جنوبی ایشیا اس وقت محض سیاسی تبدیلیوں کے دور سے نہیں گزر رہا بلکہ ایک گہری سماجی اور فکری تبدیلی کا مشاہدہ بھی کر رہا ہے۔ اس تبدیلی کا اصل محرک نہ روایتی سیاسی جماعتیں ہیں اور نہ ہی دہائیوں سے اقتدار کے ایوانوں پر قابض شخصیات، بلکہ وہ نوجوان نسل ہے جسے دنیا “جنریشن زی” کے نام سے جانتی ہے۔ یہی نسل آج اپنے مستقبل، شناخت اور اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ اپنے وطن کی تعمیر و ترقی میں بھی مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے میدان میں اتر چکی ہے۔
بیسویں صدی کی سیاست کا محور اقتدار کا حصول تھا، مگر اکیسویں صدی کا نوجوان بہتر حکمرانی، شفافیت، میرٹ، تعلیم، روزگار اور باوقار مستقبل کا مطالبہ کر رہا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور عالمی شعور نے اس نسل کو پہلے سے کہیں زیادہ باخبر، خوداعتماد اور فعال بنا دیا ہے،یہی وجہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں نوجوان اب صرف ووٹر نہیں بلکہ قومی پالیسیوں پر اثرانداز ہونے والی ایک طاقتور سماجی قوت بنتے جارہے ہیں۔
بنگلہ دیش میں طلبہ کی تحریک نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ جب نوجوان منظم، پُرامن اور واضح مقاصد کے ساتھ میدان میں آتے ہیں تو برسوں سے قائم سیاسی ڈھانچے بھی تبدیلی کے دباؤ کو محسوس کرنے لگتے ہیں۔ یہ تحریک اس حقیقت کی غماز تھی کہ نئی نسل اپنے مستقبل کے فیصلے دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے بجائے خود ان میں شریک ہونا چاہتی ہے۔
اس واقعے نے پورے خطے میں یہ بحث چھیڑ دی کہ قومی ترقی کا سفر نوجوانوں کو شریک کیے بغیر ممکن نہیں۔اسی طرح بھارت میں تعلیمی شفافیت، روزگار کے مواقع اور میرٹ کے تحفظ جیسے مسائل پر نوجوانوں کی آواز نے یہ واضح کیا کہ ترقی صرف بلند و بالا عمارتوں، شاہراہوں یا معاشی اعدادوشمار کا نام نہیں، بلکہ اس کا اصل پیمانہ نوجوانوں کا اعتماد، ان کی صلاحیتوں کا اعتراف اور ان کے لیے یکساں مواقع کی فراہمی ہے۔ جب نوجوان خود کو نظام کا حصہ محسوس کرتے ہیں تو وہ احتجاج سے آگے بڑھ کر تعمیر، اختراع اور قومی خدمت کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ملک کی سب سے بڑی دولت اس کے قدرتی وسائل نہیں بلکہ اس کا نوجوان سرمایہ ہوتا ہے۔ یہی نوجوان مستقبل کے سائنس دان، انجینئر، اساتذہ، ڈاکٹر، صنعت کار، محقق، صحافی اور پالیسی ساز بنتے ہیں۔ اگر انہیں معیاری تعلیم، ہنر، روزگار اور اظہارِ رائے کی آزادی میسر ہو تو وہ نہ صرف ملکی معیشت کو نئی جہت دے سکتے بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنے وطن کا وقار بلند کر سکتے ہیں۔
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی سے شروع ہونے والی طلبہ کی احتجاجی تحریک بھارت کے مختلف بڑے شہروں تک ایسے پھیلی کہ سب دیکھتے رہ گئے ۔ تعلیمی اداروں سے ایسی نوجوان قیادت اُبھری جو صرف علمی میدان تک محدود نہ رہی بلکہ قومی شعور، سیاسی آگہی اور سماجی تبدیلی کی علامت بن گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ، بیسویں صدی کے آغاز سے برصغیر میں اُٹھنے والی بیش تر عوامی اور سیاسی تحریکوں میں نوجوان طلبہ نےنمایاں کردار ادا کیا۔
ذرا ایک نظر ماضی میں جھانکیں.28 ستمبر 1907ء کو ضلع لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کی تحصیل جڑانوالہ میں پیدا ہونے والا نوجوان بھگت سنگھ آزادی کی جدوجہد کی ایک لازوال علامت ہے۔ 1919ء کے سانحۂ جلیانوالہ باغ نے اس کی سوچ اور شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ محض بارہ برس کی عمر میں وہ اس خون آشام میدان میں آپہنچا جہاں سیکڑوںنہتے ہندوستانیوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا تھا۔ یہ واقعہ اس کی انقلابی زندگی کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا۔بھگت سنگھ نے اپنی جدوجہد کو کبھی ذاتی مفادات پر قربان نہیں کیا۔
جب برطانوی حکومت نے اسے تحریکِ آزادی سے دستبردار ہونے کے عوض وسیع زرعی اراضی کی پیشکش کی تو اس نے دوٹوک الفاظ میں جواب دیا’’زمین ہماری ہے، تم کون ہو جو ہمیں دیتے ہو؟ تم برصغیر چھوڑ دو۔ میری جدوجہد اپنی دھرتی کی آزادی اور عوام کے حقوق کے لیے ہے، کسی ذاتی یا خاندانی مفاد کے لیے نہیں‘‘۔یہ الفاظ صرف ایک نوجوان کی جرات کا اظہار نہیں بلکہ اس نظریاتی استقامت کی مثال ہےجو ہر دور کے طلبہ تحریکوں کی روح رہی ہے۔
برصغیر کی سیاسی تاریخ میں اگر کسی نوجوان نسل نے سب سے زیادہ منظم، مؤثر اور نتیجہ خیز سیاسی جدوجہد کی تو وہ تحریکِ پاکستان کے نوجوان تھے۔ ان کی بے مثال قربانیوں، سیاسی بصیرت اور ولولۂ ایمانی نے برصغیر کے مسلمانوں کی جدوجہد آزادی کو ایک عوامی تحریک میں تبدیل کر دیا، بالخصوص 1945-46ء کے تاریخی انتخابات میں طلبہ نے قائداعظم محمد علی جناح کا پیغام گھر گھر پہنچانے، عوامی رائے عامہ ہموار کرنے اور مسلم لیگ کے حق میں فضا سازگار بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے مسلمان نوجوانوں کو ایک منظم پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اس تنظیم نے نوجوانوں میں قومی شعور، سیاسی آگہی اور ملتِ اسلامیہ کے اجتماعی مفاد کا احساس بیدار کیا، یہی وہ قوت تھی جس نے قیامِ پاکستان کے تصور کو محدود سیاسی مطالبے سے نکال کر ایک ہمہ گیر عوامی تحریک کی صورت عطا کی۔ نوجوانوں نے جلسوں، جلوسوں، انتخابی مہمات اور عوامی رابطوں کے ذریعے مسلم لیگ کے پیغام کو برصغیر کے طول و عرض میں عام کیا۔
کلکتہ، لاہور، دہلی، علی گڑھ اور دیگر اہم مراکز میں قائداعظم محمد علی جناح کے تاریخی خطابات نوجوانوں کے لیے اُمید، اعتماد اور عزمِ نو کا سرچشمہ ثابت ہوئے۔ قائداعظمؒ نوجوانوں کو قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ قرار دیتے تھے،وہ نہ صرف طلبہ کے اجتماعات میں شرکت کرتے بلکہ انہیں یہ یقین بھی دلاتے کہ قوموں کی تقدیر کا فیصلہ نوجوانوں کے کردار، علم، نظم و ضبط اور اعلیٰ اخلاق سے ہوتا ہے۔ ان کی نظر میں تعلیم یافتہ، باکردار اور باصلاحیت نوجوان ہی ایک مضبوط، خودمختار اور ترقی یافتہ ریاست کی ضمانت ہوتے ہیں۔
تحریکِ پاکستان کے یہ نوجوان حقیقی معنوں میں اس عظیم جدوجہد کے سپاہی ثابت ہوئے۔ انہوں نے اپنی توانائیاں، صلاحیتیں اور مستقبل ایک ایسے آزاد وطن کے حصول کے لیے وقف کر دیا جس کا خواب علامہ اقبالؒ نے دیکھا تھا اور جسے قائداعظمؒ کی قیادت میں عملی تعبیر ملی ۔قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں نوجوانوں اور طلبہ کو قومی تعمیر و تشکیل میں ایک فعال قوت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
آزادی کی جدوجہد میں ان کے کردار کے باعث یہ توقع کی جا رہی تھی کہ نئی ریاست میں بھی نوجوان قومی ترقی، جمہوری شعور اور سیاسی استحکام کے ضامن ثابت ہوں گے،تاہم 1947ء سے 1958ء کے درمیانی عرصے میں ریاستی پالیسیوں میں بتدریج ایسی تبدیلیاں رونما ہوئیں جن کے نتیجے میں طلبہ کو منظم سیاسی عمل سے دور رکھنے کی کوششیں شروع ہو گئیں، اس کے باوجود جامعات اور کالج نظریاتی سیاست، فکری مباحث اور جمہوری شعور کے اہم مراکز بنے رہے۔ اسی دور میں مختلف سیاسی اور فکری رجحانات کی حامل طلبہ تنظیمیں وجود میں آئیں۔ دائیں اور بائیں بازو کے نظریات پر مبنی مباحث نے نوجوانوں میں مطالعے، تحقیق، مکالمے اور تنقیدی فکر کو فروغ دیا۔
