آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 20؍رمضان المبارک 1440ھ26؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
چین میں ہونیوالی عالمی ٹیکسٹائل مشینری (ITMA) نمائش کے علاوہ حکومتی نمائندگی اور بزنس کے سلسلے میں کئی بار بیجنگ اور شنگھائی جانے کا اتفاق ہوا جس کی تیز رفتار معاشی ترقی سے پیش گوئی کی جاسکتی ہے کہ چین جلد ہی دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔ گزشتہ دنوں اپنی اہلیہ نورین بیگ اور پاکستان کی معروف انٹریئر ڈیزائنرز کے ساتھ چین کے صوبے گائونڈونگ کے اہم شہروں گوانزو اور فوشان جانے کا اتفاق ہوا۔ گوانزو ہانگ کانگ سے مکائو کے شمال 175 کلومیٹر فاصلے پر واقع صنعتی و کمرشل شہر ہے جہاں سے بذریعہ سڑک صرف دو گھنٹے میں مکائو اور ہانگ کانگ پہنچا جاسکتا ہے۔ گائونزو، بیجنگ اور شنگھائی کے بعد چین کا تیسرا بڑا تجارتی شہر ہے جس کی آبادی تقریباً 13 ملین نفوس پر مشتمل ہے۔ گائونزو کی جی ڈی پی 275 ارب ڈالر، فی کس سالانہ آمدنی 21 ہزار ڈالر اور جی ڈی پی گروتھ نہایت متاثر کن 8.4% ہے۔ ایک ارب 38 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک چین میں لوگوں کے معیار زندگی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور حکومت نے لیبر فورس بڑھانے کیلئے اب ایک کے بجائے 2 بچوں کی اجازت دے دی ہے جس سے آنے والے وقتوں میں چین کی آبادی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
1992ء میں جب اپنی ٹیکسٹائل اسپننگ مل کیلئے مشینوں کی خریداری کیلئے چین جانے کا اتفاق ہوا تو زیادہ تر چینی باشندے ڈانگری پہنے

سائیکلوں پر سفر کرتے نظر آتے تھے، ایک شہر سے دوسرے شہر کے سفر کیلئے ٹرین لینی پڑتی تھی، اُس وقت چین میں بہت کم فائیو اسٹار ہوٹل تھے جبکہ چینی باشندوں کی انگریزی زبان سے واقفیت نہ ہونے کے باعث مترجم کے بغیر چین میں بزنس کرنا ممکن نہ تھا تاہم وقت کے ساتھ ساتھ حکومت نے چینی طالبعلموں کو اعلیٰ تعلیم کیلئے بیرون ملک بھیجا اور آج ہارورڈ بزنس اسکول سمیت امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں میں سب سے زیادہ ڈاکٹریٹ کے تھیسز و مقالے چینی طالبعلموں کے پائے جاتے ہیں، چین کی نئی نسل امریکہ کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کرکے اپنے ملک میں تیار کردہ جاپان اور یورپ کی معروف برانڈڈ گاڑیوں میں گھومتی نظر آتی ہے جبکہ آج چین کے ہر شہر میں عالیشان فائیو ہوٹل بڑی تعداد میں موجود ہیں جبکہ امریکی فاسٹ فوڈ، مغربی ملبوسات اور میوزک نوجوان نسل میں نہایت مقبول ہے مگر اس کے باوجود چینی قوم انتہائی قوم پرست ہے جو چینی ہونے پر فخر کرتی ہے۔ چین میں نئی نسل تیزی سے انگریزی زبان سیکھ رہی ہے لیکن اس کے باوجود چین میں انگریزی بہت کم بولی جاتی ہے جبکہ یوٹیوب، فیس بک، ٹوئٹر سمیت بیشتر بین الاقوامی چینلز پر چین میں پابندی عائد ہے۔ گائونزو شہر عالمی نمائش کین ٹون فیئر(Canton Fair) کیلئے دنیا بھر میں مشہور ہے جس میں 22 ہزار سے زائد چینی کمپنیوں کی تیار کردہ سوئی سے لے کر روزمرہ استعمال کی تمام اشیاء، مشینری اور جدید ٹیکنالوجی کے حامل آلات سمیت دنیا کی ہر چیز دستیاب ہوتی ہے۔ گزشتہ سال منعقد ہونے والے کین ٹون فیئر میں ریکارڈ 30 ارب ڈالرسے زائد کے آرڈرز بک کئے گئے تھے جس میں حج و عمرے کے زائرین کیلئے قرآن پاک، تسبیحیں اور احرام سمیت سینکڑوں اشیاء کے آرڈربھی شامل تھے۔ چین کو دنیا کی فیکٹری کا خطاب دیا گیا ہے یعنی چین دنیا کی کوئی بھی اشیاء بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔دنیا کا ہر شخص دانستہ، غیر دانستہ طور پر چین کی تیار کردہ روزمرہ کی اشیاء استعمال کرنے کا عادی ہوچکا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں لوگ چین کے بنے ہوئے الارم کلاک سے بیدار ہوکر باتھ روم میں چینی ٹوتھ برش اور ریزر استعمال کرکے اپنی صبح کا آغاز کرتے ہیں، چینی ملبوسات پہن کر آفس جاتے ہیں جہاں وہ دن بھر چینی ساختہ بال پوائنٹ، کاغذ اور آئی ٹی کی دیگر اشیاء استعمال کرتے ہیں، شام کو جاگنگ کیلئے ٹریک سوٹ اور جاگنگ شوز استعمال کرتے ہیں جبکہ رات کو چائنیز ریسٹورنٹس میں چائنیز کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ابتداء میں چین سستی اور غیر معیاری اشیاء بنانے کیلئے مشہور تھا لیکن اب دنیا کے تمام بڑے اور معیاری برانڈ نہایت کم قیمتوں پر چین میں تیار کئے جاتے ہیں۔ فوشان کے مرکز میں واقع ہوٹل جہاں میرا قیام تھا، کی لابی بھارتی اور خلیجی ممالک کے خریداروں سے بھری رہتی تھی۔ چین میں خریداری عموماً مقامی ایجنٹ کے ذریعے کی جاتی ہے جس کی ذمہ داری ہے کہ وہ گاہک کے سودے کے مطابق اشیاء کی انسپکشن کرکے بروقت شپمنٹ کرائے جس کیلئے اُسے 3% سے 5% کمیشن دیا جاتا ہے۔ چین میں ویزا، ماسٹرز اور امریکن ایکسپریس کریڈٹ کارڈ بڑے ہوٹلوں کے علاوہ عام خرید و فروخت میں قبول نہیں کئے جاتے اور گاہک کو مقامی چینی کرنسی RMB میں ادائیگی کرنا پڑتی ہے جس کیلئے لوگ ایڈوانس میں مقامی کرنسی ایجنٹ کے بینک اکائونٹ میں منتقل کردیتے ہیں۔ چین میں ہفتے میں 6 دن دکانیں اور شورومز صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک خرید و فروخت کیلئے کھلے ہوتے ہیں جبکہ بڑے شاپنگ سینٹر رات 10 بجے تک کھلے رہتے ہیں لیکن اگر آپ شوروم بند ہونے سے چند منٹ پہلے بھی داخل ہوجائیں تو سیلز گرلز اور دیگر عملہ رات کے 12 بجے تک بھی مسکراہٹ کے ساتھ آپ کے آرڈر بک کرتا ہے۔ چین کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا ہے جن کا 1995ء سے امپورٹ کے مقابلے میں سرپلس ایکسپورٹ ہے۔ جولائی 2016ء میں چین کا ٹریڈ سرپلس 52.3 ارب ڈالر سے زائد تھا تاہم دنیا میں کساد بازاری کے باعث اس سال چین کی ایکسپورٹس میں بھی 4.4% (185 ارب ڈالر) کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ خطے کے دیگر ممالک کی طرح چین میں بھی پیداواری لاگت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ میرے مقامی میزبان نے مجھے بتایا کہ چین میں کم از کم اجرت 300 ڈالر ماہانہ تک پہنچ چکی ہے لیکن سیلز کیلئے زیادہ تر اسٹاف کمیشن پر رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے سیلز اسٹاف کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ گاہک کو ہر طرح سے مطمئن کرکے آرڈر حاصل کیا جائے اور اس کیلئے وہ نہایت پرکشش ڈسکائونٹ دینے پر بھی تیار ہوجاتے ہیں۔
چین دنیا کے ہر طرح کے برانڈز کی نقل بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کی وجہ سے آج امریکہ، یورپ اور جاپان کے معروف برانڈکم لاگت پر چین میں مقامی سطح پر تیار کئے جارہے ہیں۔ پاکستان کیلئے چین کی ترقی رول ماڈل ہے، چین نے پاکستان کے بعد آزادی حاصل کی لیکن خود انحصاری، خود کفالت، انتھک محنت، انسانی اور قومی وسائل کے بھرپور استعمال کی بدولت آج چین عالمی اقتصادی طاقت بن چکا ہے جس میں چینی قیادت بالخصوص مائوزے تنگ کا کردار انتہائی اہم رہا ہے جنہوں نے خلوص نیت سے ملک کیلئے کامیاب اقتصادی پالیسیاں مرتب کیں اور ان کے بعد آنے والی قیادت نے بھی شب و روز محنت کرکے خود انحصاری کی پالیسی پر عمل کیا۔ چین کی ترقی کی بڑی وجہ کرپشن کیلئے زیرو ٹالیرینس ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری ، پاکستان اور چین کا طویل المیعاد اشتراک ہے جس کے ذریعے ہمیں چین کی معاشی و صنعتی ترقی کی کامیاب حکمت عملی سیکھنے کو ملے گی جس کو اختیارکرکے پاکستان بھی خطے میں ایشین ٹائیگر کا مقام حاصل کرسکتا ہے۔


.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں