ہمارے نظام تعلیم میں بے شمار قباحتوں کے ساتھ کچھ تصورات روایتی طور پر جڑ پکڑ گئے ہیں مثلاً میڈیکل یا انجینئرنگ کی تعلیم کو محفوظ مستقبل کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر بالخصوص لیڈی ڈاکٹر کا تصور بڑا پرکشش ہے۔
ان خواب جزیروں کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے بچے اور والدین مل کر دعاؤں، محنت، کوشش، خرچے اور تگ و دو کے تیشوں سے میرٹ کے کوہ بے ستوں کو سر کرنے کی تگ و دو میں جُت جاتے ہیں اور اگر تیشہ فرہاد ٹوٹ جائے اور دودھ کی نہر نہ بہہ سکے یعنی میرٹ کے حصول میں ناکامی ملے تو والدین کے خواب ہی چکنا چور نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات طالب علم بھی اس صدمے سے سنبھل نہیں پاتے اور پھر تعلیم سے متنفر ہونے، خودکشی سے نفسیاتی امراض تک نجانے کتنے کٹھن مرحلے اس ناکامی کے منتظر ہوتے ہیں۔ ہماری سوچ اور نظام کی یہ بدقسمتی ہے کہ ہم کسی بھی معاملے میں سیکنڈ ڈیفنس لائن کبھی نہیں بناتے جب کہ ہر اچھا جرنیل، کپتان، حملہ آور یا کوئی مقابلہ کرنے والا ایک دفاعی حکمت عملی اپنے پاس ضرور محفوظ رکھتا ہے کہ پچھلے قدموں پر جاتے ہی اپنی بچی کھچی صلاحیتیں مجتمع کر کے ایک اور حملے کے لئے خود کو تیار کیا جاسکے۔ آج جب جدید دنیا علوم و ٹیکنالوجی کے کئی نئے آسمان سر کرچکی ہے ہم اپنے شاہین بچوں کو انہی آزمائے ہوئے آسمانوں پر محو پرواز دیکھنا چاہتے ہیں۔ آج بھی ان کے بال و پر والدین کی خواہشات اور سماج کی ترجیحات کے دھاگے سے بندھے ہیں۔ بچے ہوش سنبھالتے ہی اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر انجینئر لکھنے لگتے ہیں لیکن اس لفظ کو نام کا حصہ بنانے کے لئے میرٹ کا اژدھا منہ کھولے راستے میں کھڑا ہوتا ہے۔ خصوصاً اے لیول کے طالب علموں کو میڈیکل کے میرٹ کے حصول میں اک عجب صورت حال کا سامنا ہوتا ہے۔ او لیول، میٹرک اور اے لیول کو انٹرمیڈیٹ کے مساوی سمجھا جاتا ہے۔ یہ تعلیم بالعموم برطانوی یونیورسٹیوں کے اصول نصاب کے تحت فراہم کی جاتی ہے اور اسے مقامی نظام تعلیم کے مقابلے میں بہتر تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس نظام میں نقل، رٹا، رشوت، سفارش وغیرہ کے امکانات معدوم ہیں۔ علاوہ ازیں یہ جدید نصاب پر مبنی ہوتا ہے جب کہ ایف ایس سی کا نصاب نسبتاً پرانا اور بعض حالات میں زائد المیعاد ہو چکا ہوتا ہے۔ ہماری نصابی کتب میں غلط تھیوریز لکھی گئی ہوتی ہیں اور بعض اوقات یہ نظریات مختلف کتابوں میں متضاد درج ہوتے ہیں۔ یہ ایف ایس سی کے طلبہ کے ساتھ صریحاً زیادتی ہے۔ پاکستان ٹیکسٹ بک اور کیبمرج کی چھپی کتابوں میں بڑا فرق ہوتا ہے لیکن اے لیول کے طلبہ کو تکلیف دہ عمل کا سامنا اس وقت کرنا پڑتا ہے کہ جب میڈیکل کے میرٹ میں ان کی اسناد کو بے توقیری سے دوچار کردیا جاتا ہے۔ اے لیول میں 90 اور 99% کے درمیان حاصل کردہ نمبروں کو اے گریڈ دیا جاتا ہے جب کہ ہمارے ہاں 80% نمبر اے گریڈ کے مساوی ہوتے ہیں جب میرٹ تشکیل پاتا ہے تو اے لیول کے طلبہ کو بھی اسی پچاسی فیصد نمبر دیئے جاتے ہیں یعنی جو طالب علم Straight ایز لے رہا ہے اس سال میڈیکل کے میرٹ میں اسے 925 نمبر دیئے جب کہ ایف ایس سی کے طلبہ ہزار کے قریب یا اس سے بھی زیادہ نمبر لے جاتے ہیں۔ اے لیول کے بچوں کو شدید شکایت ہے کہ وہ نسبتاً زیادہ پیسہ وقت اور محنت صرف کر کے اپ ٹو ڈیٹ نالج حاصل کرتے ہیں جس کی اہمیت کو دنیا بھر کی یونیورسٹیاں تسلیم کرتی ہیں جب کہ ایف ایس سی کی سند کو باہر Recognizeہی نہیں کیا جاتا لیکن افسوس کہ اپنے ملک میں ان کی اس بہترین تعلیم کی قدر نہیں کی جاتی اور وہ میرٹ کے تناسب میں ایف ایس سی کے طالب علموں کی نسبت بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ان کے نمبروں کی وہی پرسنٹیج تسلیم کی جائے جو ایک انتہائی مستند عالمی معیار کی حامل یونیورسٹی نے انہیں دے رکھی ہے۔ کیا انہیں اس اعزاز کی سزا دے کر پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے کہ انہوں نے وہ تعلیم حاصل کی کہ جسے ان کے اپنے ملک کے سوا دنیا بھر میں قابل قدر سمجھا جاتا ہے اس پر مستزاد کہ جب انٹری ٹیسٹ لیا جاتا ہے تو مکمل طور پر ایف ایس سی کے کورس کے مطابق مرتب ہوتا ہے جب کہ اے لیول کا نصاب یورپی یونیورسٹیوں کے جدید نصاب پر مبنی ہوتا ہے۔ اب اے لیول کے طالب علموں کو امتحان سے فراغت کے بعد موسم گرما کی چھٹیوں کے دوران ایف ایس سی کا پورا کورس ازبر کرنا ہوتا ہے۔ ایف ایس سی میں رٹا سسٹم چلتا ہے جب کہ اے لیول کے بچوں کے Concept کلیئر کئے جاتے ہیں اسی لئے انہیں رٹے کی عادت نہیں ہوتی۔ سو وہ انٹری ٹیسٹ پاس کرنے میں عموماً ناکام رہ جاتے ہیں۔ اگر اپنے کلیئر Concept کی وجہ سے پاس کربھی لیں تو اے لیول میں دی گئی ان کے نمبروں کی کمتر فیصد کی وجہ سے میرٹ میں نہیں آپاتے مثلاً اس بار انٹری ٹیسٹ میں ٹاپ کرنے والی بچی اے لیول کی طالبہ تھی لیکن وہ اپنے 925 نمبروں کی وجہ سے مجموعی میرٹ میں بہت نیچے چلی جائے گی اگر انٹری ٹیسٹ سرے سے ختم بھی کردیا جائے تو بھی ان طلبہ کو کوئی خاص فرق پڑنے والا نہیں ہے۔
کیا اتنے بڑے ملک کے تعلیمی نظام میں اتنی سی گنجائش بھی نہیں رکھی جاسکتی کہ اے لیول کے طالب علموں سے ان کے نصاب کے مطابق انٹری ٹیسٹ لیا جائے۔ ایک اضافی پیپر ہی تو بنانا ہے۔ مارکنگ کا سسٹم تو کمپیوٹرائزڈ ہی ہوتا ہے۔ آج جب عوامی حکومت سے ہر طبقہ کچھ امیدیں، کچھ توقعات وابستہ کئے ہوئے ہے تو اے لیول کے طلبہ بھی داد رسی چاہتے ہیں کہ یورپی یونیورسٹیاں ان کی قابلیت کو جس میرٹ کا حامل قرار دیتی ہیں اس کا احترام کیا جائے۔ اے لیول کے اے گریڈ کو کم از کم 90% نمبروں کے مساوی قرار دیا جائے۔ انٹری ٹیسٹ انہی کے نصاب کے مطابق پیپر بنا کر لیا جائے یا پھر ہر پیشہ ور تعلیم میں ان کے لئے کوٹہ مختص کردیا جائے۔ جیسا کہ عام کالجز میں داخلے کے لئے موجود ہے لیکن یہاں بھی ان کے ساتھ زیادتی ہو جاتی ہے کہ یہ کوٹہ طالب علموں کی تعداد کے تناسب سے کم رہتا ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ وہ تعلیم جسے دنیا بھر کی یونیورسٹیاں اور خود پاکستان میں موجود اچھے پرائیویٹ ادارے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں ان کی گنجائش ہمارے اپنے سرکاری نظام تعلیم میں کیوں نہیں بنتی۔ ہمارا نظام تعلیم ان کے ساتھ غیروں اور سوتیلوں جیسا سلوک کیوں روا رکھے ہوئے ہے۔ کیا ہمارے ملک یا تعلیمی اداروں کو جدید نصاب اور اپ ٹو ڈیٹ علوم و فنون کی ضرورت نہیں ہے کہ عموماً کاپردازان ان طالب علموں کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ ”آپ کو ضرورت کیا پڑی تھی اے لیول کرنے کی اب بھگتیے یا پھر باہر کی کسی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیجئے۔ یہاں آپ کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔“
لڑکوں کے لئے تو کئی آسمان کھلتے ہیں لیکن لڑکیوں اور خصوصاً اس عمر کی بچیوں کو والدین باہر تعلیم کے لئے بھیجتے ہوئے ہچکچاتے ہیں تو پھر اب وہ سزا بھگتیں کہ انہوں نے بچوں کو اچھی تعلیم کیوں دلائی یہ ان طالب علموں کی بدنصیبی ہے کہ ان کا اپنا وطن اپنا نظام تعلیم انہیں قبولنے سے انکاری ہے کہ اس ملک اور نظام تعلیم کی بدنصیبی کہ وہ ایسے طالب علموں کی طرف سے منہ موڑ لیتا ہے جو رٹے کی بجائے اپنے دماغ اور فرسودگی کی بجائے جدیدیت کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ بچے سوال کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ جاری اس ناانصافی کو کیا نیا دور نئی جمہوریت اور نیا نظام یونہی جاری و ساری رکھے گا؟