• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رافع خان

آج کا نوجوان ایک طرف پہلے سے زیادہ تعلیم یافتہ، باخبر اور دنیا سے جڑا ہوا ہے تو دوسری طرف کئی نئے چیلنجز سے بھی نبرد آزماہے۔ ذہنی دباؤ، مقابلے کی فضا، تنہائی، بے یقینی اور غلط رجحانات سے دوچار ہے، جن سے نمٹنے کے لیے وہ سگریٹ کے دھویں میں اپنے آپ کو ختم کر رہا ہے۔ اسکول، کالجز اور یونیورسٹیز کے طلباء بھی اس کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق12 سے 18 سال کے نوجوانوں میں اس کی شرح تقریباً 15.2 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ بہت سے نوجوانوں نے محض شوق یا دوستوں کی صحبت میں سگریٹ پینا شروع کیاتو انہیں اندازہ نہیں تھا کہ جس سگریٹ کو وہ چند لمحوں کی تفریح سمجھ رہے ہیں، وہ دراصل ان کی زندگی کے قیمتی سالوں کو خاموشی سے نقصان پہنچا رہا ہے۔

ابتدا میں یہ محض ایک شوق ہوتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ایسی عادت بن جاتی ہے جس سے چھٹکارا پانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر چھوڑنا چاہیں، تو بے چینی، سر درد ہونے لگتا ہے، جس کے بعد دوبارہ سگریٹ پینے لگتے ہیں۔ یعنی وہ اِس نشے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ ان کی توانائی کم ہونے لگتی ہے اور پھر وقت کے ساتھ وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال نہیں کر پاتے۔ اگرچہ صحت کے ماہرین مسلسل سگریٹ نوشی کے نقصانات سے آگاہ کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود نوجوان اسں کے عادی ہوتے جارہے ہیں۔

آج کا نوجوان ماضی کے نوجوان سے مختلف حالات میں زندگی گزار رہا ہے۔ تعلیمی میدان میں سخت مقابلہ، بہتر ملازمت کے حصول کی دوڑ، معاشی مشکلات اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال نوجوانوں کو ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیتی ہے۔ بعض نوجوان اس دباؤ سے نکلنے کے لیے سگریٹ نوشی کا سہارا لے لیتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ انہیں ذہنی سکون فراہم کرتا ہے، جب کہ ایسا نہیں ہوتا۔

سگریٹ نوشی کا ایک پہلو معاشی نقصان بھی ہے۔ نوجوان یہ نہیں سوچتے کہ روزانہ چند سگریٹوں پر خرچ ہونے والی رقم سال بھر میں کتنی بڑی رقم بن جاتی ہے۔ اگر یہی پیسہ کتابوں، کورسز، ہنر سیکھنے یا کسی مثبت سرگرمی پر خرچ کیا جائے تو ان کا مستقبل کو سنوار سکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ بہت سے نوجوان اپنی محنت یا والدین کی کمائی کا ایک حصہ دھوئیں میں اڑا دیتے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال تقریباََ 8کروڑ افراد تو براہِ راست سگریٹ نوشی سے مرتے ہیں، جب کہ تقریباَ 16لاکھ افراد سگریٹ نوشی سے پھیلنے والے دھویں سے، جسے’’Secondhand Smoke‘‘کہا جاتا ہے، مرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، سگریٹ کے دھویں میں 70سے زائد ایسے کیمیائی اجزا ہیں، جنہیں’’ Carcinogens‘‘ کہا جاتا ہے، یہ اجزاء دل، جگر اور پھیپھڑوں کو متاثر کرتے ہیں۔

بعض اوقات دوستوں کا ایسا حلقہ ہوتا ہے، جو سگریٹ پیتے ہیں، انہیں دیکھ کر جو نہیں پیتے وہ بھی پینے لگتے ہیں یہ عادت عموماً 14سے 20سال کی عُمر میں شروع ہوجاتی ہے اور یہی وقت بچّوں کی کڑی نگرانی کا ہوتا ہے۔

والدین کو ان کے میل جول، دوستوں، روزمرّہ کے معمولات اور موبائل کے استعمال وغیرہ پر نظر رکھنی چاہیے، صرف بچوں کی مالی ضروریات پوری کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ ان کی ذہنی، اخلاقی اور سماجی تربیت بھی ضروری ہوتی ہے۔ والدین بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کریں۔ ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔

تعلیمی اداروں کو میں تمباکو نوشی کے خلاف باقاعدہ آگاہی مہمات، سیمینارز، ورکشاپس، مباحثے اور صحت سے متعلق پروگرام ہونے چاہیں۔

نوجوانوں کو چاہیے کہ اپنی صحت کو ترجیح دیں، مثبت سرگرمیوں میں حصہ لیں۔ دوستوں کے دباؤ میں آنے کے بجائے اپنی شخصیت کو مضبوط بنائیں۔ ایسے فیصلے کریں جو ان کے مستقبل کے لیے بہتر ہوں۔ نوجوان اپنے مستقبل کو سگریٹ کے دھوئیں سے نہیں بلکہ علم کی روشنی سے روشن کریں۔ دھواں تو فضا میں گم ہو جاتا ہے، لیکن محنت اور کام نام اور مقام بلند کرتا ہے۔