جامعات محض تدریسی ادارے نہیں رہے بلکہ وہ ایسی نرسریاں ثابت ہوئے جہاں مستقبل کی سیاسی، سماجی اور فکری قیادت نے تربیت پائی۔ پاکستان کی قومی سیاست، صحافت، وکالت، تدریس، سول سوسائٹی اور سماجی خدمت کے میدانوں میں نمایاں مقام حاصل کرنے والی متعدد شخصیات نے اپنی عملی زندگی کا آغاز طلبہ سیاست ہی سے کیا۔ طلبہ تنظیموں نے صرف احتجاجی سیاست تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ قیادت سازی، تنظیمی نظم، برداشت، مکالمے اور جمہوری اقدار کی عملی تربیت بھی فراہم کی۔
پاکستان کی طلبہ سیاست کی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو یہ قربانیوں، نظریاتی وابستگی، فکری کشمکش اور قومی سیاست پر گہرے اثرات کی ایک طویل داستان ہے۔ تاریخ میں کئی ایسی تنظیمیں سامنے آئیں جنہوں نے نہ صرف طلبہ کے حقوق کے لیے آواز بلند کی بلکہ ملکی سیاسی شعور کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن (DSF) پاکستان کی اولین منظم طلبہ تنظیموں میں شمار ہوتی ہے، جس کی بنیاد 1950ء کی دہائی میں رکھی گئی۔
اس تنظیم نے تعلیمی اصلاحات، طلبہ کے بنیادی حقوق، سستی، معیاری تعلیم کے فروغ اور جمہوری آزادیوں کے تحفظ کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ 1953ء میں کراچی میں طلبہ کے ایک احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ نے نہ صرف کئی نوجوانوں کو زخمی کیا بلکہ اس واقعے نے ڈی۔ ایس ۔ایف کو ملک گیر شناخت بھی عطا کی، تاہم حکومت نے جلد ہی اس تنظیم پر پابندی عائد کر دی، جس کے بعد ترقی پسند طلبہ نے اپنی جدوجہد کو نئے پلیٹ فارم، نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن (NSF)، کے ذریعے آگے بڑھایا۔
اس فیڈریشن نے جامعات اور کالجوں میں علمی مباحث، فکری آزادی، سیاسی آگاہی اور جمہوری اقدار کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس کے کارکنوں نے نوجوان نسل میں سوال کرنے کی جرات، اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی روایت اور سماجی انصاف کے تصورات کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ 1968ء اور 1969ء کی عوامی تحریک میں بھی این ایس ایف کے کارکن صفِ اول میں نظر آئے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اندرونی اختلافات، ریاستی دباؤ اور بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے باعث اس تنظیم کا اثر و رسوخ بتدریج کم ہوتا چلا گیا۔1968ء اور 1969ء کی طلبہ تحریک پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔
اس تحریک کا آغاز بظاہر تعلیمی مسائل، فیسوں میں اضافے، طلبہ یونینز کے حقوق اور حکومتی سختیوں کے خلاف احتجاج سے ہوا، مگر بہت جلد اس نے ملک گیر عوامی تحریک کی شکل اختیار کر لی۔ طلبہ نے مزدوروں، وکلا، اساتذہ اور دیگر سماجی طبقات کے ساتھ مل کر آمریت کے خلاف ایک مضبوط عوامی مزاحمت کی بنیاد رکھی، جس کے نتیجے میں صدر جنرل ایوب خان کی حکومت شدید دباؤ کا شکار ہوئی۔
طلبہ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ جب نوجوان شعور، تنظیم اور نظریاتی وابستگی کے ساتھ میدان میں اتریں تو وہ صرف اپنے تعلیمی حقوق ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی سیاسی سمت پر بھی گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں 1965ء کے صدارتی انتخابات نوجوانوں کی سیاسی بیداری کا ایک اہم سنگِ میل تھے،جب مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح نے صدر ایوب خان کے مقابلے میں صدارتی انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا تو ملک بھر کے کالجوں اور جامعات میں طلبہ نے جمہوریت کے حق میں بھرپور انتخابی مہم چلائی۔
