• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنوبی ایشیا کے تین بڑے ممالک میں کینسر کا موازنہ

کراچی(رفیق مانگٹ)جنوبی ایشیا کے تین بڑے ممالک میں کینسر کا موازنہ،، بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش میں کیسز، اموات، علاج اور مالی بوجھ کی مختلف تصویر،پاکستان میں قومی کینسر رجسٹری کا فقدان، 129 شہروں میں سے صرف 19 سے کینسر ڈیٹا دستیاب،ھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش میں کینسر کا بوجھ لاکھوں نئے مریضوں اور بڑی تعداد میں اموات کی صورت میں سامنے آ رہا ہے، تاہم تینوں ممالک میں کینسر کی تشخیص، قومی ریکارڈ، علاج کی سہولیات اور مالی تحفظ میں نمایاں فرق موجود ہے۔  اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں سالانہ تقریباً 15 لاکھ 70 ہزار نئے کینسر کیسز اور 8 لاکھ 69 ہزار سے 9 لاکھ تک اموات ہوتی ہیں، پاکستان میں نئے کیسز کی تعداد تقریباً 1 لاکھ 90 ہزار اور اموات تقریباً 1 لاکھ 20 ہزار جبکہ بنگلہ دیش میں نئے کیسز کا تخمینہ 1 لاکھ 67 ہزار سے 1 لاکھ 87 ہزار اور اموات 1 لاکھ 17 ہزار سے 1 لاکھ 39 ہزار کے درمیان ہے۔ کینسر کے قومی ریکارڈ کے حوالے سے بھارت تینوں ممالک میں نسبتاً مضبوط نظام رکھتا ہے، جہاں قومی سطح پر کینسر کے اعدادوشمار جمع کیے جاتے ہیں، جبکہ پاکستان میں جامع قومی کینسر رجسٹری کا فقدان ہے۔  پاکستان کے 129 شہروں میں سے صرف 19 شہر کینسر کا ڈیٹا فراہم کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں بھی مکمل قومی کینسر رجسٹری موجود نہیں، جس کے باعث ملک میں کینسر کے حقیقی بوجھ کا اندازہ لگانے کے لیے تخمینوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ کینسر کی مختلف اقسام میں بھی تینوں ممالک میں نمایاں تعداد سامنے آتی ہے۔ چھاتی کے کینسر کے بھارت میں تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، جبکہ پاکستان میں یہ تعداد 43 ہزار 721 ہے۔ منہ اور ہونٹ کے کینسر کے کیسز بھارت میں تقریباً 2 لاکھ 6 ہزار، بنگلہ دیش میں 14 ہزار 889 اور پاکستان میں 9 ہزار 474 بتائے گئے ہیں۔ پھیپھڑوں کے کینسر کے نئے کیسز بھارت میں تقریباً 1 لاکھ 13 ہزار، بنگلہ دیش میں 21 ہزار 695 اور پاکستان میں 8 ہزار 151 ہیں۔ اسکریننگ کے معاملے میں بھارت نے بڑے پیمانے پر قومی پروگرام قائم کیے ہیں، جبکہ پاکستان اور بنگلہ دیش میں اسی سطح کی وسیع قومی سہولت دستیاب نہیں۔ تشخیص اور علاج کی سہولیات میں بھی نمایاں فرق موجود ہے۔ پاکستان کے 2026 کے ایک قومی سروے کے مطابق 99.1 فیصد اداروں میں سی ٹی اسکین، 87.4 فیصد میں ایم آر آئی اور 57.7 فیصد میں پی ای ٹی اسکین کی سہولت دستیاب تھی۔ ریڈیوتھراپی کے لیے پاکستان میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے 19 کینسر اسپتال اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم یہ سہولیات ملک کے تمام علاقوں میں یکساں طور پر دستیاب نہیں۔ بھارت میں ریڈیوتھراپی کی تقریباً 700 سے 750 مشینیں موجود ہیں، لیکن سہولیات بڑی حد تک شہری مراکز میں مرکوز ہیں؛  740 اضلاع میں صرف 120 اضلاع میں ریڈیوتھراپی کی سہولت موجود ہے، جبکہ تقریباً 93 کروڑ 40 لاکھ دیہی آبادی کے لیے رسائی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بنگلہ دیش میں صورت حال مزید دشوار ہے، جہاں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ریسرچ اینڈ ہسپتال میں تقریباً 7 ہزار 500 مریض ریڈیوتھراپی کے منتظر بتائے گئے، جبکہ 8 مشینوں میں سے صرف 2 فعال تھیں۔کینسر علاج کا مالی بوجھ بھی تینوں ممالک میں مریضوں اور خاندانوں کے لیے اہم مسئلہ ہے۔ بھارت میں کینسر کے علاج کے 70 سے 80 فیصد اخراجات مریض اپنے وسائل سے ادا کرتے ہیں اور  75 فیصد سے زائد گھرانے تباہ کن طبی اخراجات کا سامنا کرتے ہیں۔ پاکستان میں 60 فیصد سے زائد علاج کے اخراجات جیب سے ادا کیے جانے کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ 2026 کے سروے میں 94.6 فیصد کینسر ماہرین نے مالی رکاوٹ کو علاج تک رسائی کی بڑی مشکلات میں شمار کیا۔ بنگلہ دیش میں تقریباً 90 فیصد خاندان کینسر کے علاج کے دوران شدید مالی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں   بھارت میں کینسر کی تشخیص، رجسٹری، اسکریننگ اور علاج کا نظام پاکستان اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں زیادہ وسیع ہے، تاہم وہاں بھی علاج کے بلند نجی اخراجات اور دیہی علاقوں میں سہولیات کی کمی بڑے مسائل ہیں۔ پاکستان کو قومی کینسر رجسٹری، جغرافیائی طور پر متوازن علاج اور مالی تحفظ کے شعبوں میں بڑے خلا کا سامنا ہے، جبکہ بنگلہ دیش میں قومی رجسٹری کی عدم تکمیل، ریڈیوتھراپی کی شدید قلت اور علاج کے بھاری مالی اخراجات نمایاں چیلنجز ہیں۔

اہم خبریں سے مزید