس کے نتائج ہمیں آنے والی کئی دہائیوں تک بھگتنا پڑیں گے۔ اگر ہم نے اب بھی اپنے رویوں پر نظرِ ثانی نہ کی، تو ہم ایک ایسا معاشرہ بن جائیں گے جہاں امن و آشتی کا تصور صرف کتابوں تک محدود رہ جائے گا۔
اس پورے منظر نامے میں سوشل میڈیا نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ جہاں ٹیکنالوجی کو انسانوں کو قریب لانا چاہیے تھا، وہاں اس نے فاصلوں اور تلخیوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ آج ہر نوجوا ن اپنے ہاتھ میں ایک ورچوئل ہتھیار لیے بیٹھا ہے اور جیسے ہی کسی کی رائے اس کی پسند کے معیار پر پوری نہیں اترتی، وہ اس پر لفظی بارود کی بوچھاڑ کر دیتا ہے۔
فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز، جنہیں دنیا بھر میں علم کے پھیلاؤ اور مثبت رابطوں کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے تھا، ہمارے ہاں سیاسی گالی گلوچ کے اکھاڑے بن چکے ہیں۔ نوجوان نسل دن کا ایک بڑا حصہ ان پلیٹ فارمز پر گزارتی ہے، جہاں مسلسل نفرت انگیز بیانیے، جھوٹے پروپیگنڈے اور ادھورے حقائق پر مبنی مواد دیکھتی، ان پر رائے دیتی، وقت برباد کر رہی ہوتی ہے۔
نوجوان اپنے پسندیدہ سیاسی رہنما کو انسان نہیں بلکہ کوئی مافوق الفطرت مخلوق سمجھتا ہے، وہ ان کی ہر پالیسی، ہر بیان اور ہر عمل کو درست ثابت کرنے کے لیے دن رات تاویلیں گھڑتے ہیں۔ یہ اندھی تقلید ان کی سوچنے سمجھنے اور تنقیدی جائزہ لینے کی صلاحیت کو مفلوج کررہی ہے۔ سیاسی عدم برداشت کا ایک اور پہلو خاندانی اور سماجی رشتوں کی تباہی ہے۔
آج کا دور وہ ہے جہاں ایک ہی گھر میں رہنے والے باپ ، بیٹےیا دو سگے بھائی سیاسی اختلاف رکھتےہیں۔ دسترخوانوں پر جہاں کبھی محبت کی باتیں ہوتی تھیں، اب وہاں سیاسی بحثیں ہوجاتی ہیں جو لڑائی جھگڑے پر ختم ہوتی ہیں۔ نوجوان اپنے ان دوستوں سے سالہا سال پرانے تعلقات منقطع کر رہے ہیں جن کا سیاسی نظریہ ان سے مختلف ہے۔
ہمارا ملک جمہوریت کے نام پر بنا ہے، جس کا حسن ہی اس بات میں ہے کہ یہاں ہر رنگ، نسل اور نظریے کے انسان کو اپنی آواز اٹھانے کا حق حاصل ہولیکن جب سیاست سے اس حسن کو چھین لیا جائے تو جمہوریت، جمہوریت نہیں رہتی۔ یہ چلن عام ہو چکا ہے کہ جو میرے ساتھ نہیں، وہ ملک کا خیر خواہ نہیں۔ یہ سوچ انتہائی خطرناک ہے، کیونکہ یہ محبتوں کی جگہ نفرتوں کی دیواریں کھڑی کر دیتی ہے۔
نرم اور دھیمے لہجے کی طاقت ہمیشہ چنگھاڑنے والی آواز سے زیادہ ہوتی ہے۔ جب دلیل کے ساتھ بات کی جائے، تو سننے والے کے دل میں اترتی ہے لیکن جب چیخ کر اپنی بات منوانے کی کوشش کی جائے، تو سامنے والا بات سننے کے بجائے اپنے دفاع کی دیواریں اونچی کر لیتا ہے۔
ہماری سیاسی قیادت کو یہ سمجھنے کی سخت ضرورت ہے کہ ان کا ہر بول، ہر عمل اور ہر اشارہ نسلِ نوکے رویوں کی تشکیل کرتا ہے۔ اگر قیادت خود ٹی وی اسکرینوں پر بیٹھ کر غصے، نفرت اور عدم برداشت کا مظاہرہ کرے گی، تو نوجوانوں سے تہذیب کی اُمید کیسے رکھی جا سکتی ہے؟
اس اندھیرے سے نکلنے کا کوئی نہ کوئی راستہ تو تلاش کرنا ہی ہوگا۔ اس کے لیے سب سےپہلے نوجوانوں میں تنقیدی سوچ کو فروغ دیا جائے۔ انہیں یہ سکھایا جائے کہ وہ کسی بھی بات، بیانیے یا خبر پر آنکھیں بند کر کے یقین نہ کریں۔
مکالمہ وہ راستہ ہے جہاں دو مختلف سوچ کے حامل افراد ایک دوسرے کے سامنے بیٹھتے ہیں، اپنی بات کہتے ہیں اور دوسرے کی بات ٹھنڈے دل سے سنتے ہیں۔ مکالمے کا مقصد کسی کو ہرانا یا خود کو سچا ثابت کرنا نہیں ہوتا، بلکہ ایک درمیانی راستہ تلاش کرنا ہوتا ہے، جہاں سب کا بھلا ہو۔
آئیے، ایک لمحے کے لیے رکیں اور سوچیں کہ ہم اپنے ملک کو کس سمت لے کر جا رہے ہیں۔ سیاست اقتدار کے حصول کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک امانت ہے جس کا مقصد عوام کی فلاح و بہبود ہے۔ جب تک ہماری سیاست میں رواداری، درگزر اور ایک دوسرے کے احترام کا جذبہ بیدار نہیں ہوگا، ہم ایک مہذب قوم نہیں بن سکتے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی دھارے اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک میز پر بیٹھیں اور یہ عہد کریں کہ وہ اپنے لہجوں میں نرمی، دلوں میں وسعت اور سیاست میں برداشت کو دوبارہ جگہ دیں گے۔
نوجوان یہ بات یاد رکھیں کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، اقتدار کے سورج طلوع اور غروب ہوتے رہتے ہیں، لیکن جو چیز باقی رہ جاتی ہے وہ انسان کا کردار اور اس کا رویہ ہوتا ہے۔
اگر سیاست کی اس جنگ میں اپنی اخلاقیات اور تہذیب کو کھو دیا، تو پھر حاصل ہونے والی کوئی بھی فتح سب سے بڑی شکست ہوگی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نفرتوں کے بازار کو بند کریں۔ محبت، اخوت اور برداشت کے چراغ روشن کریں، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک پرامن اور مہذب ماحول میں سانس لے سکیں۔