جلسے، جلوس، مباحثے اور عوامی رابطے کی سرگرمیوں نے نوجوان نسل میں سیاسی شعور کو نئی جِلا بخشی۔ یہ صرف ایک انتخابی مہم نہیں تھی بلکہ آمریت کے مقابلے میں جمہوری اقدار کے دفاع کا ایک تاریخی اظہار تھا۔یہی شعور 1968ء اور 1969ء کی ملک گیر تحریک میں پوری قوت کے ساتھ سامنے آیا۔ کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور اور ڈھاکہ کے تعلیمی اداروں سے اُٹھنے والی آواز دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں گونجنے لگی۔ طلبہ نے نہ صرف اپنی صفوں کو منظم کیا بلکہ مزدوروں، وکلاء، اساتذہ اور دیگر سماجی طبقات کے ساتھ مل کر ایک ایسی عوامی تحریک برپا کی جس نے حکمرانوں کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور کر دیا۔
اس عوامی دباؤ کے نتیجے میں مارچ 1969ء میں صدر ایوب خان کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔ اگرچہ اقتدار جنرل یحییٰ خان کے حوالے ہوا، تاہم یہ تحریک اس حقیقت کی روشن دلیل بن گئی کہ باشعور اور منظم نوجوان کسی بھی سیاسی نظام میں تبدیلی لانے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔پاکستان میں طلبہ سیاست کی تاریخ میں اسلامی جمعیت طلبہ ایک نمایاں نام ہے۔ 1947ء میں قائم ہونے والی یہ تنظیم ملک کی قدیم ترین، منظم اور دیرپا طلبہ تنظیموں میں شمار ہوتی ہے۔
اس نے تعلیمی اداروں میں اسلامی اقدار، کردار سازی، نظم و ضبط، اخلاقی تربیت اور علمی ماحول کے فروغ کے لیے نمایاں کردار ادا کیا، تاہم اس کے ناقدین مختلف ادوار میں کیمپس سیاست میں سخت رویوں اور تصادم کی سیاست اختیار کرنے کے الزامات بھی عائد کرتے رہے، جن پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ یہ اختلافات اپنی جگہ، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ طلبہ تنظیموں نے نوجوانوں میں قیادت، تنظیم سازی اور عوامی خدمت کے جذبے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان کی سیاست میں متعدد قومی رہنما ایسے ہیں جنہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز طلبہ سیاست سے کیا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے کئی اہم قائدین، پارلیمنٹیرین، وکلاء، صحافی اور سماجی کارکن کبھی نہ کبھی طلبہ یونینز یا طلبہ تنظیموں سے وابستہ رہے، یہی پلیٹ فارم ان کی قیادت، اظہارِ رائے، تنظیمی صلاحیت اور عوامی رابطے کی پہلی درسگاہ ثابت ہوئے۔ 1984ء میں جنرل محمد ضیاء الحق کی فوجی حکومت نے ملک بھر میں طلبہ یونینز پر پابندی عائد کر دی، جو طلبہ سیاست کی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا۔ سرکاری مؤقف یہ تھا کہ جامعات میں بڑھتے ہوئے تشدد، ہنگامہ آرائی اور سیاسی تصادم کو روکنے کے لیے یہ اقدام ضروری تھا۔ اس فیصلے کے بعد کیمپس سیاست تقریباً ختم ہو گئی اور طلبہ یونینز عملی طور پر غیر فعال ہو گئیں۔
اس پابندی کے اثرات پر آج بھی علمی اور سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ متعدد ماہرینِ تعلیم، دانشوروں اور سابق طلبہ رہنماؤں کا خیال ہے کہ طلبہ یونینز کی معطلی نے نوجوانوں کی جمہوری تربیت کو شدید متاثر کیا اور وہ پلیٹ فارم ختم ہو گیا جہاں سے مستقبل کی سیاسی، سماجی اور قومی قیادت اُبھرتی تھی۔
