• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

توصیف اکرم نیازی

کیا کبھی ایسا ہوا کہ آپ رات کے دو،تین بجے بستر پر لیٹے ہوئے، موبائل کی اسکرین پر انگلیاں پھیر رہے ہوں، اچانک ایک دوست کی نئی چمکتی کار آنکھوں کے سامنے آجائے، ایک اور دوست کی تصویر آجائے، جو یورپ کے خوبصورت مقامات پر گھوم رہا ہے، ایک اور دوست اپنے کاروبار کی کامیابی کی داستانیں سنا رہا ہو۔

غرض ہر طرف ہنستے چہرے، دماغ میں گھر کر رہے ہوں، ایسے میں آپ سوچیں کہ دنیا کے سب لوگ کتنے خوش ہیں ، ان سب کے پاس کتنا کچھ ہے، بس ایک میں ہی ہوں جو اپنی جگہ نہیں بناسکا۔ یہ احساس آپ کو کھا جاتا ہے، رات کی نیند اڑا دیتا ہے، اگر اس طرح کے خیالات آپ کو اکثر گھیرتے ہیں، تو یہ آپ کی زندگی کی ناکامی نہیں ہے بلکہ ایک جال ہے جسے "Digital Hijacking " کہا جا تا ہے۔

یہ سوشل میڈیا کا وہ پہلو ہے جو آپ کے دماغ کو کنٹرول میں کرلیتا ہے اور آپ مسلسل اداس یا ڈیپریس ہوجاتے ہیں۔ آج کی ڈیجیٹل اداس نسلیں کسی ظاہری قید میں نہیں، بلکہ اپنی ہی خواہشات اور اسکرینوں کے جال میں اُلجھی ہوئی ہیں۔ ہر وقت دوسروں کی آوازیں سن رہے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی اپنی آوازیں کہیں گم ہوجاتی ہیں، یہی وہ مقام ہے جہاں سے اداسی جنم لیتی ہے

دراصل دماغ ایک حیرت انگیز مشین ہے، جو مختلف کیمیکلز پر چلتا ہے۔ ان میں سے ایک اہم کیمائی مادہ جسے ڈوپا مین ( Dopamine )کہتے ہیں، یعنی نیوروٹرانسمیٹرجو خوشی، انعام اور حوصلہ افزائی کا احساس دلاتا ہے۔ آج کل فیس بک، انسٹاگرام یا ٹک ٹاک کو ایسے ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ وہ’ڈوپامین سسٹم‘ کو اپنے قبضے میں لے لیتا ہے۔

جب آپ ایک پوسٹ شیئر کرتے ہیں اور لائکس آتے ہیں، ویوز بڑھتے ہیں، مثبت کمنٹس ملتے ہیں تو دماغ فوراً ڈوپامین کی ایک لہر چھوڑتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے کوئی نشہ آور چیزآپ میں سرایت کر جاتی ہے جو آپ کو جکڑے رکھتی ہے۔

تحقیق سے ثابت ہے کہ یہ استعمال دماغ کے’ ریورڈ سسٹم ‘کے طریقہ کار کو تبدیل کر دیتا ہے اور آپ بار باراسی جانب مبذول ہوتے ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ یوٹیوب چلا رہے ہیں، حقیقت یہ ہے وہ آپ کو چلا رہا ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر، اگر آپ روزانہ گھنٹوں اسکرول کرتے ہیں، تو دماغ اس ڈوپامین کی اعلی سطح کا عادی ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ، جب آپ ایپ بند کرتے ہیں، تو ایک خلا سامحسوس ہونے لگتاہے، اضطراب اور بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے، زندگی کی خوشیاں کم لگنے لگتی ہیں۔

ڈوپا مین کو کئی ماہرین خوشی کا ہارمون کہتے ہیں جو سیرا ٹونن کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ اس کا صحیح استعمال آپ کو کامیاب بنا سکتا ہے لیکن آپ اسے ایسی خوشی کے حصول کے لیے استعما ل کرتے ہیں جو غیر حقیقی ہے۔

جب ہماری خوشی کا سوئچ دوسروں کے انگوٹھے (Like) کے نیچے ہو، تو کبھی بھی خوش نہیں ہو سکتے، خود کو مسلسل ناکام اور اداس محسوس کرتے رہیں گے، کیونکہ دماغ اب صرف بیرونی توثیق پر منحصر ہو جاتا ہے۔

