امریکا میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بیماری اینڈومیٹریوسس کا شکار خواتین میں مائیگرین ہونے کے امکانات دیگر خواتین کے مقابلے میں دگنے سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔
امریکن نیورولوجیکل ایسوسی ایشن کے اجلاس میں پیش کی گئی تحقیق میں 13 ملین سے زائد خواتین پر مشتمل 35 مطالعات کا تجزیہ کیا گیا۔
محققین کے مطابق دونوں بیماریوں کے درمیان نمایاں تعلق سامنے آیا، تاہم طبی ریکارڈ میں اکثر ایسے مریضوں کی نشاندہی نہیں ہو پاتی جو بیک وقت دونوں بیماریوں کا شکار ہوں۔
اینڈومیٹریوسس ایسی کیفیت ہے جس میں یوٹریس کی اندرونی تہہ سے مشابہت رکھنے والے خلیات یوٹریس سے باہر بڑھنے لگتے ہیں، اس کے نتیجے میں سوزش، شدید درد اور حمل ٹھہرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
تحقیق کے مرکزی مصنف اور میو کلینک سے وابستہ ڈاکٹر یوہانس ووبیشیت وولڈیامینوئل کے مطابق مائیگرین اور اینڈومیٹریوسس کا علاج مختلف ماہرین کرتے ہیں اور ان کا ریکارڈ بھی الگ الگ رکھا جاتا ہے، جس کے باعث دونوں بیماریوں کے درمیان تعلق اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے۔
محققین نے بتایا ہے کہ طبی ریکارڈ میں دونوں بیماریوں کا بیک وقت شکار خواتین میں سے 90 فیصد تک کی نشاندہی نہیں ہو پائی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معمول کے طبی معائنے کے دوران اس تعلق کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔
تحقیق کی شریک مصنفہ ڈاکٹر میگن واسن نے مشورہ دیا ہے کہ مائیگرین اور اینڈومیٹریوسس کی علامات کا سامنا کرنے والی خواتین اپنے معالج سے دونوں مسائل پر بات کریں۔
ان کے مطابق اعصابی امراض کے ماہرین کو خواتین سے ماہواری کے دوران شدید درد اور تکلیف کے بارے میں پوچھنا چاہیے، جبکہ ماہرینِ امراضِ نسواں کو مائیگرین کی علامات کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
تحقیق میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ دونوں بیماریوں میں درد کے سگنلز منتقل کرنے والے بعض مشترکہ حیاتیاتی نظام ملوث ہو سکتے ہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق مائیگرین سے متعلق درد میں کردار ادا کرنے والے کیمیائی مادے سی جی آر پی کو روکنے والی ادویات ممکنہ طور پر اینڈومیٹریوسس کے درد میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
محققین نے واضح کیا ہے کہ ان ادویات کی افادیت ثابت کرنے اور دونوں بیماریوں کے درمیان تعلق کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔
یہ نتائج ایک طبی اجلاس میں پیش کیے گئے ہیں اور کسی مستند سائنسی جریدے میں اشاعت تک انہیں ابتدائی نتائج تصور کیا جائے گا۔
محققین کے مطابق دونوں بیماریوں سے متعلق آگاہی بڑھانے اور بروقت اسکریننگ کے ذریعے متاثرہ خواتین کی تشخیص اور علاج کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