• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سی ڈی اے میں 2011،12میں ہونیوالی غیر قانونی بھرتیوں کی تحقیقات

اسلام آباد (رانا غلام قادر،نیو ز رپو رٹر) ایف آئی اے نے سی ڈی اے میں 2011اور 2012 میں ہونے والی غیر قانونی بھرتیوں کی تحقیقات شروع کردی ہے۔ انکوائری نمبر 09/2016کے تحت ایف آئی اے نے بھرتی کئے گئے 54 افسروں کو آج بمعہ تقرری دستاویز کے بیان کیلئے طلب کر لیا ہے۔ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر احمد علی عفانی نے ڈپٹی ڈی جی ایچ آری ڈی اے کے نام خط کے ہمراہ 54 افسروں کی فہرست بھیجی ہے ۔ فہرست میں شامل افسروں کو انسپکٹر طاہر خان کے پاس پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ سابق دور میں گریڈ سولہ ،سترہ اور اٹھارہ میں مختلف آسامیوں پر ڈیلی ویجز پر بھرتیاں کی گئیں جن کیلئے اخبار میں کوئی اشتہار نہیں دیا گیا ۔ بعد ازاں کچھ افسروں کو کابینہ کمیٹی کی سفارش پر ریگولر کر دیا گیا ۔ بعض ہائیکورٹ کے حکم سے ریگولر ہو گئے بعض ابھی تک ڈیلی ویجز پر کام کر رہے ہیں۔جنہیں طلب کیا گیا ہے ان میں ڈپٹی چیف فائر عماد الدین ، ایڈمن افسر صنم خان ، سپچ رائٹر امبر ین خان ، اسسٹنٹ سیکیورٹی افسر محمد بر ہان عامر ، انفورسمنٹ انسپکٹر سردار رضا عباس ، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز تیمور چغتائی ،محمد ارشد آ فر یدی،ملک محمد قاسم ضیا ء الاسلام ، عقیل احمد سندھو، عثمان رشید ، مدثر حقانی ، حافظ توقیر خان ، محمد عرفان ، ذوالفقار علی ، سیم جمال ، فہیم خان ، شیخ ذیشان ، جنرل ٹیچر صائقہ طارق ، مس نازنین نور اور منال اجمل ، سینئر آڈیٹرز محمد ندیم خان ، محسن عزیز ، وسیم اللہ کیانی ، طفیل محمود ، محمد حسین منیر ، محمد احسن ، حافظ عمر جاوید ، یاسر عرفات ، سٹاف نرس منیبہ اختر ، اسسٹنٹ ڈینٹل سرجن معصومہ سید ، ایڈمن افسر علی مراد ،ز روبی دلشاد ، وجیہ حیاس ، ٹورزم افسر احسن علی ملک ، نبیہ ا خلاق ، سعدیہ ثروت اور ظفر حیات، ڈویژنل اکا ئونٹس افسر ز مجاہد حسین ، مہران چا نڈیو، فرحان سکندر ، میڈیکل افسر علی سید کمال ، ڈپٹی ڈائریکٹر بینش امجد شامل ہیں۔ ان افسروں کا موقف ہے کہ ہم اب کئی کئی سال سے ملازمت کر رہے ہیں ہماری کوالی فیکیشن بھی پوری ہے اور مجاز اتھارٹی نے ہمیں بھرتی کیا مگر سیا سی بنیادوں پر اسے ایشو بنا یا جا ر ہا ہے۔
تازہ ترین