صبا ناصر
قیامِ پاکستان کے بعد کراچی ملک کا دارالحکومت تھا، مگر اعلیٰ تعلیم کا نظام ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا۔ کالجوں میں طلبہ کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی تھی جبکہ تعلیمی سہولتیں نہایت محدود تھیں۔ مثلاً لائبریریاں ناکافی، تجربہ گاہیں غیر معیاری، ہاسٹل کم اور فیسیں طلبہ کی استطاعت سے زیادہ تھیں۔
کراچی میں یونیورسٹی کا بھی فقدان تھا اور طلبہ کو مختلف امتحانات وانتظامی امور کے لیے دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ چنانچہ مختلف کالجوں کی طلبہ یونینوں نے مل کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم انٹر کالجیٹ باڈی (Inter-Collegiate Body) قائم کیا،جس میں ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
طلبہ نے حکام کے سامنے اپنے مطالبات رکھے، جن میں سر فہرست فیسوں میں کمی اور طلبہ کو بسوں میں رعایتی ٹکٹوں میں اضافہ تھا۔ لیکن حکومت نے دلچسپی نہ دکھائی تو 7 جنوری 1953ء کو ڈی جے سندھ کالج میں ایک بڑا اجتماع ہوا، جس کے بعد طلبہ نے وزیرِ تعلیم فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ کی طرف پرامن مارچ کیا، تاکہ اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کر سکیں، مگر پولیس نے جلوس کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
اگلے روز 8 جنوری 1953ء کو طلبہ نے دوبارہ احتجاج کیا۔ جب جلوس صدر کے علاقے پیراڈائز سنیما کے قریب پہنچا تو پولیس نے پہلے آنسو گیس کا استعمال کیا، پھر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں متعدد طلبہ اور شہری شہید و زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ پاکستان کی طلبہ سیاست کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا ،جس کے بعد کئی سال تک ماہ جنوری میں ان طلبہ کی یاد منائی جاتی۔
اس تحریک کے اثرات نہایت دور رس ثابت ہوئے۔ طلبہ سیاست ایک منظم قومی قوت کے طور پر اُبھری۔ اعلیٰ تعلیم کے مسائل قومی سطح پر زیرِ بحث آئے۔حکومت کو طلبہ کے کئی مطالبات پر غور کرنا پڑا، یہ تحریک اس بات کا اظہار تھی کہ نئی نسل ایک ایسے پاکستان کی خواہاں ہے جہاں تعلیم کو قومی ترقی کی بنیاد سمجھا جائے۔
اس تحریک نے ثابت کیا کہ جب طلبہ منظم، پرامن اور واضح مطالبات کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو وہ قومی پالیسی پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ نیز تحریک کا آغاز کسی سیاسی حکومت کو گرانے کے لیے نہیں بلکہ تعلیمی حقوق، بہتر تعلیمی ماحول اور طلبہ کی فلاح کےلئے تھا۔ بعد کے برسوں میں یہی تحریک ملکی سیاست میں بھی ایک مؤثر قوت ثابت ہوئی۔ اس تحریک کےسرکردہ رہنمائوں میں ڈاکٹر ادیب رضوی،ڈاکٹر سرور،ڈاکٹر ہاشمی اور ڈاکٹر ہارون شامل تھے۔
یہ کہنے میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ پاکستان میں آزادی کے بعد پہلی منظم طلبہ تحریک 1953ء میں کراچی سے شروع ہوئی۔ جس کی قیادت ’’Democratic Students Federation ‘‘ نے کی، اگرچہ اس سے قبل مشرقی پاکستان میں 1952ء کی بنگلہ زبان تحریک میں بھی طلبہ نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ لیکن مغربی پاکستان میں طلبہ کے تعلیمی حقوق کے لیے پہلی بڑی منظم تحریک کراچی سے 1952ء میں شروع ہوئی۔
1967 میں ایوب خان کے دورحکومت میں فیسوں میں اضافے، طلبہ یونینوں پر دباؤ،تعلیمی سہولیات کی کمی اور سیاسی آزادیوں پر قدغن سے طلبہ میں بے چینی بڑھی تو مختلف طلبہ تنظیموں نے مشترکہ احتجاجی پروگرام شروع کئے۔ اس دور میں کراچی کے تعلیمی ادارے خصوصاً ڈی جے سائنس کالج، این ای ڈی کالج، ایس ایم کالج، اسلامیہ کالج اور کراچی یونیورسٹی طلبہ سیاست کے اہم مراکز بن گئے، متعدد کالج قریب قریب واقع تھے، طلبہ کسی ایک کالج میں جمع ہوتے، یونین میٹنگ کر کے لائحہ عمل طے کرکے سب کو بتاتے، اور پھرمشترکہ احتجاجی پروگرام، جلسے جلوس شروع ہو جاتے،جواکثر ڈی جے سائنس کالج سے نکلتے، برنس روڈ سے گزرتے ہوئے صدر،پریس کلب اور سرکاری دفاتر کی جانب مارچ کرتے اختتام پذیر ہوتے۔
اکتوبر 1968 میں “ ڈیمانڈز ویک” (Demands Week) کے آغاز پر طلبہ نے بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے سامنے ہونے والی ایک سرکاری تقریب میں احتجاج کیا، جس کے بعد ہزاروں طلبہ کا جلوس ڈی جے کالج پہنچا ،کالج کے باہر ایک بڑا اجتماع منعقد ہوا، یہ احتجاج پورے شہر میں پھیل گیا، جس کے بعد کئی روز تک کراچی کے اسکول اور کالج بند رہے۔7نومبر کو راولپنڈی میں ایک طالب علم کی پولیس فائرنگ سے ہلاکت نے طلبہ کےجذبات کو بھڑکا دیا،جس نےملک گیراحتجاج کو جنم دیا۔ کراچی سے شروع ہونے والی یہ تحریک لاہور، راولپنڈی، پشاور اور ڈھاکہ تک پھیل گئی۔
نومبر، دسمبر1968میں احتجاج کی شدت بڑھ گئی۔1969 کے آغاز میں کراچی میں تقریباً روزانہ طلبہ کے جلوس نکلنے لگے، جن پر پولیس لاٹھی چارج، آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کرتی ،عوام کی ہم دردیاں طلبہ کے ساتھ ہوتیں، کئی طلبہ رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا تو طلبہ تحریک میں وکلا، مزدور، سرکاری ملازمین اور دیگر طبقات بھی شامل ہوگئے، ہڑتالیں شروع ہو گئیں، جس سے شہر کی معمول کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔
اب طلبہ کے مطالبات صرف تعلیمی مسائل تک محدود نہ رہے بلکہ آمریت کے خاتمے، آئین کی بحالی، جمہوری انتخابات اور شہری آزادیوں کا مطالبہ بھی زور پکڑ گیا۔ روزانہ جلسے ہونے لگے، جلوس نکلنے لگے۔
ملک گیر عوامی دباؤ میں مسلسل اضافہ سے صورت حال خراب سے خراب تر ہو نے لگی۔بلآخر 25 مارچ 1969 کو صدر ایوب خان اقتدار جنرل یحییٰ خان کے حوالے کرکے رخصت ہو گئے۔ یوں طلبہ تحریک پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک فیصلہ کُن باب ثابت ہوئی۔
1968۔69 کی اس تحریک سے کئی ایسے نوجوان رہنما سامنے آئے جنہوں نے بعد میں پاکستان کی سیاست، صحافت اور سماجی زندگی میں اہم کردار ادا کیا۔ طلبہ سیاست میں معراج محمد خان، حسین نقی اور دیگر کئی شخصیات نمایاں رہیں۔