دوسری جانب بعض حلقے یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ اس فیصلے کے بعد تعلیمی اداروں میں نسبتاً پُرامن ماحول قائم ہوا اور تدریسی سرگرمیوں پر زیادہ توجہ ممکن ہوئی۔ آج، چار دہائیاں گزرنے کے باوجود طلبہ یونینز کی بحالی کا سوال قومی مباحثے کا اہم موضوع ہے۔ ایک طبقہ اسے جمہوری تربیت، قیادت سازی اور سیاسی شعور کی نشوونما کے لیے ناگزیر قرار دیتا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ ماضی کے تلخ تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے محتاط طرزِ عمل کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
7جنوری 1977 کو وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے اچانک قبل از وقت عام انتخابات کے اعلان نے ملک کی سیاست میں غیر معمولی ہلچل پیدا کر دی تھی ۔عموماً قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ حزبِ اختلاف کی جانب سے کیا جاتا ہے، مگر اس مرتبہ منظرنامہ اس کے برعکس تھا۔ حکومت خود انتخابات کے انعقاد کے لیے سرگرم دکھائی دی، جبکہ اپوزیشن اس غیر متوقع فیصلے سے وقتی طور پر حیران اور غیر منظم نظر آئی۔
اگرچہ حزبِ اختلاف کئی برسوں سے یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (UDF) کے پلیٹ فارم سے بھٹو حکومت کے خلاف آواز اُٹھا رہی تھی ، لیکن قبل از وقت انتخابات کے اعلان نے اسے اپنی حکمتِ عملی ازسرِنو مرتب کرنے پر مجبور کر دیا۔ چنانچہ 10 جنوری 1977 کو قومی اسمبلی کی تحلیل کے ساتھ ہی نو جماعتوں پر مشتمل پاکستان نیشنل الائنس (پی این اے) وجود میں آیا۔
اس اتحاد کے صدر مفتی محمود، نائب صدر نواب زادہ نصراللہ خان اور جنرل سیکریٹری رفیق احمد باجوہ منتخب ہوئے، دیگر ممتاز سیاسی رہنماؤں کی شمولیت نے اس اتحاد کو قومی سطح پر غیر معمولی وسعت اور سیاسی قوت عطا کی۔ ابتدا میں پی این اے محض مختلف سیاسی جماعتوں کا انتخابی اتحاد تھا، مگر بہت جلد اس کی اصل طاقت نوجوان نسل بن گئی۔ کالجوں، جامعات اور تعلیمی اداروں سے وابستہ ہزاروں طلبہ اور نوجوان اس تحریک میں شریک ہوئے۔
ان کا جوش، ولولہ، تنظیمی صلاحیت اور قربانی ہی وہ سرمایہ تھا جس نے اس سیاسی اتحاد کو ایک بھرپور عوامی تحریک میں تبدیل کر دیا۔ جلسوں کی رونق، جلوسوں کی قیادت، احتجاجی ریلیوں کا انعقاد، ہڑتالوں کی تنظیم اور گھر گھر عوامی رابطہ مہم،یہ سب بڑی حد تک نوجوانوں کی شبانہ روز جدوجہد کا نتیجہ تھا۔پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ نوجوان ہمیشہ تبدیلی، اُمید اور نئے سیاسی شعور کی علامت رہے ہیں۔ 1977 کی تحریک میں بھی وہ سرگرم تھے۔ ان میں مذہبی جماعتوں سے وابستہ کارکن بھی تھے، قوم پرست اور جمہوریت پسند طلبہ بھی تھے۔
نظریاتی اختلافات کے باوجود ان سب کا مشترکہ نصب العین ایک ایسا سیاسی نظام تھا جس میں عوام کے ووٹ اور رائے کا حقیقی احترام یقینی بنانا تھا۔لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ نوجوانوں کا بے مثال جذبہ اگر دوراندیش سیاسی قیادت، قومی مفاد اور جمہوری تدبر کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو تو اس کے نتائج ہمیشہ عوامی اُمنگوں کے مطابق نہیں نکلتے۔ 1977 کی تحریک نے یقیناً حکومت پر غیر معمولی عوامی دباؤڈالا، مگر یہ دباؤ سیاسی مذاکرات، آئینی مفاہمت اور جمہوری حل کی طرف پیش رفت کے بجائے ایسے بحران میں تبدیل ہو گیا جس نے جمہوری نظام کی بنیادوں کو کمزور کر دیا۔تحریک کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی گئی۔
