یوں تو وطن عزیز اس وقت متعدد اندرونی و بیرونی بحرانوں کی گرفت میں ہے لیکن بجلی و گیس کی انتہائی شدید قلت نے اسے جس تکلیف دہ صورتحال سے دوچار کر دیا ہے اس کی بناء پر اسے بجا طور پر تمام بحرانوں کی ماں قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ موجودہ دور میں یہ دونوں چیزیں محض عوام کی رہائشی ضروریات کے لئے ہی استعمال نہیں ہوتیں، صنعت کا کارواں بھی انہی کے دم قدم سے چلتا ہے اس لئے جب ان کی فراہمی میں تعطل واقع ہوتا ہے تو پھر عوام کے روزمرہ کے معمولات ہی درہم برہم نہیں ہوتے پوری زندگی کا پہیہ جام ہو کر رہ جاتا ہے۔ کاروبار ٹھپ ہونے سے روزگار کے ذرائع بند ہوتے ہیں تو اس سے معیشت مفلوج اور عوام میں ایسا اضطراب جنم لیتا ہے جس سے وہ سڑکوں پر نکل کر توڑ پھوڑ کرنے پر بھی مجبور ہو جاتے ہیں اس لئے سمجھ دار اور دانش مند حکومتیں ہمیشہ یہ کوشش کرتی ہیں کہ عوامی ضرورت کی کسی چیز کی فراہمی میں ایسا تعطل کبھی پیدا نہ ہو کہ ان کی احتیاج، احتجاج کی صورت میں چھلکنے لگے، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ملک میں ہر آنے والی حکومت اکثر و بیشتر اپنی بقاء و استحکام کی جدوجہد میں ہی اس قدر مصروف رہتی ہے کہ اسے عوام کی ان بنیادی ضروریات کی طرف توجہ دینے کی فرصت ہی نہیں ملتی اور یوں مسائل پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتے ہوئے اس منزل تک آ پہنچتے ہیں کہ عوام کے لئے اپنی آواز حکومت تک پہنچانے کے لئے سڑکوں پر نکلنے کے سوا اور کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔
ملک میں بجلی و گیس کا بحران طویل عرصہ سے موجود ہے اور گزشتہ کئی برسوں سے یہ آثار نظر آ رہے تھے کہ اگر اصلاح احوال کے لئے ٹھوس اور موثر اقدامات نہ کئے گئے تو حالات دگرگوں ہو کر رہ جائیں گے، لیکن ہمارے حکمران اس صورتحال سے اپنی آنکھیں مکمل طور پر بند کئے سیاسی جوڑ توڑ میں مصروف رہے اور آج یہ عالم ہے کہ پورے ملک میں بجلی و گیس کا بحران ایک ایسی خوفناک شکل اختیار کرتا ہوا نظر آ رہا ہے کہ اگر فوری طور پر اس کا مداوا کرنے کے لئے کوئی ٹھوس، جامع اور موثر لائحہ عمل وضع نہ کیا گیا اور عوام کو محض مستقبل کے سہانے خوابوں سے بہلانے کا راستہ ہی اختیار کیا گیا تو پھر خدانخواستہ ایک ایسا طوفان بھی آ سکتا ہے جو سب کچھ بہا کر لے جائے کیونکہ گزشتہ اکسٹھ سالوں میں صرف وعدوں اور نعروں کے ذریعے عوامی جذبات سے کھیلنے کی جو تگ و دو کی گئی ہے اس سے وہ اس قدر آزردہ اور مایوس ہوگئے ہیں کہ اب آسانی سے کسی پر اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں اس لئے اب عملی اقدامات کرنے ہونگے۔
پچھلی حکومت عوام کو بڑے پیمانے پر آبی ذخائر تعمیر کرنے اورجوہری پلانٹوں کے ذریعے توانائی پیدا کرنے کی مسلسل نویدیں سناتی رہی لیکن جب وہ اقتدار سے رخصت ہوئی تو پتہ چلا کہ غیر ملکی نجی پاور پلانٹ کمپنیوں کے اربوں روپے کے بقایا جات واجب الادا ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے بجلی کی پیداوار میں تعطل پیدا ہوا ہے، موسمی تغیرات کے نتیجے میں بارشوں کے نہ ہونے سے بھی بجلی کی معمول کی پیداوار بھی متاثر ہوئی اور یہ بحران مزید گہرا ہوتا گیا۔ موجودہ حکومت کے ارباب اختیار کی جب بھی کسی مسئلے کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے تو وہ یہ کہہ کر اس سے پہلوتہی کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ یہ سب کچھ اسے ورثہ میں ملا ہے اس میں ایک حد تک صداقت تو ہوسکتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس حکومت کو اقتدار میں آئے ہوئے بھی تو اب آٹھ نو ماہ ہو چکے ہیں اس عرصہ میں اس نے کونسا ایسا قدم اٹھایا جس سے عوام کو کوئی ریلیف ملا ہو۔ انہیں کبھی آٹے کا بحران اپنی زد میں لے لیتا ہے تو کبھی گھی، چینی، پٹرول اور دوسرے بنیادی اشیائے ضرورت کی کمیابی ان کا جینا دوبھر کر دیتی ہے آخر ایسا کیوں ہے؟ بجلی اور گیس کا بحران سب سے زیادہ شدید اور ہولناک نتائج اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور اس کا ایک تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سرے سے کوئی ضابطہ ہی نہیں اور بجلی فراہم کرنے والی کمپنیاں جب چاہتی ہیں بجلی بند کر دیتی ہیں اس غیر اعلانیہ بندش کا دورانیہ کسی بھی وقت شروع ہو جاتا ہے جو عموماً ڈیڑھ دو گھنٹے سے لے کر اڑھائی تین گھنٹے تک پھیلا ہوا ہوتا ہے اور کبھی اس کی طوالت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ آٹھ آٹھ دس دس ساعتوں تک محیط ہوتی ہے اور کئی مرتبہ تو اس سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان حالات میں صنعتیں کس طرح چل سکتی ہیں، معیشت کیونکر سدھر سکتی ہے اور سرمایہ کار سرمایہ کاری کرنے پر کیسے آمادہ ہو سکتے ہیں، ارباب اختیار کو خود اندازہ ہونا چاہئے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اس کا ادراک کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی اور ان کی بے حسی کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ عوام کراچی سے لے کر خیبر تک اس پر نوحہ کناں نظر آرہے ہیں۔ کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ذمہ داران نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے فوری طور پر بجلی کے بحران کو حل کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات نہ کئے تو ان کے لئے اپنے کارخانوں اور فیکٹریوں کو غیر معین عرصے کے لئے بند کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ فیصل آباد میں پاور لومز کی صنعت مکمل طور پر بند ہوگئی ہے گزشتہ روز اس کے سینکڑوں احتجاجی مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے کئی تجارتی مراکز کو تباہ اور کئی گاڑیوں کو نذرآتش کرنے کے علاوہ کئی سرکاری دفاتر پرحملہ کر کے ان کے شیشوں کو توڑ دیا۔ سیالکوٹ چیمبر آف کامرس کے نمائندگان نے ایک پریس کانفرنس میں ارباب اختیار کو انتباہ کیا ہے کہ 18 سے 20 گھنٹے تک کی مسلسل لوڈ شیڈنگ سے ان 6000 سے زائد صنعتی یونٹ بری طرح متاثرہو رہے ہیں اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں افراد اپنے روزگار سے محروم ہو جائیں گے، ڈسکہ، مندراں والی، اگوکی، سمبڑیال، راولپنڈی اور ڈیرہ غازی خاں میں بھی صنعتی کارکنوں کے احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات ہیں صوبائی دارالحکومت لاہور میں مظاہرین نے نہ صرف پنجاب اسمبلی کے سامنے بہت بڑا جلوس نکالا بلکہ لکشمی چوک، شاد باغ اور ٹاؤن شپ سمیت کئی دوسرے علاقوں میں بھی احتجاجی مظاہرے کئے۔ یہ صورتحال بتا رہی ہے کہ عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہو رہا ہے۔ بجلی کے علاوہ گیس کی کمیابی بھی صورتحال کو سنگین تر کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے کیونکہ سوئی نادرن نے 2400 صنعتی یونٹوں کو گیس کی سپلائی بند کر دی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف پنجاب میں گھی اور تیل تیار کرنے والے 80 کارخانے بند ہو گئے ہیں جس سے ملازمین کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے اور مارکیٹ میں ان اشیاء کے نرخوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، گیس کی قیمت میں 7 فیصد اور سی این جی کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ بھی صورتحال کو مزید خراب کرنے کا موجب بن رہا ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک میں بجلی اور گیس کا یہ بحران اتنا شدید اور گہرا ہے کہ چشم زدن میں اس کا کوئی حل نکالنا نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی اس کی توقع کی جانی چاہئے لیکن حکومت کی جانب سے طویل المدت منصوبوں کے ساتھ ساتھ درمیانی اور چھوٹی مدت کے منصوبے تو ضرور بنائے جا سکتے ہیں جو عوام کو جلد تر ریلیف مہیا کرنے کا موجب بن سکیں۔ ہالینڈ میں مقیم ایک پاکستانی انجینئر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں شمسی توانائی کو فروغ دے کر اتنی زیادہ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے کہ اس کو فروخت بھی کیا جا سکتا ہے اسی طرح میگنٹ انرجی جنریٹروں سے بھی فوری سستی اور وافر توانائی حاصل ہو سکتی ہے حکومت کی جانب سے ایران سے فوری طور پر 1000 میگا واٹ بجلی کی خریداری کا معاہدہ اس سلسلے میں اٹھایا جانے والا اہم قدم ہے اگر اس کو مزید توسیع دی جا سکے اور ایران سے گیس کی خریداری کا معاہدہ دو طرفہ بنیادوں پر آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے تو عوام کی مشکلات کا یہ دور جلد ختم ہو سکتا ہے اور حکومت کو اس کو جلد تر اپنے انجام تک پہنچانے کے لئے سنجیدگی سے کوشش کرنی چاہئے کیونکہ بھارت امریکہ سے جوہری معاہدے کے بعد اب ایران پاکستان بھارت پائپ لائن کے معاہدے پر عملدرآمد کرنے میں جو رخنہ اندازی کر رہا ہے اس کے اسباب کسی سے چھپے ہوئے نہیں اوراب یہ بات حتمی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ ملک کو درپیش ان بحرانوں سے نجات دلانے کے لئے صرف بیانات اوراعلیٰ سطحی اجلاسوں سے کام نہیں چلے گا بلکہ فوری طور پر ایسے ٹھوس اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے جن سے بجلی گیس اور پٹرول کے بحرانوں پرقابو پایاجاسکے۔
مبینہ پولیس مقابلے
کراچی میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب کلفٹن کے علاقے میں پولیس اہلکاروں نے ایک کار سوارنوجوان کو تلخ کلامی کے بعد فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔ جبکہ چند روز قبل خالد بن ولید روڈ پر بلوچستان کے شہر چمن سے تعلق رکھنے والے چار تاجروں کو ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کردیا گیا ۔ اس طرح کے مبینہ مقابلوں میں لوگوں کی ہلاکت کے واقعات سے پولیس کی کارکردگی کے بارے میں غیرذمہ داری کا تاثر پیدا ہواہے۔ جرائم پیشہ افراد کے خلاف بروقت کارروائی عمل میں لانا یقینا پولیس کے فرائض میں شامل ہے۔ لیکن ان فرائض کی ادائیگی پوری احتیاط اور ذمہ داری کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ مزیدبراں مبینہ پولیس مقابلوں میں بے گناہ لوگو ں کے مارے جانے سے نہ صرف غفلت اور لاپروائی کا تاثر سامنے آتا ہے بلکہ اس سے عام لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس بھی بڑھنے لگتا ہے۔ پولیس حکام کو اس صورتحال کے تدارک پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ ایسے ناخوشگوار واقعات بار بار پیش نہ آئیں۔