اللہ نے اپنے نیک بندوں کی دعاؤں کو سنا اور غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی صورت میں قوم کو ایک مسیحا عطا کیا اور محدود وسائل کے باوجود 1998ء میں پاکستان پہلی مسلم ایٹمی طاقت کے روپ میں اُبھرا اور دشمن کا پاکستان کو نگلنے کا گھناؤنا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوا ۔ واضح ہو کہ پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی بھارت کے مقابلے میں جدید اور کئی گنا بہتر ہے اور یہ ایٹمی صلاحیت نہایت قلیل سرمائے اور کم وقت میں حاصل کی گئی ۔ سابق آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ نے ایک گفتگو میں بتایا کہ 1990میں جب ڈاکٹر اے کیو خان نے مجھے اخراجات کی وہ فہرست دکھائی جو انہوں نے 1975سے 1997کے دوران کئے تھے تو وہ اخراجات 300ملین ڈالرز سے بھی کم تھے۔ واضح رہے کہ فرانس سے خریدی ہوئی ایک آبدوزاور امریکہ سے خریدے ہوئے F16طیارے کی قیمت بھی اس سے کہیں زیادہ ہے۔پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا سہرا جن شخصیات کو جاتا ہے ان میں سرفہرست مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کا نام ہے۔ جنہوں نے یہ نعرہ بلند کیا کہ ہم گھاس کھا لیں گے لیکن ایٹمی صلاحیت حاصل کرکے رہیں گے۔
بھٹو مرحوم نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اور انہوں نے اس عظیم قومی مشن کی تکمیل کا بیڑہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو سونپا ۔ بھٹو صاحب کے شروع کردہ ایٹمی پروگرام کو جنرل ضیاء الحق نے بھرپور انداز سے 1977ء سے 1988ء تک جاری رکھا اور کسی بیرونی دباؤ کو خاطر میں نہیں لائے ۔ بے نظیر صاحبہ نے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے بیرونی دباؤ کے باوجود ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے کا دباؤ مسترد کیا اور ایٹمی ہتھیاروں کو لے جانے والے ڈیلوری سسٹم کی ابتداء کی ۔ واضح ہو کہ ڈیلوری سسٹم بھی اتنا ہی اہمیت کا حامل ہے کہ جتنا ایک نیوکلیئر وار ہیڈ ۔ نواز شریف جنہوں نے پوری دنیا کے دباؤ، امریکی صدر کلنٹن کے پانچ ٹیلی فون اور 5/ارب ڈالرز تک کی پیش کش کے باوجود قومی اُمنگوں کے عین مطابق جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 28مئی 1998ء کو بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں چاغی کے مقام پر سات دھماکے کرکے دشمنوں کو یہ پیغام دے دیا کہ اب پاکستان دشمنوں کے لئے تر نوالہ نہیں بلکہ ایک ایٹمی طاقت بن چکا ہے ۔ امریکی صدر کلنٹن نے پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد ایک انٹرویو کے دوران جب کسی نے ان سے یہ پوچھا کہ امریکی دباؤ کے باوجود پاکستان کو یہ ایٹمی دھماکہ کرنا چاہئے تھا یا نہیں؟ تو انہوں نے بڑا دلچسپ جواب دیا کہ یہ ایٹمی دھماکہ پاکستان کے مفاد میں تھا اگر میں بھی ان کی جگہ ہوتا تو میرا فیصلہ بھی یہی ہوتا ۔
ان پانچوں لیڈروں کو پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بھاری قیمت چکانا پڑی ۔پاکستانی نیوکلیئر پروگرام کے خالق ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے ایک مقدمے میں عدالت سے پھانسی کی سزا دلواکر راستے سے ہٹا دیا گیا ۔ امریکہ کے سابق وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے ان کو یہ تنبیہ کی تھی کہ اگر انہوں نے نیوکلیئر پروگرام بند نہ کیا تو دنیا ان کا انجام دیکھے گی۔ خود بھٹو صاحب بھی پھانسی پر چڑھنے سے پہلے تک یہ کہتے رہے کہ مجھے پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام شروع کرنے کی سزا دی جارہی ہے۔ نیوکلیئر پروگرام کو جاری رکھنے والی دوسری شخصیت جنرل ضیاء الحق کا طیارہ بھی اس طرح تباہ ہوا جس کا آج تک پتہ نہ چل سکا ان کے ساتھ وہ تمام سینئرز جنرلز بھی جاں بحق ہوئے جو ایٹمی پروگرام سے وابستہ تھے۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل سے ایک ملاقات میں جب میں نے ان سے پوچھا کہ جنرل ضیاء الحق کے حادثے میں کون ملوث ہے تو انہوں نے بلا توقف امریکہ کا نام لیا۔ بے نظیر صاحبہ کے سفاکانہ قتل کا معمہ بھی آج تک حل نہ ہوسکا۔ واضح ہو کہ ان کے دونوں ادوارِ حکومت میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے کے حوالے سے بڑا زور تھا مگر انہوں نے اس دباؤکو قبول نہیں کیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بانی ایٹم بم ہونے کی بڑی کڑی سزا پائی اور انہیں جنرل مشرف کے ہاتھوں ٹی وی پر ناکردہ جرم کا اقبال کروا کر ان کی تذلیل کی گئی اور انہیں اور ان کی فیملی کو کئی سال سب جیل میں رکھا گیا جہاں انہیں کسی سے ملنے کی اجازت نہ تھی اور اسی دوران قومی ہیرو مناسب طبی سہولتیں میسر نہ ہونے کی وجہ سے کینسر جیسے موزی مرض میں مبتلا ہوئے۔ان کے معالج ڈاکٹرز کو مشرف حکومت کی طرف سے یہ کہا گیا تھا کہ وہ ان کی بیماری کا علاج حکومتی مرضی کے مطابق کریں مگر ان کے معالجین نے اس دباؤ کو قبول کرنے سے انکارکردیا ۔ جنرل مشرف کے جانے کے بعد انہیں رہائی نصیب ہوئی جس پر امریکہ خوش نہیں ۔ نواز شریف نے بھی ایٹمی دھماکے کرنے کی جرأت کا خمیازہ بھگتا اور ان کی دو تہائی اکثریت رکھنے والی حکومت کا خاتمہ عمل میں آیا اور ایٹمی دھماکہ کرنے والا وزیر اعظم کئی ماہ تک پابند سلاسل رہا اور اس کے بعد تقریباً آٹھ سال انہیں جلاوطنی میں گزارنے پڑے۔ وہ اپنے والد کی تدفین میں بھی شریک نہ ہوسکے۔
پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کی ایک طویل داستان ہے جس کے حصول میں بڑے نشیب و فراز سے گزرنا پڑا ۔دشمنوں نے ہمارے ایٹمی پروگرام کو سبوتاژکرنے کی کئی بار کوششیں کیں۔حال ہی میں آئی بی کے سابق سربراہ بریگیڈیئر امتیاز احمد نے ایک انکشاف کیا کہ کس طرح امریکی ہمارے کچھ انجینئر اور سائنسدانوں کو خرید کر ہماری نیوکلیئر تنصیبات کو تکنیکی طور پر تباہ کرنا چاہتے تھے مگر اللہ نے کراچی کی ایک خاتون لیکچرار کے ذریعے اس منصوبے سے پردہ اُٹھایا اور دشمن اپنے ناپاک عزائم میں ناکام ہوا۔ اسی طرح کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کی حدود میں ایک چرواہے کی نظر کچھ بڑے پتھروں پر پڑی جن میں جاسوسی کے حساس آلات اور کیمرے نصب تھے جن کے ذریعے وہاں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جارہی تھی۔ اسی سلسلے کا ایک واقعہ قارئین کی دلچسپی کا باعث ہوگا کہ جب ضیاء الحق اپنے دور صدارت میں امریکہ کے دورے پر گئے تو وہاں وائٹ ہاؤس میں ایک میٹنگ میں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ ہمارا ایٹمی پروگرام منجمد ہے ۔اس پر وہاں موجود سی آئی اے کے سربراہ نے ایک فلم دکھائی جس سے ظاہر ہو رہا تھا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام منجمد نہیں بلکہ جاری ہے ۔ شاید یہ فلم بھی مذکورہ پتھروں میں نصب شدہ کیمروں کی مدد سے بنائی گئی تھی ۔ جنرل اسلم بیگ نے بتایا کہ 1990ء میں بھارت،امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے مشترکہ طور پر پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرنے کا پروگرام بنایا گیا تھا جس پر پاکستان کے وزیر خارجہ کو اس پیغام کے ساتھ دہلی بھیجا گیا کہ اگر پاکستان کی نیوکلیئر تنصیبات پر کوئی بھی حملہ ہوتا ہے تو پاکستان بھارت کو اس کا ذمہ دار ٹھہرائے گا اور بھرپور جوابی حملہ کرے گا۔اسی دوران جب امریکی سیٹلائیٹ سے لی گئی تصاویر سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ نیوکلیئر وارہیڈ سے لیس ایف 16طیاروں کے ایک اسکوارڈن کو پاک فضائیہ نے ایئر بیس پر منتقل کیا ہے۔ حکم ملتے ہی ان طیاروں نے بھارتی نیوکلیئر تنصیبات ٹروم بے،ٹرینکو میلی اور دوسرے مقامات پر حملے کرنے تھے۔ اس معلومات سے دہلی اور واشنگٹن میں کھلبلی مچ گئی اور دشمن ہماری نیوکلیئر تنصیبات پر حملے کی حماقت سے باز رہا۔ آج دشمن عملی طور پر ناکام ہونے کے بعد ایک اور چال چل رہا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار غیر محفوظ ہیں اور دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں اور دنیا کے لئے تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں ۔اس پروپیگنڈے کا مقصد ہمارے ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کرنا ہے۔ انشاء اللہ دشمن کا یہ حربہ بھی پہلے کے حربوں کی طرح ناکام ہوگا۔دنیا پر یہ واضح ہونا چاہئے کہ پاکستانی قوم اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایٹمی صلاحیت کی حفاظت کرنا بھی بخوبی جانتی ہے۔