احتجاج شدت اختیار کرتا گیا، تصادم کے واقعات رونما ہوئے، سیاسی اعتماد ختم ہوتا گیا اور ملک آئینی بحران کی لپیٹ میں آ گیا،بالآخر 5 جولائی 1977 کو جنرل محمد ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کر کے منتخب حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ یوں وہ نوجوان جو جمہوریت، انتخابی شفافیت اور عوامی حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے میدانِ عمل میں اترے تھے، غیر ارادی طور پر ایسے سیاسی حالات کا حصہ بن گئے جس کے نتیجے میں پاکستان پر گیارہ برس تک آمریت رہی۔
مارشل لا کے اسباب کہیں زیادہ پیچیدہ تھے، جن میں حکومتی پالیسیوں، انتخابی تنازع، سیاسی عدم برداشت، ادارہ جاتی کمزوری اور قیادت کی باہمی عدم مفاہمت جیسے عوامل شامل تھے، تاہم یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ جب نوجوانوں کا جوش سیاسی تدبر سے محروم ہو جائے تو بعض اوقات وہ ایسے نتائج پیدا کر دیتا ہے جو خود ان کے اپنے خوابوں کے بھی خلاف ہوتے ہیں ۔ 2007ء میں اُس وقت کے چیف جسٹس، جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معطلی کے بعد جنم لینے والی وکلاء تحریک پاکستان کی سیاسی، آئینی اور جمہوری تاریخ کا ایک فیصلہ کُن باب ثابت ہوئی۔ یہ محض وکلاء کی پیشہ ورانہ جدوجہد نہ تھی، بلکہ قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی اور آئین کی بالادستی کے لیے ایک ہمہ گیر قومی تحریک بن گئی تھی۔
اس جدوجہد میں وکلاء کے شانہ بشانہ نوجوان، طلبہ، صحافیوں، سول سوسائٹی اور سیاسی کارکنوں نے غیر معمولی عزم، جرأت اور وابستگی کا مظاہرہ کیا۔ملک بھر کی جامعات اور تعلیمی اداروں کے طلبہ نے ریلیوں، سیمینارز، احتجاجی مظاہروں اور عوامی آگاہی مہموں میں بھرپور حصہ لیا۔ نوجوان نسل نے اس دور میں الیکٹرانک میڈیا، انٹرنیٹ اور اُبھرتے ہوئے سوشل میڈیا کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے عوامی شعور بیدار کیا۔ اس تحریک کو وسیع عوامی تائید فراہم کی، جس کے نتیجے میں عدلیہ کی بحالی کی راہ ہموار ہوئی اور ملک میں جمہوری اقدار اور آئینی اداروں کے استحکام کو نئی تقویت ملی۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ ، طلبہ ہمیشہ قومی بیداری، سماجی تبدیلی اور جمہوری جدوجہد کے مؤثر محرک رہے ہیں۔ جب بھی قوم پر مشکل وقت آیا، نوجوان نسل نے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔ پاکستان کو ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو علم، کردار، برداشت، مکالمے اور قومی خدمت کے جذبے سے آراستہ ہوں۔
اگر طلبہ سیاست کو آئینی، اخلاقی اور تعلیمی حدود کے اندر رہتے ہوئے فروغ دیا جائے، تشدد اور نفرت کی سیاست سے پاک رکھا جائے، اور تعلیمی اداروں کو حقیقی معنوں میں فکری و جمہوری تربیت کا مرکز بنایا جائے تو یہی نوجوان مستقبل میں ملک کو دیانت دار، باصلاحیت اور دوراندیش قیادت فراہم کر سکتے ہیں۔پاکستان کی تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ قوموں کی تقدیر صرف ایوانوں میں نہیں بلکہ درس گاہوں میں بھی لکھی جاتی ہے۔
جب نوجوان قلم، کردار اور شعور کو اپنا ہتھیار بناتے ہیں تو وہ نہ صرف اپنے مستقبل کو سنوارتے ہیں بلکہ پوری قوم کے لیے ترقی، استحکام اور جمہوری استقامت کی نئی راہیں بھی ہموار کرتے ہیں۔ جب ان کے اندر انصاف، مساوات، شفافیت اور بنیادی حقوق کا شعور بیدار ہوتا ہے تو وہ تاریخ کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تاہم یہ امر بھی نہایت اہم ہے کہ احتجاج قانون کے دائرے میں، پرامن انداز اور جمہوری اقدار کے مطابق ہو۔ پائیدار معاشروں میں مسائل کا حل تشدد، تصادم یا انتشار نہیں بلکہ مکالمہ، آئینی طریقۂ کار، قانون کی حکمرانی اور عوامی اعتماد کے ذریعے تلاش کیا جاتا ہے۔