• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں نے درست فیصلہ کیا: روس سے ڈیزل خریدنے پر تنقید کے باوجود ٹرمپ اپنے مؤقف پر ڈٹ گئے

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے ڈیزل خریدنے کے معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے امریکی عوام کے مفاد میں درست فیصلہ کیا ہے۔ 

امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے روس سے ڈیزل خریدنے کے معاہدے پر ری پبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں کے بعض رہنماؤں کے علاوہ یوکرین اور یورپی حکام نے بھی اعتراضات اٹھائے ہیں۔

مخالفین کا کہنا ہے کہ روس سے ایندھن خریدنے کی اجازت یوکرین جنگ کے تناظر میں روس پر دباؤ ڈالنے کی امریکی پالیسی کو کمزور کرسکتی ہے اور ماسکو کو مالی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔

امریکی صدر نے اب اس حوالے سے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر دعویٰ کیا کہ یورپی یونین نے روس سے ڈیزل کی خریداری پر 250 ارب ڈالرز خرچ کیے لیکن امریکی میڈیا اس معاملے کو نمایاں نہیں کرتا۔ 

انہوں نے مزید لکھا کہ میں نے امریکی عوام کے لیے درست انتخاب کیا اور میری پالیسی ہمیشہ ’امریکا فرسٹ‘ رہے گی۔

ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ 250 ارب ڈالرز کا تخمینہ کس مدت پر مبنی ہے۔ تاہم، یہ رقم یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے یورپی یونین کے روسی توانائی کی درآمدات پر ہونے والے اخراجات کے اندازوں سے مطابقت رکھتی ہے۔ 

یورپی یونین اس دوران روسی توانائی پر انحصار ختم کرنے کے منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ روس فوری طور پر امریکا کو 3 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کرے گا، جبکہ آئندہ مزید بڑی مقدار میں ایندھن کی فراہمی بھی متوقع ہے۔ 

اس معاہدے کے لیے امریکی انتظامیہ نے روسی ایندھن پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی کی ہے۔

ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ روس سے ڈیزل منگوانے سے امریکا میں ایندھن کی قیمتیں کم کرنے اور کسانوں و مویشی پالنے والوں کو ریلیف دینے میں مدد مل سکتی ہے۔ امریکا میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے صارفین اور کاروباروں پر دباؤ بڑھایا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید