• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں سالانہ 1 لاکھ 90 ہزار 308 نئے کینسر کیسز

کراچی(رفیق مانگٹ)پاکستان میں سالانہ 1 لاکھ 90 ہزار 308 نئے کینسر کیسز،1 لاکھ 19 ہزار 742 اموات ،چھاتی کا کینسر پاکستان میں سرفہرست، 2024 میں 43 ہزار  نئے کیسز ،پاکستان میں کینسر کا بوجھ سنگین ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر کے  2024 کے تخمینے کے مطابق پاکستان میں ایک سال کے دوران 1 لاکھ 90 ہزار 308 نئے کینسر کیسز اور 1 لاکھ 19 ہزار 742 اموات کا اندازہ ہے۔ ان اعداد میں جلد کے بعض مخصوص کینسر بھی شامل ہیں، جنہیں الگ کرنے کے بعد نئے کیسز کی تعداد 1 لاکھ 86 ہزار 233 بنتی ہے۔2022 کے عالمی تخمینے میں پاکستان میں 1 لاکھ 85 ہزار 748 نئے کیسز اور 1 لاکھ 18 ہزار 631 اموات کا اندازہ لگایا گیا تھا۔  2024 کے اعداد کے مطابق پاکستان میں چھاتی کا کینسر سب سے زیادہ عام ہے، جس کے 43 ہزار 721 نئے کیسز کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس کے بعد بڑی آنت اور مقعد کے 10 ہزار 544، خون  کے نظام کے ایک قسم کے سرطان کے 10 ہزار 66، پروسٹیٹ کے 9 ہزار 901 اور ہونٹ و منہ کے اندرونی حصے کے 9 ہزار 474 نئے کیسز کا اندازہ ہے۔مثانے کے 8 ہزار 419، پھیپھڑوں کے 8 ہزار 151، دماغ اور اعصابی نظام کے 8 ہزار 3، جگر کے 6 ہزار 952 اور خون کے ایک سرطان لیوکیمیا کے 5 ہزار 736 نئے کیسز کا بھی تخمینہ ہےکینسر کی جینیاتی ساخت جانچنے والے جدید ٹیسٹ کی سہولت رکھنے والے ماہرین میں سے 55.9 فیصد نے بتایا کہ ان کے نصف سے بھی کم مریض یہ ٹیسٹ برداشت کر سکتے ہیں۔تشخیص کے وقت کے بارے میں 19.8 فیصد ماہرین نے بتایا کہ نتائج سات دن کے اندر مل جاتے ہیں، 67.6 فیصد نے سات سے 14 دن اور 12.6 فیصد نے 14 دن سے زیادہ وقت بتایاکینسر کا مکمل قومی ریکارڈ موجود نہیں،،پاکستان میں کینسر کے مریضوں کا مکمل اور مربوط قومی ریکارڈ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ 2025 میں شائع ہونے والے ایک جامع جائزے میں پاکستان میں 17 کینسر رجسٹریاں شناخت کی گئیں، لیکن ملک کے 129 شہروں میں سے صرف 19 شہر کم از کم ایک رجسٹری کو کینسر کا ڈیٹا فراہم کر رہے تھے۔2026 کے قومی سروے میں بھی صرف 52.3 فیصد ماہرین نے بتایا کہ ان کے مریض باقاعدگی سے کینسر کے ریکارڈ میں درج کیے جاتے ہیں، جبکہ 29.7 فیصد نے کہا کہ ان کے ادارے ایسے ریکارڈ میں حصہ نہیں لیتے۔ستمبر میں شائع ہونے والی ایک الگ پاکستانی تحقیق میں مختلف کینسرز کے علاج کے نتائج کا دنیا کے بہتر کارکردگی والے ممالک سے موازنہ کیا گیا۔ تحقیق میں علاج کے نتائج میں فرق ناپنے کا ایک تحقیقی پیمانہ استعمال کیا گیا۔اس پیمانے پر معدے کا کینسر 0.60 کے ساتھ سب سے زیادہ فرق رکھنے والا کینسر تھا۔ اس کے بعد جلد اور جسم کے بعض حصوں کو متاثر کرنے والا نایاب سرطان کپوسی سارکوما 0.58، جلد کا میلانوما 0.50، ہونٹ و منہ کے اندرونی حصے کا کینسر 0.49 اور چھاتی کا کینسر 0.41 پر تھا۔تحقیق میں رحم کے منہ کے کینسر کا فرق 0.40، پتہ کے کینسر کا 0.40 اور ناک و حلق کے کینسر کا 0.39 رپورٹ ہوا۔ اس پیمانے کا زیادہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اور بہتر کارکردگی والے ممالک کے درمیان علاج کے نتائج میں زیادہ فرق موجود ہے۔محققین نے واضح کیا کہ کم یا زیادہ اسکور کا مطلب کینسر کے مریضوں کی تعداد کم یا زیادہ ہونا نہیں بلکہ علاج کے نتائج میں فرق ہے۔

اہم خبریں سے مزید