نوجوانوں اور بچوں میں یہ اثر اور بھی شدید ہے، کیونکہ نیورو سائنس کے مطابق، بچوں خاص طور پر نوجوانوں کا دماغ نشوونما کے مراحل میں ہوتا ہے، اسی لیے وہ جلد سوشل میڈیا کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ، سوشل میڈیا ہمیں کیوں اداس اور مایوس کرتا ہے، یہ دو بڑے نفسیاتی عوامل ہیں، موازنہ اور پیچھے رہ جانے کا خوف۔ موازنہ تو فطری ہے لیکن اب سوشل میڈیا نے اسے ایک خطرناک ہتھیار بنا دیا ہے۔ یہ ڈیجیٹل بوجھ ہماری ذہنی صحت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔

جب آپ دوسروں کی کامیابیوں، تعطیلات، تعلقات اور بظاہر کامل زندگیوں سے بھرے فیڈز کو اسکرول کرتے ہیں، تو یہ فطری بات ہے کہ آپ اپنی زندگی کا ان معیاروں کے مطابق جائزہ لیتے ہیں۔ ایک پروفائل سے دوسری پروفائل پرسر کھپاتے رہتے ہیں۔

ماہرینِ نفسیات اسے ’’مثبت سماجی موازنہ ‘‘کہتے ہیں یعنی خود کو ان لوگوں کے مقابلے میں ناپنا، جنہیں آپ کسی نہ کسی اعتبار سے برتر سمجھتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر لوگ صرف اپنی زندگی کے بہترین لمحات شیئر کرتے ہیں جیسے ہائی لائٹ ریل کامیابیاں۔ وہ ناکامیاں، جدوجہد، اداسی کے دن چھپا لیتے ہیں۔ لیکن ہمارا دماغ سمجھتا ہے کہ ’’سب کی زندگی پرفیکٹ ہے‘‘ آپ اپنی پوری زندگی کو ان کی صرف چمکتی ہوئی جھلک سے موازنہ کرتے اور خود کو کمتر محسوس کرتے ہیں۔

یہ موازنہ اکثر نااہلی، حسد یا ناکامی کے جذبات کو جنم دیتا ہے۔ خود کو کمتر محسوس کرتے ہیں یہ ایسا خوف جو دماغ کے اُس حصے کو متحرک کرتا ہے جو اضطراب کو کنٹرول کرتا ہے۔ وقت کے ساتھ، یہ سلسلہ خود اعتمادی کو ختم کر دیتا ہے اور ڈپریشن کی علامات میں اضافہ کرتا ہے۔ رات کے آخری پہر جب موبائل کی چارجنگ ختم ہوتی ہے، تو احساس ہوتا ہے کہ ہم کتنے اکیلے ہیں۔

ٹک ٹاک، ریلز، شارٹس۔ آپ نے کبھی نوٹ کیا؟ ان کا کوئی اختتام نہیں۔ ’’بس 5 منٹ‘‘ کے لیے بیٹھتے ہیں، گھنٹے نکل جاتے ہیں۔ دماغ تھک جاتا ہے مگر رُک نہیں سکتا۔ آپ کو لگتا ہے اپنے اوپر کنٹرول ہی نہیں رہا۔ موبائل، لیپ ٹاپ کی اسکرین سے جو نیلی روشنی نکلتی ہے۔

وہ دماغ کو دھوکہ دیتی ہے کہ ’’ابھی دن ہے‘‘۔ تو پھر دماغ ’’میلاٹونن‘‘ نہیں بناتا، یہ قدرتی ہارمون ہےجو سونے اور جاگنے کو منظم کرتا ہے۔ جب وہ نہیں بنے گا تو نیند نہیں آئے گی۔ کروٹیں بدلتے رہیں گے۔ کم نیند کا مطلب اگلے دن ڈپریشن، غصہ، ذہنی کارکردگی تباہ لیکن آپ روز ایسا ہی کر رہےہیں۔ پہلے دادا دادی دعا دیتے تھے تو سکون ملتا تھا۔ اب 200 لائک نہ آئیں تو نیند نہیں آتی۔ لگتا ہے اپنی عزتِ نفس بھی کرائے پر دے دی ہے۔ مالک کون ہے؟

الگورتھم۔ سادہ الفاظ میں سوشل میڈیا ایک خوبصورت فلٹرڈ ورژن ہے۔ اگر آپ یہ سمجھ جائیں کہ ہر ایک کی زندگی میں تاریک لمحات ہوتے ہیں، تو موازنہ کم ہو جائے گا۔ یہ کامیابی کا ایک جھوٹا فریب ہے جو ہمارے دماغ کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ دماغ کا ایک اصول ہے کہ جو چیز ہمیں بار بار نظر آئے، ہم اسے ہی سچ سمجھنے لگتے ہیں۔

کمپنیاں الگورتھم کے ذریعے جان بوجھ کر ایسا ماحول بناتی ہیں، تاکہ آپ زیادہ دیر اسکرین پر رہیں، زیادہ پوسٹس دیکھیں اور زیادہ اشتہارات آپ تک پہنچیں۔ جتنا زیادہ دیر روکو گے، اتنا زیادہ ایڈ چلے گا، اتنا زیادہ پیسہ بنے گا۔ تمہاری اداسی ان کی کمائی ہے۔ یہ یقین دلاتاہے کہ اگر ہم دوسروں جیسے نہیں ہیں- تو شاید ہم ناکام ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ کنٹرول تمہارے ہاتھ میں ہے۔ الگورتھم کو مت چلنے دو، خود کو چلاؤ۔

بہت سے نوجوان اب سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے اس کا استعمال محدود کر رہے ہیں جسے’ ڈیجیٹل ڈیٹاکس ‘یعنی سوشل میڈیا اور اسکرینز سے دوری کہا جاتا ہے، یہ کوئی ایک دن کی بات نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے جو آپ کے دماغ اور جذبات کو دوبارہ متوازن کرتا ہے۔ ڈیٹاکس کرنے سے ڈپریشن، بے چینی اور نیند کے مسائل میں کمی آ رہی ہے۔

کسی بھی چیز کے استعمال کے لیے اعتدال پہلی شرط ہوتی ہے۔ موبائل کے استعمال کے معاملے میں بھی توازن کے بگڑ جانے سے معاملہ گڑبڑ ہوجاتا ہے۔ اس کا حد سے زیادہ استعمال کو کم کرنے کے لیے مندرجہ ذیل عملی اقدامات کرنے ہوں گے:

فون کی ا سکرین ٹائم فیچر استعمال کریں، دیکھیں کہ کتنا وقت آپ موبائل پر گزار رہے ہیں۔ ایک حد طے کریں بہت ضروری کام کےلیے موبائل استعمال کریں۔ یہ چھوٹا قدم حوصلہ بڑھاتا ہے۔ صبح اٹھتے ہی موبائل چیک کرنے کے بجائے 10 سے 15 منٹ خود کو دیں۔ ہلکی واک، ورزش کریں۔

نوٹیفیکیشنز بند کردیں، تاکہ ہر چند منٹ بعد چیک کرنے کی لت ختم ہو جائے۔ شروع میں مشکل لگے گا، لیکن دھیرے دھیرے عادت بن جائے گی۔

باہر فطرت میں جائیں، قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہوں۔ دوستوں سے ملاقات کریں یا کوئی مشغلہ اختیار کر یں۔ یہ ڈوپامین کی سطح کو نارمل کرتا ہے اور حقیقی خوشی واپس لاتا ہے۔

سوشل میڈیا کے لیے روزانہ ایک حد مقرر کریں، اسےمقصد کے ساتھ استعمال کریں، ایپ کھولنے سے پہلے خود سے پوچھیں،’’میں یہ کیوں کھول رہا ہوں؟‘‘ ہر ہفتے نوٹ کریں کہ آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں، کیا اداسی کم ہوئی؟

منفی یا جعلی اکاؤنٹس ان فالو کریں، مثبت اور ایجوکیشنل پیجز فالو کریں۔ بغیر سوچے اسکرول نہ کریں۔ اپنی پوسٹس کو محدود رکھیں، یہ چھوٹے چھوٹےاقدام آپ کی زندگی بدل سکتے ہیں۔ یاد رکھیں اصل زندگی موبائل میں نہیں اس کے باہر ہے۔ سوشل میڈیا کو مکمل چھوڑنے کی ضرورت نہیں۔ یہ ایک ٹول ہے، معلومات، تفریح اور رابطے فراہم کرنے والا۔

مسئلہ تب ہوتا ہے جب یہ مالک بن جائے اور آپ کی زندگی پر قبضہ کر لے۔ یہ آپ کو اداس نہیں کرتا۔ آپ کا بے مقصد، بے قابو، بے تحاشا استعمال آپ کو اداس کرتا ہے۔ آپ کی ویلیو لائکس میں نہیں، آپ کی ہنسی فلٹر کی محتاج نہیں۔ آپ کی کہانی پندرہ سیکنڈ کی ریل سے بڑی ہے۔ اصل طاقت آپ کی محنت، اور رشتوں میں ہے، نہ کہ اسکرین کی روشنی میں۔