پاکستان اس وقت دہشت گردی کی دلدل میں بری طرح پھنسا ہے ان گنت افراد شہید اور زخمی ہوجاتے ہیں اس دہشت گردی کی وارداتوں میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کی وجہ سے جہاں اسلامی تعلیمات کے بارے میں طرح طرح کے سوالات اور شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں وہاں بے شمار قیمتی جانیں اور کاروبار تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔ امن و سلامتی خوش حالی تعمیروترقی اور سکون و راحت کا ضامن بنتی ہے جب فتنہ انگیزی ہمہ جہتی تباہی لاتی ہے اسی لئے ہمارے نبی رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس راستے کو بند کردیا جس سے امن و سلامتی کا ماحول غارت ہونے کا امکان تھا آپؐ نے آپس میں باہمی لطف و کرم کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ترجمہ ’’بے شک اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والے کو پسند کرتا ہے اور نرمی کرنے پراتنا وہ عطا کرتا ہے جتنا سختی پر عطا نہیں کرتا‘‘ جیسا کہ پاکستان میں آج کل دہشت گردی کا بازار گرم ہے اور ملک کی سالمیت اور بقا کو خطرہ لاحق ہے۔ قانون نافذ کرنے والے جان کے نذرانے پیش کررہے ہیں ۔ سیکورٹی اداروں، افواج، نیم فوجی اور پولیس کے جوان شجاعت و بہادری کی داستانیں رقم کررہے ہیں ان شہدائے کرام کو پوری قوم خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ یہ کرایہ کے شرپسندوں کی وجہ سے جوکہ اپنے بیرونی آقائوں کا ایجنڈا پاکستان کے عوام اور مسلح افواج کو نقصان پہنچا کر پورا کر رہے ہیں اور جہاد کا پروپیگنڈا کررہے ہیں کیا یہ جہاد ہے جویہ کرائے کے لوگ ہمارے سکول، مساجد، امام بارگاہیں، زیارتیں اور جنازے بھی نہیں چھوڑتے ہیں۔ اللہ کی راہ میں اپنے آپ کو خودکش بمبار بنا کراڑا لینا کیا اس ذات باری تعالیٰ کو پسند ہے؟ جس نے بار بار حکم دیا ہے کہ نرمی اختیار کرو نرمی اختیار کرنے والا مجھے پسند ہے۔ اسلام میں خودکشی حرام ہے لیکن نہ سمجھ میں آنے والا یہ کیسا جہاد ہے، معاذ اللہ۔ہماری مسلح افواج اپنے طریقے سے اس مسئلہ پر بہتر کام کررہی ہے لیکن شرپسندوں نے پاکستان میں ایک بھی نشان نہ چھوڑا اور جبکہ پاکستانی حکومت ایک ’’مجبوری اتحادی‘‘ ہونے کے باعث اس صورتحال پر ایک آدھ احتجاجی بیان جاری کرنے کے سوا کچھ نہیں کرپاتی دہشت گردی کی دوسری وجہ بھارتی خفیہ ایجنسی را، افغانی اور پاکستانی طالبان کا جوش جہاد ہے۔ اور ’’القاعدہ‘‘ نام کی جو بنی ہوئی کوئی تنظیم ہےجو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہوتی ہے پاکستان تو اس جنگ میں بذات خود اتحادی ہونے کے باعث بے بس ہے لیکن افسوس تو یہ ہے کہ واقعی پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کو آخر کس کی ناکامی ٹھہرایا جائے۔ اصل وجہ پاکستان میں دہشت گردی کی روک تھام کی ذمہ دار صورتحال ظاہر ہے کہ حکومت پاکستان ہے۔ پرویزمشرف کی حکومت سے لے کر نوازشریف صاحب کی موجودہ حکومت تک کوئی بھی اس کارکردگی کا مظاہرہ اس معاملے میں نہیں کرسکی جسے معمولی حد تک بھی مناسب قرار دیا جاسکے۔ مشرف صاحب پر خود غالباً پانچ قاتلانہ اور خودکش حملے اور جبکہ بے نظیر صاحبہ پر دو قاتلانہ حملے ہوئے پہلا کراچی میں اور جبکہ دوسرا راولپنڈی میں اور وہ اسی حملے میں شہید ہوگئیں۔ اسی طرح ’’سانحہ پشاور‘‘ جو نہ بھولنے والا حملہ تھا، ان معصوم بچوں کا قتل جنہوں نے ابھی زندگی کی چند بہاریں بھی بمشکل سے دیکھی نہیں۔ مائوں کی گود سے نکل کر سکول میں جانےو الے بچے کیا وہ جانتے تھے کہ ایک دن وہ بھی ان حملوں کی بھینٹ چڑھ جائیں گے۔ اسی طرح قوال صابری کا قتل دہشت گردی کی ایسی اور کئی داستانیں ۔ ہمارے مزارات حضرت داتا گنج بخشؒاور سیہون شریف پر حملہ اس کے علاوہ اور کیا باقی رہ گیا ہے جہاں مسجد، مزارات کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کیا دہشت گرد اسلام دشمن ہیں یا اسلام پسند؟ کیا دہشت گرد صرف پاکستان کے دشمن ہیں؟ آخر یہ پاکستان کے بے گناہ عوام سے وہ کس دشمنی کا بدلہ لے رے ہیں۔ بہت سے سوال ایک ساتھ دماغ میں امڈ آتے ہیں جب یہ ہم جیسے مجبور عوام سوائے سوچ کے اور سوالات میں الجھنے کے سوائے کچھ نہیں کرسکتے لیکن ان سب سوالوں کا ایک ہی جواب جو مجھے اور ہمارے مجبور اور ناتواں عوام کو نظرآتا ہے وہ یہ ہی ہوسکتا ہے کہ دہشت گرد دراصل اسلام اور پاکستان دشمن عناصر ہیں جو ایک تیر سے دوشکار کررہے ہیں بے گناہ عوام سے بدلہ صرف پاکستان کو افراتفری کا شکار کرکے داخلی طور پر کمزور اور خارجی محاذ پر بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں دہشت گرد کبھی بھی پاور فل ملکوں سے بدلہ نہیں لیتا کیونکہ وہ داخلی اور خارجی محاذ پر اپنے شہریوں کی عزت جان و مال کی حفاظت کرنے میں ذرا برابر غفلت نہیں کرتے۔دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کا واقعہ پیش آجائے تو بدقسمتی سے پاکستان کو اسکا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے اس سے بڑھ کر ہماری کیا بدقسمتی ہوسکتی ہے کہ الزام میں پاکستان پیش پیش اور جب پاکستان خود دہشت گردی کا واقعہ پیش آجائے تو پاکستان کو ناکام ریاست کے لقب سے نوازا جاتا ہے، جائیں تو جائیں کہاں۔دہشت گردی کی عالمی جنگ میں سب سے زیادہ نقصان صرف اور صرف پاکستان کو ہی اٹھاناجہاں صبح شام بے گناہ انسانیت کو موت کی بھینٹ چڑھایا جارہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ (سیاسی، انتظامی)اور عدالتی نظام کو تبدیل کیا جائے۔ملک کی سالمیت، وحدت اور ترقی کیلئے کوئی نظام بالاتر نہیں صرف لیڈرشپ ایماندار اور مخلص ہونی چاہئے اور اسی طرح ملک و قوم کا وقار قائم رہ سکتا ہے۔ غریب عوام کی زندگی کو بھی راحت اور انصاف مل سکتا ہے۔
.