• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اختلافات کے باوجود ٹرمپ کی حمایت، ایلون مسک کا مڈ ٹرم الیکشن کیلئے27 کروڑ ڈالرز کا عطیہ

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے امریکا کے 2026ء کے مڈ ٹرم الیکشن  میں ری پبلکن پارٹی کی مدد کے لیے جولائی سے اب تک 27 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز سے زائد رقم عطیہ کر دی۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایلون مسک نے مڈ ٹرم الیکشن کے لیے جاری انتخابی مہم کے لیے سب سے زیادہ رقم عطیہ کی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایلون مسک کی جانب سے دی گئی رقم کا مقصد کانگریس میں ری پبلکن پارٹی کی اکثریت برقرار رکھنے میں مدد دینا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان عطیات کی تفصیلات سب سے پہلے امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے شائع کیں اور بعد میں ایلون مسک کی سیاسی ایکشن کمیٹی کے ترجمان نے بھی ان اعداد و شمار کی تصدیق کر دی۔

رقم کہاں خرچ کی جا رہی ہے؟

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایلون مسک نے سینیٹ کے لیے ری پبلکن کے امیدواروں کی حمایت کرنے والے سیاسی گروپ ’سینیٹ لیڈر شپ فنڈ‘ کو 15 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز دیے جبکہ ان کی اپنی سیاسی ایکشن کمیٹی ’امریکا پی اے سی‘ کو 7 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز فراہم کیے گئے۔

اس کے علاوہ ٹیکساس میں ری پبلکن سینیٹ امیدوار کین پیکسٹن کی حمایت کرنے والے گروپ کو بھی1 کروڑ ڈالرز دیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق ایلون مسک کی مالی معاونت سے وابستہ گروپ ووٹرز کو متحرک کرنے اور مختلف انتخابی حلقوں میں ری پبلکن امیدواروں کی مہم چلانے میں مصروف ہیں۔ 

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں انتخابی دور جو یکم جنوری 2025ء سے شروع ہوا، اس میں ایلون مسک کی سیاسی کمیٹیوں کو دی جانے والی مجموعی رقم تقریباً 36 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز تک پہنچ چکی ہے، یہ رقم 2024ء کے انتخابی دور میں ان کے تقریباً 29 کروڑ ڈالرز کے اخراجات سے بھی زیادہ ہے۔

ٹرمپ سے اختلاف کے بعد پھر ری پبلکنز کی حمایت

رپورٹ کے مطابق ایلون مسک کی حالیہ مالی معاونت اس لیے بھی توجہ حاصل کر رہی ہے کیونکہ انہوں نے مئی 2025ء میں کہا تھا کہ وہ مستقبل میں سیاسی اخراجات کم کر دیں گے۔

یہی نہیں اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کے اختلافات بھی سامنے آئے تھے لیکن حالیہ ہفتوں میں دونوں کے تعلقات میں دوبارہ قربت دیکھی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایلون مسک کے لیے ان انتخابات کی اہمیت اس وجہ سے بھی ہے کہ ڈیمو کریٹک پارٹی کے ارکان نے ان کی کمپنی اسپیس ایکس کو دیے گئے حکومتی معاہدوں اور محکمۂ حکومتی کارکردگی (DOGE) میں ان کے کردار کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اگر ڈیموکریٹس کانگریس میں اکثریت حاصل کرتے ہیں تو ان معاملات پر نگرانی اور تحقیقات بڑھ سکتی ہیں، تاہم یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ ایلون مسک نے اپنے عطیات کا مقصد صرف ذاتی کاروباری مفادات کا تحفظ قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈیموکریٹس نے ری پبلکنز پر الزام لگایا ہے کہ وہ بھاری مالی وسائل کے ذریعے انتخابی مقابلے میں برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 

اس حوالے سے ری پبلکن حامیوں کا مؤقف ہے کہ ان عطیات سے امیدواروں کو اپنا پیغام ووٹرز تک پہنچانے کا موقع ملتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایلون مسک کی بھاری مالی معاونت امریکی انتخابات میں دولت مند عطیہ دہندگان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور سیاسی مہمات کی مالی شفافیت سے متعلق بحث کو مزید نمایاں کر رہی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید