• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اے آئی کی غلطی کے باعث دادی کو چھ ماہ جیل میں گزارنے پڑ گئے

کولاج فوٹو: سوشل میڈیا
کولاج فوٹو: سوشل میڈیا

امریکی ریاست ٹینیسی کی رہائشی دادی اماں کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے فیشل ریکگنیشن سافٹ ویئر کی غلطی کے باعث تقریباً چھ ماہ جیل میں گزارنا پڑ گئے۔ 

جہاں اے آئی لوگوں کی مدد کر رہا ہے وہیں امریکا میں ایک بزرگ خاتون کےلیے یہ وبال بن گیا جنہیں فیشل ریکگنیشن سافٹ ویئر کی وجہ سے جیل ہوگئی۔

14 جولائی 2025 کو پولیس نے اینجلا لپس کو ان کے گھر سے بچوں کی دیکھ بھال کرتے وقت گرفتار کیا اور شمالی ڈکوٹا میں بینک فراڈ کیس میں مفرور قرار دے کر جیل بھیج دیا، حالانکہ بزرگ خاتون نے کبھی اس ریاست کا سفر ہی نہیں کیا تھا۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ بینک فراڈ کیس میں مشتبہ خاتون کی شناخت کے لیے استعمال ہونے والے فیشل ریکگنیشن سافٹ ویئر نے اینجلا لپس کو غلطی سے مشتبہ قرار دیا اور پولیس نے صرف سافٹ ویئر کی بنیاد پر ہونے والی شناخت پر گرفتاری کر لی۔

اینجلا کو تین ماہ ٹینیسی کی جیل میں رکھنے کے بعد شمالی ڈکوٹا منتقل کیا گیا، جہاں وہ مزید قید رہیں۔ دسمبر 2025 میں عدالت نے ان کے خلاف الزامات ختم کر دیے جب ان کے بینک ریکارڈ سے ثابت ہوا کہ وہ جرم کے وقت 1200 میل دور ٹینیسی میں موجود تھیں۔

کرسمس کے موقع پر رہائی کے بعد اینجلا کو نہ معافی ملی اور نہ ہی گھر واپسی کا انتظام کیا گیا تھا۔ ایک این جی او نے انہیں واپس ٹینیسی پہنچایا۔ اس دوران وہ اپنا گھر اور پالتو جانور بھی کھو بیٹھیں کیونکہ بل ادا نہ کر سکیں تھیں۔

ان کے وکیل شہری حقوق کے تحت قانونی چارہ جوئی پر غور کر رہے ہیں۔

اینجلا کا کہنا ہے کہ میں خوش ہوں کہ یہ سب ختم ہوا، میں کبھی شمالی ڈکوٹا واپس نہیں جاؤں گی۔

دلچسپ و عجیب سے مزید