• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی و سعودی جوہری معاہدہ کیا حتمی شکل اختیار کر پائے گا؟

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

امریکی ڈیموکریٹ سینیٹرز جیف مرکلے اور ایڈورڈ مارکی نے سعودی عرب کے ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کے مجوزہ پُرامن جوہری تعاون کے معاہدے کے خلاف مشترکہ قرارداد پیش کر دی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز پیش کی گئی قرار داد کے نتیجے میں 29 نومبر کے بعد سینیٹ میں اس معاہدے کے خلاف ووٹنگ کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

اس قرارداد کے ذریعے قانون سازوں کو معاہدے کو مسترد کرنے کا موقع ملے گا، یہ معاہدہ امریکی جوہری توانائی ایکٹ 1954ء کی دفعہ 123 کے حوالے سے ’123 معاہدہ‘ کہلاتا ہے اور اس کا مقصد سعودی عرب کے ساتھ شہری جوہری تعاون کو ممکن بنانا ہے۔

سینیٹرز کے مطابق کانگریس میں جائزے کے مقررہ طریقہ کار کے تحت معاہدہ 90 روزہ جائزہ مدت مکمل ہونے کے بعد نافذ العمل ہو جائے گا، بشرطیکہ کانگریس اسے مسترد کرنے کے لیے مشترکہ قرارداد منظور نہ کرے۔

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سینئر رکن جیف مرکلے نے معاہدے پر اعتراض کیا ہے کہ مجوزہ معاہدے میں ایسے ضروری حفاظتی اقدامات موجود نہیں جو سعودی عرب کو شہری جوہری ٹیکنالوجی کے ذریعے جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روک سکیں۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب کو امریکی شہری جوہری توانائی کی ٹیکنالوجی تک رسائی دینا، بغیر ایسی ٹھوس ضمانتوں کے جو اس ٹیکنالوجی کو جوہری بم کی تیاری کی بنیاد بننے سے روک سکیں، ناقابلِ قبول ہے۔

جیف مرکلے نے مطالبہ کیا ہے کہ سعودی عرب یورینیئم کی افزودگی اور استعمال شدہ جوہری ایندھن کی دوبارہ پراسیسنگ پر پابندیاں قبول کرے، جبکہ بین الاقوامی معائنوں کے نظام کو بھی مزید مؤثر بنایا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ معاہدے کے نفاذ سے پہلے کانگریس کو اس کا تفصیلی جائزہ لینا چاہیے۔

دوسری جانب سینیٹر ایڈورڈ مارکی نے بھی مجوزہ معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شہری جوہری تعاون کے معاہدوں کے لیے جوہری عدم پھیلاؤ کے حامیوں کے مقرر کردہ اعلیٰ ترین معیار پر پورا نہیں اترتا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اور سعودی عرب کا جوہری معاہدہ میگا واٹ کے بجائے میگا ٹن کے بارے میں ہے۔

سینیٹر ایڈورڈ مارکی کا مؤقف ہے کہ اس معاہدے سے مشرقِ وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

رواں سال اگست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری تعاون کا معاہدہ جائزے کے لیے کانگریس کو بھیجا تھا، کانگریسی طریقہ کار کے تحت قانون سازوں کو معاہدے پر غور کرنے کے لیے 90 روزہ اجلاس دستیاب ہیں۔

30 سالہ جوہری معاہدے کے تحت امریکی کمپنیاں سعودی عرب کے جوہری بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مرکزی کردار ادا کریں گی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید