جب سے صدر آصف علی زرداری نے صدر پاکستان کا عہدہ سنبھالا ہے،میڈیا اور سیاسی پارٹیاں آئین سے سترھویں ترمیم کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ جبکہ سترھویں ترمیم کا باریک جائزہ مختلف نتائج فراہم کرتا ہے میرے مطابق ترمیم ہذا آئین میں مثبت تبدیلیاں لائی ہے۔ سترھویں ترمیم کا سب سے ز یادہ اختلافی حصہ جس نے اس وقت صدر کو قانونی حیثیت دی، صدر پرویز مشرف کے استعفیٰ دینے کے ساتھ ہی پہلے سے متروک ہو چکا ہے۔ لہٰذا جہاں تک صدر اور وزیراعظم کے درمیان اختیارات کے توازن کا تعلق ہے میرے مطابق یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ آئین کی موجودہ صورتحال کی ترمیم کی ضرورت بمشکل ہی پیش آئے گی۔ میرے نقطہ نظر سے یہ پارلیمانی طرز حکومت میں کوئی خرابی پیدا نہیں کرتا اور نہ ہی وزیراعظم یا پارلیمینٹ کے کاموں میں کوئی رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ برخلاف عام مانے جانے کے اس ترمیم کے ذریعے آئین میں جو تبدیلیاں آئی ہیں ان سے صدر گورنروں اور متعلقہ حکومتوں کے درمیان اختیار کو توازن حاصل ہوا ہے۔
پس منظر
12اکتوبر1999ء کو فوج نے نواز شریف کی جگہ حکومت کا نظام سنبھالا۔ 14اکتوبر1999ء میں تمام عمل کو قانونی شکل دینے کی طرف پہلا قدم اٹھایا گیا۔ نئی حکومت نے اس ضمن میں جو پہلا قانونی تحریری حکم متعارف کروایا وہ ایمرجنسی کا اطلاق تھا جس کے آرٹیکل نمبر1کے مطابق جنرل پرویز مشرف چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور چیف آف آرمی سٹاف نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو کا عہدہ سنبھال لیا۔ قومی اور صوبائی اسمبلیاں اور سینٹ تحلیل کر دیئے گئے اور آئین کو غیر فعال کر دیا گیا۔ اسی تاریخ کو پہلا پی سی او جاری کیا گیا اور صدر کو چیف ایگزیکٹو کے احکامات کے تابع کر دیا گیا۔
آئینی حکومت کو بحال کرنے اور اس تمام عرصے کو قانونی قرار دینے کے لئے جو پہلا ضروری قدم اٹھایا گیا وہ سپریم کورٹ کے فیصلے سید ظفر علی شاہ… کی صورت میں سامنے آیا۔ سپریم کورٹ نے 12اکتوبر 1999ء کے غیر آئینی قدم کو قانونی قرار دے دیا جبکہ اعلیٰ عدالت نے یہ شرط بھی رکھی کہ فوجی حکومت فیصلے کے بعد تین سال کے اندر الیکشن کروائے گی۔متضاد بر ماضی صدر کو آئین میں ترمیم کرنے کا محدود اختیار دیا گیا۔ یہ فیصلہ ریاستی انتظامیہ کے بنیادی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ چیف ایگزیکٹو کے آرڈر نمبر2001,2کی رو سے سابقہ صدر رفیق تارڑ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور اسی تاریخ میں چیف ایگزیکٹو آرڈر نمبر2001,3کا نفاذ ہوا جس کے تحت جنرل پرویز مشرف نے پہلی مرتبہ صدر پاکستان کا عہدہ سنبھالا۔
2002ء میں صدر کا عہدہ سنبھالنے اور حکومت کے پردے کو مزید قانونی ثابت کرنے کے لئے صدر پرویز مشرف نے ریفرنڈم کروانے کا فیصلہ کیا جو کہ 30اپریل 2002ء کو ہوا۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر عملدرآمد کے لئے ایک بڑی چھلانگ 2002ء میں لگائی گئی جب چیف ایگزیکٹو کے آرڈر نمبر24کے ذریعہ سے LFOمتعارف کروایا گیا جس کے آرٹیکل 4کی رو سے پاکستان کا 1973ء کا آئین بحال کر دیا گیا تاہم یہ بحالی آئین میں بڑی ترامیم سے مشروط تھی۔
مندرجہ بالا ترامیم جو کہ LFOکے ذریعے متعارف کروائی گئیں متذکرہ آرٹیکل میں بڑی تبدیلیاں لائیں جس کے نتیجے میں جنرل پرویز مشرف ریاست کے سربراہ بن گئے۔ LFOکی مدوں کے مطابق عام انتخابات 14اکتوبر2002ء کو منعقد کروائے گئے جن کے بعد ایک سیاسی انجماد رونما ہوا کیونکہ حزب اختلاف نے ایل ایف او کو آئین کا حصہ تصور کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ سیاسی انجماد صدر مشرف کی ٹیم اور MMAکے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد ختم ہوا۔ ایم ایم اے کے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے ایل ایف او میں ترمیم کی گئی جس کے نتیجے میں سترہویں آئینی ترمیم کا بل پاس ہوا۔ آئین میں اس ترمیم نے نہ صرف آئین کی تیرہویں اور چودھویں ترمیم کو عملی طور پر منسوخ کر دیا بلکہ آئین کے پہلے باب کے تیسرے حصے میں مزید تبدیلیاں لائی گئیں جس نے صدر مشرف کو اس قابل بنا دیا کہ وہ صدر پاکستان ہونے کے ساتھ ساتھ کمانڈر انچیف کا عہدہ بھی سنبھالے رکھے ۔
آئین میں بڑی تبدیلیوں کا خلاصہ
ترمیم ہذا کا ایک بڑا حصہ صرف ایک شخص کی حد تک تھا اور اس کا علاقہ صدر کی اہلیت کا تھا جو کہ صدر پرویز مشرف کے استعفیٰ کے بعد غیر ضروری سمجھ کر ترک کر دیا گیا۔
وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں میں نشستوں کی تعداد بڑھائی گئی۔
خواتین کی مخصوص نشستیں اور باہمی منتخب کنندہ متعارف کروائے گئے۔
صدر نے قومی اسمبلی اور اس طرح وزیراعظم کی حکومت کو تحلیل کرنے کا اختیار دوبارہ لے لیا جبکہ اسکے برعکس آٹھویں ترمیم صدر کو مکمل طور پر یہ طاقت نہیں دیتی کیونکہ اس اختیار کا استعمال عدالت عظمیٰ کی منظوری سے مشروط ہے۔
گورنروں کو بھی صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا اختیار دوبارہ حاصل ہوا لیکن بعینہ یہ عدالت عظمیٰ کی طرف سے منظوری سے مشروط تھا۔
LFOکے ذریعے سے چھٹے شیڈول میں دس قوانین کا اضافہ کیا گیا جو کہ ایسے قوانین کی فہرست تھی جن میں صدر کی اجازت کے بغیر تبدیلی ، منسوخی یا ترمیم نہیں کی جا سکتی۔
اس ترمیم سے متذکرہ قوانین میں سے پانچ، چھ سال کے بعد، چھٹے شیڈول کے ذریعے سے اپنی بقاء کھو دیں گے۔ ان قوانین میں وہ چار قوانین بھی شامل ہیں جن سے مقامی حکومت کا جمہوری نظام قائم کیا گیا۔
صدر وزیراعظم کے مشورے سے افواج کے سربراہ متعین کرے گا۔
صدر وزیراعظم کے مشورے سے صوبوں کے گورنر متعین کرے گا۔
اختلافی معاملہ
آئین کے پہلے باب کے تیسرے حصے میں جو سب سے زیادہ اختلافی معاملہ متعارف کروایا گیا تھا وہ صدر کے عہدے کی اہلیت سے متعلق تھا جو کہ صدر مشرف کے استعفیٰ کے بعد غیر ضروری ہوگیا لہٰذا میرے خیال میں ان مدوں پر اظہار خیال کی ضرورت نہیں۔
سب سے زیادہ قابل بحث معاملہ جس پر صدر آصف زرداری بھی دباؤ محسوس کرتے ہیں وہ قومی اسمبلی کو توڑ کر حکومت کو رد کرنے کا اختیار ہے یعنی آرٹیکل 58-2-B۔تاہم ایک نقطہ جوکہ زیادہ تر تجزیہ کار چھوڑ جاتے ہیں کہ اس آرٹیکل کے تحت یہ اختیار اب مزید بنا روک ٹوک کے نہیں رہا جیسا کہ آٹھویں ترمیم کے برعکس سترھویں ترمیم نے اس اختیار پرقدغن لگائی کہ صدر پاکستان قومی اسمبلی کی تحلیل کی صورت میں کلاز 2پیراBکے تحت پندرہ دن میں یہ معاملہ عدالت عظمیٰ بھیجے گا جو اس ریفرنس پر تیس دن میں فیصلہ کرے گی جو کہ حتمی ہوگا
ہمیں یہ ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ ہماری سیاسی تاریخ ایسے اتار چڑھاؤ اور سیاسی تبدیلیوں سے بھری پڑی ہے اور یقینا ایسے مواقع آتے ہیں جوکہ سیاسی صورتحال کو غیر معمولی فیصلوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں بجائے اس کے کہ کرنے کو کچھ نہ رہ جائے ہمارے پاس ترجیحاً کوئی غیر معمولی آئینی عمل ہونا چاہئے اس ضمن میں عدالت عظمیٰ کے مشاہدات پیش کرتا ہوں جو کہ دو علیحدہ کیسوں میں دیئے گئے
محمود خان اچکزئی بنام فیڈریشن آف پاکستان (PLD1997 SC 426)آرٹیکل 58-2-Bاورملک کے سیاسی تشخص کے پس منظر میں اس کے افادہ کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت عظمیٰ اس طرح مشاہدہ کرتی ہے
”آئین کے آرٹیکل 58-2-B کے خلاف بہت کچھ کہا جا چکا کہ اس نے آئین کی ہئیت کو بدل کر پارلیمانی سے صدارتی کر دیا اور اختیارات کو صدر پر مرکوز کر دیا ہے جو کہ وزیراعظم کی طرح براہ راست منتخب نہیں ہوتا۔ آئین کی موجودہ صورت کا محتاط مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسا نہیں ہے اور یہ خیال اس وجہ سے بے بنیاد ہے کہ یہ مد صرف پارلیمانی طرز حکومت میں صدر اور وزیراعظم کے اختیارات میں ایسا توازن لائی ہے جو کہ پارلیمانی جمہوریت کی ضرورت ہے ایسی مد جو کہ صدر کو ایسا اختیار استعمال کرنے کے قابل بناتی ہے اس میں کچھ عجب یا نئی غیر معمولی بات نہیں۔ ایسا اختیار بہت سے پارلیمانی اور جمہوری آئینوں میں مل جاتا ہے جیسے آسٹریلیا، اٹلی، انڈیا، فرانس او ر پرتگال۔ درحقیقت آرٹیکل 58-2-Bنے ہمیشہ کے لئے مارشل لاء کا دروازہ بند کر دیا ہے جو کہ 1977ء کے بعد اب تک نہیں آیا“۔
مزید یہ کہ ماضی قریب میں وطن پارٹی بنام چیف ایگزیکٹو/صدر پاکستان (PLD 2003 SC 74)عدالت عظمیٰ نواز شریف حکومت کے تیرھویں ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 58-2-B کو منسوخ کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے مندرجہ ذیل تاثرات کا اظہار کرتی ہے ۔”ہم صرف خواہش کر سکتے ہیں کہ اس وقت کے مقننہ اور میاں نواز شریف کے حالات کے پیش نظر اس منسوخی کے اثرات کو جان لیا۔ آرٹیکل 58-2-B کو مارشل لاء کے نفاذ کے خلاف ایک سیفٹی وال بیان کیا گیا ہے“۔
عدالت عظمیٰ کے مندرجہ بالا مشاہدات حقیقی طور پر پاکستان کے سیاسی انحطاط کا عکس پیش کرتے ہیں لہٰذا میری ناچیز رائے کے مطابق اسمبلی توڑنے کا اختیار کی قابلیت صرف پارلیمان، حکومت اور صدر کے اختیارات میں توازن لاتی ہے اور اس اختیار کی موجودہ صورتحال میں ترمیم کی بمشکل ہی ضرورت ہوگی۔