• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نوجوانو! معاشرے کو سنوارو، معیشت کو مضبوط کرو

بلال احمد معاویہ اعوان

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

قائداعظم نے فرمایا تھا کہ’’ پاکستان کا مستقبل، اس کی تقدیر اور امید نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے‘‘۔ علامہ اقبال نوجوانوں کو شاہین کہتے تھے۔ بانئی پاکستان چاہتے تھے کہ ایسی ریاست تشکیل دی جائے جہاں نوجوان نسل کو اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کا مواقع میسر آ سکیں، مگر نوجوانوں کے لیے کوئی لا ئحہ عمل منظرِ عام پر نہیں آیا۔

ہر انتخابی مہم میں، ہر سیمینار و کانفرنس میں، ہر قومی دن اور اہم تقریب میں نوجوانوں کی اہمیت، ان کے جذبوں اور صلاحیتوں کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ مستقبل کی امید اور خوابوں کی تعبیر کہا جاتا ہے، مگر جب پالیسیاں بنائی جاتی ہیں تو نوجوان نظر نہیں آتے۔

نوجوان نسل کو ہر طبقہ اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور مستقبل کے سر سبز باغات دکھانے، جھوٹی امیدیں اور وعدے کرنے کے بعد انہیں زندگی کے بھپرے سمندر میں تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اب وہ سمندر میں ڈوبتا ہے یا ساحل پہ پہنچتا ہے؟

اس سےکسی کو کچھ غرض نہیں ہوتی۔ یہی نوجوان خود سے سوال کرتا ہے، اگر میں اس قوم کا قیمتی سرمایہ ہوں تو میرے حصے میں کیا آیا؟ یہ مایوسی کا اظہار نہیں بلکہ آئینہ ہے، جس میں ریاست، معاشرہ، تعلیمی ادارے، سب اپنا چہرہ دیکھ سکتے ہیں۔

ہم ایک ایسے معاشرے کا حصّہ ہیں جہاں نوجوان سب سے زیادہ زیرِ بحث رہتے ہیں۔ سیاست ہو یا معیشت، تعلیم ہو یا ٹیکنالوجی، کھیل ہوں یا قومی تقریبات، ہر جگہ نوجوانوں کا ذکر ہوتا ہے۔ الفاظ کی دنیا میں شاید ہی کسی نسل کو اتنی اہمیت ملی ہو، لیکن حقیقت کی زمین پر قدم رکھتے ہی یہی نوجوان خود کو سوالوں، رکاوٹوں اور غیر یقینی کے جنگل میں کھڑا پاتے ہیں۔

ایک لمحے کے لیے تمام نعروں کو ایک طرف رکھ دیجیے اور صرف ایک سوال پر غور کیجیے۔ اگر واقعی نوجوان اس قوم کی سب سے بڑی طاقت ہیں تو ان کے حصے میں کیا آیا؟ کیا انہیں ایسا تعلیمی نظام ملا جو ان کی صلاحیتوں کو جلا بخش سکے؟ کیا انہیں ایسا روزگار ملا جس سے ان کی محنت کی قدر ہو؟ کیا انہیں ایسا ماحول ملا جہاں ان کے خواب حقیقت بن سکیں؟

کہا جاتا ہے، معاشرے کو سنوارو، معیشت کو مضبوط کرو، قانون کا احترام کرو، ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرو، دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرو۔ لیکن کسی نے یہ سوچا کہ جس نسل کے کاندھوں پر اتنی بڑی ذمہ داریاں رکھی جا رہی ہیں، ان کو مضبوط بنانے کے لیے بھی کچھ کیا گیا؟

نوجوان ملک کا ایک بڑا اثاثہ ہیں، مگر ان سے خاطر خواہ فائدہ حاصل نہ تو کیا جا رہا ہے، نہ ہی ان کے لیے کچھ ٹھوس اقدامات تاحال کیے گئے۔ اگر یہ نسل درست سمت پہ چل پڑے، اپنی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کر سکے تو ملک کی ترقی میں اپنا کردار بہ خوبی ادا کرسکتے ہیں۔

آج کے دور میں تعلیمی حالت زار سب پہ عیاں ہیں۔ باپ اپنی ساری جمع پونجی اولاد پہ اس لیے نچھاور کر تے ہیں کہ وہ مستقبل میں ان کا سہارا بنیں گے، مگر ان کی امیدیں اس وقت ختم ہو جاتی ہیں جب بیٹے ملازمت کے حصول کے لیےآئے دن ٹیسٹ، انٹرویو کے چکر لگاتے لگاتے اپنی عمر کا سنہری دور گزار دیتے ہیں۔

اس وقت شدید ذہنی کوفت اور اذیت سے گزر رہے ہوتے ہیں اور وہ چاہ کر بھی خاندان کی اُمیدیں پوری نہیں کر پاتے۔ انہوں نے جو کچھ سوچ کر تعلیمی کیرئر شروع کیا تھا اس کی توقعات یہ نظام پوری نہیں کرسکا۔ خالی جیب کے ساتھ، خاندان اور معاشرے کی بھی تنقید جھیلنا پڑتی ہے یہ وہ کرب ہوتا ہے جسے بیان کرنا ممکن نہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ، نوجوانوں کے لیے نہ تو خاطر خواہ تحقیقی ادارے ہیں اور نہ ہی ملازمت کے وسیع مواقع۔ نہ ہی کاروبار کی شروعات کے کوئی حکومتی اقدامات اور نہ ہی آسان قرضوں کی فراہمی کا کوئی شفاف نظام ہے۔ تحقیق کا دائرہ تنگ ہے تو کھیل کے میدان ویران، آرٹ اور فن کے اظہار کے مواقع میسر ہیں اور نہ ہی فنی تعلیم کا وسیع انتظام ہے۔

اس بے یقینی کی کیفیت میں ہزاروں کی تعداد میں نوجوان دوسرے ممالک ہجرت کر رہے ہیں، جوصرف نوجوانوں کی نہیں بلکہ صلاحیتوں، اثاثے، خوابوں اور مستقبل کی بھی ہجرت ہے۔ یوں ملک کے اثاثے سے غیر اقوام فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

کسی بھی قوم کی ترقی کا فیصلہ اس بات سے نہیں ہوتا کہ وہ اپنے نوجوانوں کی کتنی تعریف کرتی ہے، بلکہ اس سے ہوتا ہے کہ وہ ان کے لیے کتنے دروازے کھولتی ہے۔ کیونکہ تعریف سے حوصلہ ضرور ملتا ہے، مگر مستقبل صرف مواقع سے بنتا ہے

نوجوان سے مزید