• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مومنہ حنیف

ہم ایک ایسی نسل کے سامنے کھڑے ہیں جو بظاہر بہت باشعور ، باخبر، تیز مگر اندر سے غصہ ور ہے۔ غصہ ہر ایک کو آتا ہے، مگر جب یہ بے قابو ہو جائے تو شخصیت، تعلقات، تعلیم، روزگار اور معاشرے سب کو متاثر کرتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج نوجوانوں میں غصہ صرف ایک وقتی کیفیت نہیں بلکہ ایک بڑھتا ہوا سماجی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

معمولی اختلافات، ٹریفک کے جھگڑے، کھیل کے میدان میں تلخ کلامی، لڑائیاں، گھریلو تنازعات اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیز گفتگو اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ برداشت کم اور ردعمل زیادہ ہو گیا ہے جو صرف سڑکوں پر نہیں، گھروں میں بھی نظر آتا ہے سوال یہ ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ، نوجوانوں میں غصہ بڑھ گیا ہے؟ اور وہ بھی اس حد تک کہ انسان اپنے ہی رشتوں، اور مستقبل خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔

نسل نو جو بات بات پر بھڑک اٹھتی ہے، بات بات پرسیخ پا اور مشتعل ہو کر ساری حدیں پار کر جاتی ہے، یہ فرسٹریشن ہے یا ڈپریشن، غیر یقینی پن کی انتہا ہےیا حالات سے شدید مایوسی یا نفرت جو چشم زدن میں اچھے برے کی تمیز مٹا دیتی ہے۔

یہ رویہ اب تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ آپس میں گفتگو کا معیار، ادب و احترام، باہمی عزّت و وقار کا پاس و لحاظ مفقود ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے معاشرے میں موجود مسائل بھی کچھ اس نوعیت کے ہیں کہ مایوسی کی کیفیت اپنی انتہا پر پہنچ گئی ہے۔

آج کا نوجوان مستقبل کے حوالے سے شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روزگار کے محدود مواقع ،ان کے اندر ایک انجانا خوف پیدا کردیا ہے، جو اکثر اپنوں پر غصے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ جب ذہن دباؤ کا شکار ہو تو انسان کا مزاج سخت ہو جاتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتیں بھی بڑی لگنے لگتی ہیں۔ اونٹ نما معاشرہ ہے جس کی کوئی کل سیدھی نہیں۔ تعلیمی اداروں میں بھی یہ وائرس تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔

عدم برداشت کا بڑھتا ہوا رجحان انتہائی تشویشناک صورتحال اختیار کر چکا ہے، جس کے اثرات نہ صرف طلباء کی پڑھائی بلکہ ان کی ذہنی صحت پر بھی پڑ رہے ہیں۔ غصہ اگر حد میں ہو تو انسان کو ظلم کے خلاف کھڑا کرتا ہے، غیرت پیدا کرتا ہے، حق کے لئے آواز اُٹھاتاہے مگر جب حد سے تجاوز کر جائے تو انتشار پیدا کر دیتا ہے، اصلاح کو بھی فساد میں بدل دیتا ہے۔ آج کے معاشرے میں مسئلہ غصے کا ہونا نہیں بلکہ اس کی بے مہار صورت ہے۔

نسل نو کے غصہ ور ہونے کے پیچھے مسلسل دباؤ ہے، کریئر کا دباؤ، مقابلے کا دباؤ، گھر والوں کی توقعات، سماج کی نگاہیں، اور مستقبل کا خوف۔ وہ جیتے جی آرام نہیں پاتا۔ وہ ایک ایسے میدان میں دوڑ رہا ہے جہاں منزل واضح نہیں، مگر دوڑ بند نہیں ہو تی۔

مقابلے کی دوڑ ہے، مگر سکون نہیں، انہیں اسکرین ملی مگر بے چینی اور چڑچڑے پن میں بھی اضافہ ہوا۔ ہر وقت دوسروں کی خوشحال زندگی دیکھ کر احساسِ کمتری مبتلا، لائکس اور توجہ کی خواہش پوری نہ ہو تو نوجوان مایوسی اور غصے کا شکار ہوجاتا ہے، آن لائن بحث و مباحثہ نوجوانوں کے مزاج میں سختی پیدا کرتا ہے جس کا اثر حقیقی زندگی کے تعلقات پر بھی پڑتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ وہ اندر سے بے چین رہتا ہے اور جب اندر سکون نہ ہو تو غصہ زبان بن جاتا ہے۔ حالیہ نسل شاید سب سے پر انتشار عہد سے گزر رہی ہے۔ اپنے لئے مستقبل کی نئی راہیں ڈھونڈنے والے طلبا و طالبات عام طور پر اس وقت کنفیوژن کا شکار ہیں جب وہ عملی زندگی میں قدم رکھنے کی تیاریاں کر رہے ہوتے ہیں کچھ کو درست رہنمائی نہیں مل رہی ہوتی اور کچھ خود اعتمادی کی کمی کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ایک وقت تھا جب اختلافِ رائے کو گفتگو کے ذریعے سلجھانے کی کوشش کی جاتی تھی، لیکن آج کا دور کچھ مختلف نظر آتا ہے۔ معمولی سی تنقید، کسی کی رائے سے اختلاف، سوشل میڈیا پر ایک تبصرہ، یا روزمرہ زندگی کا ایک چھوٹا سا مسئلہ بھی بعض نوجوانوں کو اس قدر مشتعل کر دیتا ہے کہ وہ فوراً سخت ردِعمل دیتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے برداشت کا دائرہ سکڑ گیا ہو۔

پہلے اختلاف محدود دائرے میں ہوتا تھا، مگر اب ہر شخص سیکڑوں لوگوں کے سامنے اپنی رائے پیش کرتا ہے۔ ایک معمولی تبصرہ بھی ذاتی حملہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کی بات مکمل سنے بغیر جواب دیتے ہیں، اور دلیل کی جگہ تلخ الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ مسلسل منفی تبصروں کو دیکھتے دیکھتے نوجوانوں کی گفتگو کا انداز بھی متاثر ہونے لگا ہے۔

گھریلو ماحول بھی مزاج پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر گھر میں لڑائی جھگڑے، سختی یا عدم توجہ ہو تو نوجوان چڑچڑے پن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی بات منوانے کے لیے غصے کا سہارا لیتے ہیں۔ ایسے میں باہر کے تعلقات میں بھی برداشت اور تحمل کا مظاہرہ نہیں کر پاتے۔ بعض نوجوانوں میں غصے کی وجہ ناکامی کو قبول نہ کر نا بھی ہوتا ہے۔

آج کا معاشرہ کامیابی کو اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ گویا ناکامی کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ جب حقیقت توقعات سے مختلف نکلتی ہے تو مایوسی غصے میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔ اس کا ایک بڑا نقصان فیصلہ سازی پر پڑتا ہے۔ وہ ایسے فیصلے کر بیٹھتا ہے جن پر بعد میں پچھتانا پڑتا ہے۔ کئی نوجوان وقتی اشتعال میں ایسے اقدامات کر بیٹھتے ہیں جن کے نتائج برسوں تک ان کا پیچھا کرتے ہیں۔

مسلسل غصہ جسمانی صحت پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔ بلڈ پریشر، دل کی بیماریاں، بے خوابی اور ذہنی دباؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ لوگ ایسے شخص سے دور رہنے لگتے ہیں جو ہر بات میں اپنی مرضی منوانا چاہتا ہو۔ آہستہ آہستہ انسان سماجی تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے اور اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کے رویے نے قیمتی رشتے چھین لیے ہیں۔

غصے اور ضد پر قابو پانے کے لیے خود آگاہی ضروری ہے۔ ردعمل دینے سے پہلے چند لمحے رک کر سوچیں۔ خاموشی اختیار کرنا وقتی غصے کو کم کر سکتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر غصہ منفی نہیں ہوتا۔ اگر یہ ناانصافی، بدعنوانی یا سماجی برائیوں کے خلاف تعمیری انداز میں استعمال کیا جائے تو یہی جذبہ مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

تاریخ میں کئی اصلاحی تحریکیں ایسے لوگوں نے شروع کیں، جنہوں نے اپنے غصے کو نفرت میں نہیں بلکہ عمل میں تبدیل کیا،لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کے غصے کو ہوا دینے کے بجائے انہیں سمجھیں اور سمجھائیں کہ اختلاف دشمنی نہیں ہوتی، ناکامی زندگی کا اختتام نہیں اور ہر مسئلے کا حل تشدد یا تلخ رویہ نہیں ہوتا۔ پوری نوجوان نسل غصیلی نہیں، کیونکہ بے شمار نوجوان نہایت باہمت، باصلاحیت اور ذمہ دار ہیں، اپنے جذبات اور غصے کو قابو میں رکھنا اچھی طرح جانتے ہیں۔

جذباتی ذہانت آج کی دنیا میں کامیابی کی اہم ترین صلاحیتوں میں شمار ہوتی ہے۔ جو نوجوان اپنے جذبات کو پہچاننا اور ان پر قابو پانا سیکھ لیتے ہیں، وہ زندگی کے مشکل حالات میں بھی بہتر فیصلے کرتے ہیں۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ انسان کو کبھی غصہ نہ آئے، لیکن اسےاپنی عقل، کردار اور فیصلوں پر حاوی نہ ہونے دیا جائے۔ جو نوجوان غصے پر قابو پانا سیکھ لیتے ہیں، وہ نہ صرف اپنی زندگی کو سنوارتے ہیں بلکہ اپنے خاندان، معاشرے اور ملک کے لیے بھی مثبت مثال بن سکتے ہیں۔

نوجوان سے مزید