• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

11 اکتوبر 2024ء کو ایک بار پھر کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور یوں ایک بار پھر ایک منتخب حکومت کو تحلیل کر دیا گیا جو بہرحال اس صوبے کیلئے کوئی نئی بات نہیں بس سوال یہ ہے جو دہشت گردی، انتہا پسند ی جنرل مشرف کے فوجی دور میں ختم نہ ہو سکی وہ ایک غیر منتخب غیر جمہوری حکومت کیسے ختم کر سکے گی؟ پاکستان تحریک انصاف اس صوبے میں 2013ءسے تیسری بار مسلسل حکومت میں ہے اس پر اب طالبان کی سہولت کاری کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ سوال سادہ سا ہے کہ یہ جنگ کیسے شروع ہوئی، کس نے پشت پناہی کی اور کیا اب ہم اس سے نجات حاصل کر پائینگے؟’ غیر مقبول‘ فیصلے بھی مقبول لوگ لیا کرتے ہیں۔ بہر کیف یہ ایمرجنسی کا دور طویل نظر آتا ہے ہماری تاریخ آگے جانے کے بجائے پیچھے جاتی نظر آتی ہے، بہرحال بقول فیض صاحب

لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

رہ گئی بات دہشت گردی اور ’طالبان فیکٹر‘ کی تو یہ بھی حقیقت ہے کہ کہیں باہر سے نہیں گھر سے اٹھا ہے فتنہ ؍شہر میں اپنے ہی دفتر سے اٹھا ہے فتنہ۔ ایک بار میں نے اپنے زمانے کے ایک انتہائی متنازع بیوروکریٹ روئیداد خان مرحوم سے پوچھا، سول سروس میں آنے کے بعد آپ کا پہلا اسائمنٹ کیا تھا تو انہوں نے کہا،’’ میں ان24سول سرونٹ میں سے تھا جنہوں نے 1949ءمیں پاکستان سول سروس جوائن کی12 مشرقی پاکستان کے اور12مغربی پاکستان۔مجھے سب سے پہلے صوبہ سرحد میں( کے پی کا سابقہ نام) بھیجا گیا سرخ پوش تحریک اور کمیونسٹوں کیخلاف کریک ڈاؤن کرنے کیلئے جن میں سیاستدان بھی شامل تھے اور صحافی بھی‘‘۔ اس کریک ڈاؤن کے نتیجے میں بہت سے سیاسی کارکن اور لیڈرز، زیرزمین چلے گئے یا افغانستان۔ بس یوں سمجھیں کہ یہ ابتدا تھی کے پی سے بائیں بازو کی نظریاتی سیاست کے خاتمے کی۔ روئیداد خان کہتے ہیں،’’ ریاست، مسلم لیگ کے اندراور باہر بائیں بازو کی بڑھتی ہوئی مقبولیت خاص طور پر بنگال میں ،سے خوف زدہ ہوگئی تھی ۔ شاید1958 ءکا مارشل لا لگانے کی بڑی وجہ بھی یہی تھی۔ کے پی، بلوچستان اور سندھ میں نیشنل عوامی پارٹی کو پذیرائی مل رہی تھی لہٰذا ’ون یونٹ‘ کا فیصلہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔‘‘70کی دہائی میں بھارت میں کانگریس کے مقابلے میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، ایران میں کمیونسٹ تو دہ پارٹی، پاکستان میں بائیں بازو کے اتحاد نیپ کی لہر نے امریکہ کو پریشان کر دیا تھا۔ اس زور کو توڑنے کیلئے ایک طرف ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگایا تو دوسری طرف شاہ ایران کے دباؤ میں عراقی ایمبیسی میں’ اسلحہ‘ کی موجودگی کا ڈرامہ رچایا گیا اور پھر بلوچستان میں ایک منتخب حکومت کو برطرف کرکے نیپ اور بلوچ سیاست کو دیوار سے لگادیا گیا۔ یہ ابتدا تھی اس بحران کی جسکی ایک شکل آج ہم اس صوبے میں دیکھ رہے ہیں۔ کے پی میں نیپ اور جمعیت علما اسلام کی منتخب حکومت نے بطور احتجاج استعفیٰ دیدیا۔ بظاہر بلوچستان کو برطرف کرنے میں1973ءکے آئین میں دی گئی شقوں کا سہارا لیا گیا جس طرح1973ءکے آئین کی منظوری کے فوراً بعد ملک میں ایمرجنسی لگا دی گئی تھی اور بنیادی انسانی حقوق معطل کردئیے گئے تھے۔ ویسے تو ہم نے1977ء کی تحریک کو کچلنے کیلئے کراچی، حیدرآباد اور لاہور میں سویلین ادوار میں’مارشل لا‘ بھی لگتے دیکھا ہے مگر ابھی بات’ایمرجنسی‘ تک ہے شکر ہے ایک اور 12اکتوبر نہیں ہوا۔اس طرح کے اقدامات سے دراصل ہماری سویلین حکومتیں جواز پیدا کرتی ہیں ’ آئین‘ کا سہارا لیکر غیر جمہوری اقدام کا۔ وہ کہا ہے نا شاعر نے ’’چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں‘‘۔ اور پھر یہی ہوا 5جولائی1977ء کو نہ ختم ہونیوالا مارشل لالگادیا گیا جس کیخلاف ایک تاریخی جدوجہد کا آغاز ہوا مگر اس سے پہلے ایک منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کوپھانسی دیدی گئی۔ یہی نہیں جنرل ضیاء نے ایک طرف بھٹو دور میں جیل میں قید نیپ کے رہنماؤں کو رہا کرکے بھٹو اور پی پی پی کیخلاف کھڑا کرنیکی کوشش کی تو دوسری طرف ‘نظام مصطفیٰ‘ کا نعرہ لگانے والے پاکستان قومی اتحاد کے رہنماؤں اور جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش بھی کی90روز میں الیکشن وعدے پر۔ مگر جلد ہی ان جماعتوں کو احساس ہوگیا کہ ضیاء انکو استعمال کررہا ہے بھٹو کی پھانسی تک۔ایران اور افغانستان میں آنیوالی تبدیلیوں کے نتیجے میں امریکہ کیلئے پاکستان کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی۔ ایک طرف ایرانی اسلامی انقلاب کا راستہ روکنا تو دوسری طرف روس کے افغانستان میں آنے کے بعد کمیونسٹ انقلاب کا راستہ روکنا۔ اس سارے کام کیلئے تہران میں امریکی سفارتخانہ بند ہونے کے بعد اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانہ سی آئی اے کا اس خطے میں عملاً ہیڈ کوارٹر بن گیا ،جنرل ضیاء سے بہتر آدمی کون تھا’ افغان جہاد‘ کیلئے۔ یہ ابتدا تھی آنیوالے وقت میں کے پی اور بلوچستان سمیت دیگر صوبوں میں دائیں بازو اور بعض مذہبی جماعتوں کی مدد سے بائیں بازو کے رجحان کو روکنے کی گوکہ اسکا بنیادی ٹارگٹ پی پی پی تھی۔ تاہم پنجاب میں میاں نواز شریف کی شکل میں ایک طرف دائیں بازو کی سیاست کو فروغ دیا گیا کیونکہ مذہبی جماعتوں کو حمایت نہیں مل رہی تھی اور JUIنے اپنا جمہوری راستہ چھوڑنے سے انکار کردیا تھا۔ وہ جہاد افغانستان کے بھی حامی تھے اور ملک میں آمریت کے خاتمہ کے بھی اسی لئے جمہوری تحریک کا حصہ رہے۔ ’طالبان فیکٹر‘ کے پس پردہ کرداروں میں جنرل اختر عبدالرحمان، جنرل حمید گل اور پی پی پی کے جنرل نصیر اللہ بابر کا نام آتا ہے۔ ایک بار جنرل حمید گل نے ایک انٹرویو میں مجھے بتایا، ’’محمد خان جونیجو کی حکومت جینوا اکارڈ کی وجہ سے گئی اور بعد میں ،میں نے خود محترمہ بینظیر پر واضح کر دیا تھا کہ ہماری افغان پالیسی کیا ہوگی‘‘۔ حمید گل مرحوم بعد میں یہی کام عمران خان سے کروانا چاہتے تھے۔ یوں ہم نے اس ملک کو انتہا پسندی کی طرف دھکیل دیا اور آج اسکی قیمت ادا کررہے ہیں۔ دہشت گردی کی جو لہر11/9سے پہلے اور بعد میں آئی وہ اب ایک ’کینسر‘ کی طرح ہمارے معاشرے میں انتہا پسندی کی شکل میں پھیل چکی ہے۔ عمران تو پہلے دن سے افغانستان کے حوالے سے طالبان کیلئے ایک نرم گوشہ رکھتے ہیں اس وقت بھی جب ریاست طالبان کیساتھ تھی اور آج بھی جب ہماری پالیسی ان کیخلاف ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ عمران تو ایک فرد تھا مقبول تھا کرکٹ کے ہیرو کے طور پر اسکو سیاست میں لایا کون، کس نے پشت پناہی کی اب جبکہ وہ مقبول ترین اور تحریک انصاف سب سے بڑی پارٹی ہے2013ء سے کے پی میں جیت رہی ہے تو وہ تواپنے انداز میں ہی ’دہشت گردی‘ سے لڑینگے اور آپریشن کے مخالف رہیں گے چاہے وہ علی امین ہوں یا سہیل آفریدی۔ کبھی سرخ پوش، کبھی نیپ تو کبھی اے این پی کو ختم کرینگے تو یہی’’ فیکٹر‘ سامنے آئیگا اب چاہے نواز شریف ہو، آصف زرداری ہو یا کوئی اور ہو۔ طویل بحث ہے بس تاریخ سے سبق سیکھیں۔ غیر جمہوری رویہ آئینی بھی ہوتو وہ غیر جمہوری ہی رہے گا۔

تازہ ترین