• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وائٹ ہاؤس کی تردید کے باوجود امریکا و اسرائیل کا انتخابات سے قبل ایران پر نئے حملوں پر غور

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

ایک امریکی میڈیا ویب سائٹ پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے دونوں ممالک میں ہونے والے آئندہ انتخابات سے قبل ایران کے خلاف ایک بڑے نئے فوجی آپریشن کے آغاز پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔

امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق معاملے سے آگاہ 2 امریکی عہدیداروں اور دیگر ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ بات چیت ٹرمپ کے اس عوامی بیان سے قبل ہوئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا کے وسطِ مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ نیتن یاہو نے اسرائیلی انٹیلی جنس کی ایسی معلومات پیش کیں جن کے مطابق ایران اپنے جوہری پروگرام کی بحالی کے لیے کام کر رہا ہے، ان سرگرمیوں میں مبینہ طور پر یورینیئم کی افزودگی کے لیے پِک ایکس ماؤنٹین (Pickaxe Mountain) کے مقام کو استعمال کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے اس دعوے کو غلط قرار دیا کہ دونوں رہنماؤں نے جنگ دوبارہ شروع کرنے پر بات کی تھی۔

عہدیدار کے مطابق ٹرمپ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملوں کے امکان کو مسترد کر چکے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی افواج بدستور ہائی الرٹ ہیں اور اس صورتِ حال کے لیے تیاریاں مکمل کر رہی ہیں کہ اگر ٹرمپ نے اپنی پالیسی تبدیل کی تو فوجی کارروائی کی جا سکے۔

ایک امریکی عہدیدار نے ٹرمپ کے مؤقف کو غیر حتمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نیتن یاہو سے تیاری جاری رکھنے کو کہا ہے، تاہم کسی کارروائی کی واضح یقین دہانی نہیں کرائی۔

رپورٹ کے مطابق امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اور امریکی سینٹرل کمانڈ کی قیادت ایران پر نئے حملوں کے سب سے بڑے حامی ہیں، جبکہ زیادہ تر مشیر پابندیوں اور معاشی دباؤ کا سلسلہ جاری رکھنے کے حق میں ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین کو بتایا ہے کہ اگر آئندہ 3 ہفتوں کے دوران لڑائی شروع ہوئی تو اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات ملتوی کرنا پڑ سکتے ہیں، کیونکہ میزائل حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے کارروائی کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق قطری ثالث اب بھی امریکا کی جانب سے پیش کردہ تازہ ترین جوابی تجویز پر ایران کے ردِعمل کے منتظر ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید