پاکستان کومعرض وجود آئے ہوئے تقریباً70 برس ہونے والے ہیں۔ قائد اعظم کے بعد جو بھی حکمران اقتدار میں آیا قوم سے جھوٹے وعدے کئے اور اپنے مفاد حاصل کئے مگر پاکستان کے غریب عوام کے لئے کچھ نہیں کیا۔ اسی طرح آزاد کشمیرمیں میرپور میںپانی اور بجلی کی کمی دور کرنے کے لئے منگلا کے مقام پر ڈیم بنایا گیا جو منگلا ڈیم کے نام سے مشہور ہے۔ اس کو نصف صدی سے زائد عرصہ گذر چکا ہے اورجس مقصد کے لئے اس ڈیم کی تعمیر ہوئی تھی وہ مقصد تو پورا ہوا مثلاً پانی سے پاکستان کے بنجر علاقے سیراب ہوئے اور پاور پراجیکٹ سے بجلی مہیا ہوئی جس سے پورا پاکستان روشن ہوا۔ حکمرانوں نے وعدے کئے متاثرین کو یقین دلایا آپ کو اس کا معقول معاوضہ دیا جائے گا اور رہائش کے لئے متبادل جگہ دی جائے گی مگر آج تک متاثرین منگلا ڈیم کو اس وعدے کے مطابق نہ رہائشی جگہ دی گئی اور نہ ہی زمینوں کے بدلے کچھ دیا گیا بلکہ محض حکمرانوں نے متاثرین کے نام پر خود پیسے کمائے اور پاکستان سے اپنے دوستوں اور تعلق داروں کو پلاٹ الاٹ کئے جنہوں نے رات کے اندھیرے میں نہ صرف پلاٹ الاٹ کروائے بلکہ الاٹمنٹ چٹ لی اور راتوں رات دلالوں نے گاہک پیدا کئے اور فروخت بھی کروائے اور صبح صبح ان لوگوں کو بریف کیس بھر کے منگلا پل کراس کرا دیا گیا۔ جن کا حق تھا وہ آج تک ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سابق دور اقتدار میں سابق وزیرا عظم چوہدری عبدالمجید نے متاثرین اور مہاجرین کو حقوق ملکیت دیئے لیکن پچاس سالہ گند کو مختصر عرصہ میں مکمل صاف تو نہ کر سکے لیکن پھر بھی بہت سی عوامی مشکلات کا ازالہ کیا اور مسائل میں کمی ہوئی۔ منگلا ڈیم سے بجلی پیدا ہوئی مگر جہاں یہ پراجیکٹ لگایا گیا وہاں کی عوام کو اندھیروں کے سوا کچھ نہیں ملا۔ عوام نے اپنے آبائو اجداد کی قبروں کو دوبار پانی میں غرق ہوتے دیکھا مگر وہ بجلی سے محروم اور پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔جہاں بے انصافی ہو، غریبوں کے حقوق چھینے جائیں وہاں خوشحالی کبھی نہیں آتی بلکہ اس کے ردعمل میں نفرتیں جنم لیتی ہیں اب پچھلے کچھ عرصہ سے چین سے سی پیک معاہدہ ہوا ہے جس سے ملک کو بڑا فائدہ ہوگا اور اخبارات میں میگا پروجیکٹ کا بڑا چرچا ہو رہا ہے۔ حکمران میڈیا کی زینت بنے رہتے ہیں مگر آزاد کشمیر کو سی پیک میں کیوں حصہ نہیں دیا جا رہا۔ آزاد کشمیر میں ریلوے لائن نہیں ہے۔ سڑکیں کھنڈر بنی ہوئی ہیں، میرپور ضلع اور گرد نواح کو کیوں سی پیک کے پلان میں نہیں رکھا گیا ہمارے موجودہ وزیر اعظم اخبارات میں بڑے بڑے اعلانات کر رہے ہیں تاکہ پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کو خوش کیا جائے مگر عملی طور کسی منصوبے کو وعدہ کے مطابق پورا نہیں کیا جاتا۔ انہیں آزاد کے لئے سی پیک کا حصہ لینا چاہئے، سابق وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید نے میرپور ائرپورٹ کی منظوری لی تھی مگر وفاقی حکومت نے وعدہ کرکے فنڈز نہیں دیئے جس سے ائرپورٹ کی تعمیر نہیں ہوئی۔ اہلیان میرپور نے ملکی معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے زرمبادلہ مہیا کیا۔ سفارت خانوں کو چلانے میں آزاد کشمیرکی عوام کا بڑا کردار ہے۔ پاکستانی ائرپورٹ پر پی آئی اے ہمارے زرمبادلہ سے چل رہی ہے۔ اوورسیز کمیونٹی کے لئے کوئی مراعات نہیں ہیں اس ناانصافی سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مسائل کم کرنے کی طرف توجہ نہیں دی جارہی۔ اس لئے جہاں ناانصافی ہو اس کا ردعمل بھی ہوتا ہے۔ پاکستان میں پچھلے آٹھ نو ماہ سے پانامہ لیکس پر پوری قوم کی نظریں لگی ہوئی ہیں جس سے افراتفری ہے اس کا فیصلہ لازمی ہونا چاہئے تاکہ ملک میں تعمیر و ترقی کے جو کام شروع ہیں وہ مکمل کئے جا سکے۔ اس کا فیصلہ جلد ہونا چاہئے۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں، ملکی معیشت تباہ ہو رہی ہے، ملکی خزانے کو بے دریغ خرچ کرکے ایک دوسروں پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ الیکشن میں جن لوگوں نے وعدے کئے تھے کہً بے روزی گاری کم ہوگی، قانون کی پاسداری ہوگی، اغوا کے کیسز نہیں ہوں گے،غریبوں کو کھانے پینے کی ایشیا سستے داموں ملے گی،بجلی، گیس اور صاف پانی ملے گا وہ سب کہاں گئے۔ ابھی تک بنیادی ضروریات زندگی کی اشیا نایاب ہیں، علاج کے لئے غریبوں کو سپرین کی گولی تک نہیں ملتی مگر حکمران طبقہ کو زکام لگ جائے وہ بیرون ملک علاج کے لئے کروڑوں روپیہ خرچ کر رہے ہیں۔ پروٹوکول پر کئی کروڑ خرچہ آرہا ہے۔ سکولوں میں تعلیمی معیار بالکل نہیں رہا۔ حکمران طبقات بے دریغ پیسہ خرچ کر رہے ہیں۔ناانصافیوں اور دن بدن بے حیائی کی وجہ سے ملک کٹھن حالات سے گذر رہا ہے اگر اصلاح نہ کی گئی تو حالات خطرناک صورت اختیار کر جائیں گے۔ ملک میں حکمرانوں کو عوام کی خدمت کرنی چاہئے ایک دوسروں پر ذاتی حملے اور انتشار سے گریز کرنا چاہئے۔ پاکستان کی سالمیت اسے مستحکم کرنے میں ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔
.