بھارتی ریاست اتراکھنڈ کی وزیر برائے خواتین و اطفال ریکھا آریہ نے اپنے شوہر گِردھاری لال ساہو کے خلاف تشدد، ذات پات کی بنیاد پر توہین، دھوکا دہی اور قتل کی سازش کا مقدمہ درج کروا دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ریکھا آریہ نے الزام لگایا ہے کہ میرے شوہر نے پہلی شادی چھپائی، دوسری خواتین سے ناجائز تعلقات قائم کیے اور مجھے قتل کرنے کی سازش کی، شوہر نے سرکاری رہائش گاہ پر عملے کے سامنے ذات پات کی بنیاد پر توہین کی، تشدد کیا اور قتل کی دھمکیاں بھی دیں۔
خاتون وزیر نے دعویٰ کیا ہے کہ مجھے ایک آن لائن ریکارڈنگ ملی ہے جس میں میرے شوہر مبینہ طور پر ایک خاتون سے میرے قتل کی سازش پر بات کر رہے ہیں، میری اور میرے کم عمر بچوں کی جان کو خطرہ ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس کو درج کروائی گئی شکایت کے مطابق دونوں کی شادی 6 جولائی 2004ء کو ہندو رسومات کے تحت ہوئی تھی، شوہر نے خود کو غیر شادی شدہ بتایا تھا تاہم ریکھا آریہ کو چند سال بعد معلوم ہوا کہ ان کے شوہر پہلے سے شادی شدہ اور بچوں کے والد ہیں۔
خاتون وزیر کا کہنا ہے کہ بچوں کے مستقبل کے لیے میں خاموش رہی لیکن حالیہ عرصے میں شوہر کا رویہ بدل گیا ہے اور مبینہ طور پر تشدد میں اضافہ بھی ہوا ہے۔
خاتون وزیر نے الزام لگایا ہے کہ شوہر نے بعض کمپنیوں میں ڈائریکٹر کے عہدے سے مجھے ہٹانے کے لیے میرے جعلی دستخط استعمال کیے،حالانکہ میں نے نہ کوئی ایسی دستاویز بنائی اور نہ استعفیٰ دیا۔
پولیس کے مطابق خاتون وزیر کی شکایت پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، مقدمے میں مجرمانہ سازش، دھوکا دہی، جعل سازی، دوسری شادی، تشدد، دھمکیوں کی روک تھام کے قانون کی دفعات شامل ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ریکھا آریہ کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی سے ہے اور وہ رکن اسمبلی ہیں۔