• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے، صدر اردوان کا دوٹوک اعلان

ترک صدر رجب طیب اردوان۔ فوٹو: فائل
ترک صدر رجب طیب اردوان۔ فوٹو: فائل

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور علاقائی سلامتی کو درپیش نئے چیلنجوں کے تناظر میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے سعودی عرب کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ترکیہ خطے میں امن و استحکام کے دفاع کے لیے اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے۔ 

انہوں نے ریاض میں حوثیوں کے حملے کی شدید مذمت کے ساتھ اعلان کیا کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے کو مؤثر اور پائیدار ادارہ جاتی ڈھانچے میں ڈھالنے کا عمل جاری ہے اور معاہدے کی داخلی منظوری کے لیے اسے آئندہ دنوں میں ترک پارلیمان میں پیش کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

ترک کابینہ کے اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ خطے میں تنازعات کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، تاہم ترکیہ اپنے گرد بحرانوں کے باوجود استحکام، اعتماد اور امن کے ایک مضبوط مرکز کی حیثیت سے اپنی پوزیشن مستحکم کر رہا ہے۔ ان کے مطابق لبنان سے یمن اور ایران تک پھیلے ہوئے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور بالخصوص پراکسی قوتوں کے ذریعے مختلف مقاصد حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ علاقائی مسائل کے حل کے لیے خطے کے ممالک کی مشترکہ ذمہ داری اور باہمی تعاون پر یقین رکھتا ہے۔ اختلافات کو میدانِ جنگ میں لے جانے کے بجائے مذاکرات، مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا باہمی احترام ترکیہ کے اصولی مؤقف کی بنیاد ہے۔

صدراردوان نے خبردار کیا کہ خطے کو تقسیم اور انتشار سے دوچار کرنے کی کوششیں صرف ان شرپسند عناصر کے مفادات پورے کریں گی جو پورے علاقے کو خون میں نہلانا چاہتے ہیں۔

ریاض پر حملے کی شدید مذمت، سعودی عرب سے اظہارِ یکجہتی

صدر اردوان نے 10 اکتوبر کو حوثیوں کی جانب سے ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے والے حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔ ان کے مطابق اس حملے میں 12 افراد جاں بحق اور 309 زخمی ہوئے۔

انہوں نے جاں بحق ہونے والوں، جن میں عمرے کی ادائیگی کے لیے آنے والے افراد بھی شامل تھے، کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

ترک صدر نے واضح کیا کہ ترکیہ قانون اور انسانیت کے منافی ایسے حملوں کے مقابلے میں سعودی عرب اور اس کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

مشترکہ دفاعی معاہدہ ترک پارلیمان میں پیش کرنے کی تیاری

صدر اردوان نے ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 7 اگست کو طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس کے لیے ضروری ادارہ جاتی ڈھانچہ تشکیل دینے کا عمل جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ دفاعی تعاون کو دو بنیادی خطوط پر آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ پہلی ترجیح اجتماعی دفاع اور علاقائی تعاون کے اہداف کا حصول ہے، جبکہ دوسری ترجیح اس تعاون کو ایک پائیدار، مؤثر اور فعال ادارہ جاتی نظام میں ڈھالنا ہے۔

صدر اردوان نے واضح کیا کہ نیٹو کی طرح مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ہونے والی سرگرمیاں بھی ترکیہ کے قومی قوانین اور قانونی ضوابط کے مطابق انجام دی جائیں گی۔

انہوں نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کیا جن کے ذریعے ترکیہ کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ کو کسی دوسرے رنگ میں پیش کرنے کی ایسی باتوں کی کوئی حقیقت نہیں۔

ترک صدر کے مطابق مشترکہ دفاعی معاہدے کی داخلی منظوری کے مراحل مکمل کرنے کے لیے اسے آئندہ دنوں میں ترک پارلیمان میں پیش کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔

امن و استحکام ترکیہ کی بنیادی ترجیح

صدر اردوان نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ترکیہ کا مؤقف، اس کی حساسیتیں اور اس کے اصول واضح ہیں۔ ترکیہ علاقائی تنازعات کو نسلی یا فرقہ وارانہ عینک سے نہیں دیکھتا بلکہ پورے خطے میں امن اور استحکام کا قیام چاہتا ہے۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ترکیہ علاقائی تعاون اور مشترکہ ذمہ داری کے اصولوں کی بنیاد پر امن کا دفاع کرتا رہے گا اور اس مقصد کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید