• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سترہویں آئینی ترمیم اور تاریخ کا سبق,,,,سید انور محمود

یہ چار جولائی 1977ء کی سہ پہر کا ذکر ہے۔ میں اس وقت پاکستان کے انتہائی با اثر وزیر تعلیم اور وزیر برائے صوبائی رابطہ عبدالحفیظ پیرزادہ کے ہمراہ راولپنڈی جا رہا تھا جہاں انہیں وزیراعظم کے ساتھ ہونے والے ایک اہم اجلاس میں شریک ہونا تھا۔ جونہی ہم اسلام آباد ایکسپریس وے کے قریب سے گزرے تو میں نے مسٹر پیرزادہ کی توجہ ملک کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کی جانب دلاتے ہوئے کہا کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں ملکی حالات کا جو نقشہ کھینچ رہی ہیں ان کے پیش نظر، وزیر اعظم نے اپوزیشن کو آگ اگلنے کی اجازت کیوں دے رکھی ہے؟؟ یاد رہے کہ مسٹر پیرزادہ حکومت کی جانب سے نامزد کئے گئے نمائندے کی حیثیت سے معاہدے کے مسودے کی ڈرافٹنگ کمیٹی میں پاکستان قومی اتحاد کے نامزد کردہ نمائندے پروفیسر غفور احمد کے ساتھ مل کر کام کررہے تھے جس کے بارے میں، میں آگے چل کر لکھوں گا۔ بہرحال مسٹر پیرزادہ نے امید ظاہر کی کہ آج شام تک معاہدے پر دستخط کی کوئی نہ کوئی سبیل ضرور نکل آئے گی اور کوئی نہ کوئی فیصلہ ہو کررہے گا۔ جب میں مسٹر پیرزادہ کو وزیراعظم کے دفتر پر چھوڑ کر واپس آرہا تھا تو سورج مرگلہ کی پہاڑیوں کے عقب میں غروب ہورہا تھا۔ اس وقت ہمیں کیا خبر تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی زندگی کے افق پر بھی سورج غروب ہونے جا رہا ہے؟ دوسری صبح، پاکستان اپنے تیسرے اور طویل ترین مارشل لاء کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہوگیا۔ جب ملک میں جنرل ایوب خان نے 1958ء میں پہلا مارشل لاء نافذ کیا اس وقت میں ساتویں کلاس کا طالبعلم تھا۔ جنرل یحییٰ کا مارشل لاء آیا تو میں یونیورسٹی کی تعلیم سے فارغ ہوچکا تھا۔ پہلے والے جنرل یعنی ایوب خان نے مشرقی پاکستان کے باشندوں میں علیحدگی پسندی کے رجحانات پیدا کرنے میں نمایاں حصہ لیا جب کہ دوسرے نے پاکستان کے دولخت اور دونیم ہونے کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء اپنے ہمراہ منشیات، کلاشنکوف اور مذہبی تشدد کے تحفے لے کر آیا چنانچہ آج تک ہم اس کی لگائی ہوئی فصل کاٹنے میں مصروف ہیں۔ جنرل مشرف کی فوجی حکومت کے اقدامات حالات اور واقعات آج بھی ہمارے ذہنوں میں تازہ ہیں جنہیں نائن الیون کے سانحے نے مزید تقویت بخشی۔ انہیں قسمت نے ایک بہترین موقع فراہم کیا تھا جس کے نتیجے میں وہ خود جمہوریت کی جڑیں مضبوط کرنے والے جنرل کی تاریخی حیثیت دے سکتے تھے۔ انہوں نے آزاد میڈیا کے قیام کی غرض سے ہر ممکن سہولت فراہم کی اور تنازع کشمیر پر گفت و شنید اور مذاکرات کی داغ بیل ڈالی۔ بدقسمتی سے 9مارچ 2007ء کو انہوں نے جو اقدام کیا اس کے نتیجے میں ان کے تمام کئے کرائے پر پانی پھر گیا۔ میں پاکستانی سیاسی تاریخ کے ان تمام واقعات کو اکثر و بیشتر ذہن میں تازہ کرتا رہتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ جمہوریت ہمارے معاشرے میں اس قدر کمزور کیوں رہی ہے اور ہم آج تک مرض کے بجائے اس کی علامات کے علاج پر ہی کیوں توجہ دیتے آ رہے ہیں؟؟1958ء اور آج کے حالات میں اگر کوئی فرق واقع ہوا ہے تو صرف یہی کہ آج ہمارے ملک میں ایک آزاد اور مضبوط عدلیہ موجود ہے۔ تاہم حقیقت یہ بھی ہے کہ ملک کا ہر ادارہ صرف اپنی اپنی تفویض کردہ ذمہ داریاں ہی ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے اگر وہ اپنی مقرر کردہ فرائض اور ذمے داریوں سے تجاوز کی کوشش کرے گا تو ایسی صورت میں ملک اور اس ادارے دونوں کو نقصان کا سامنا کرنا ہوگا۔ عام اور مقبول عوامی جذبات کے خلاف لکھنا کافی کٹھن ہوتا ہے ہم ایسے معاملات میں جہاں مقبول عام عوامی جذبات، مکمل علم اور کامل شعور پر مبنی نہ ہوں اور انہیں (عوام کو)اس مسئلے کے بارے میں کماحقہ علم نہ ہو تو ایسی صورت میں میڈیا کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ مسئلہ کے تمام پہلوؤں کو بار بار اجاگر کرتا رہے تاکہ عوام کی آگہی میں اضافہ ہوسکے اور وہ زیر بحث مسئلے کے تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد کسی فیصلے اور نتیجے تک خود ہی پہنچ سکیں۔ سترہویں آئینی ترمیم کا مسئلہ بھی ایسا ہی ایک مسئلہ ہے جس کا بغور اور یکسوئی کے ساتھ مطالعہ اور تجزیہ ازحد ضروری ہے تاکہ جذبات سے قطع نظر اس متنازع مسئلے کا جائزہ لیا جاسکے۔ اس مسئلے کا جائزہ ہماری گزشتہ 6 برس کی سیاسی تاریخ کے تناظر میں لیا جانا چاہئے۔ وہ افراد جنہیں کسی بھی وجہ سے موقع نہیں مل سکا کہ سترہویں آئینی ترمیم کا بغور مطالعہ اور جائزہ لے سکیں ان کے لئے اس آئینی ترمیم کے اہم نکات ذیل میں درج کئے جا رہے ہیں۔
سترہویں آئینی ترمیم کے اہم نکات
(1) اقلیتوں کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی عام نشستوں کے علاوہ محفوظ نشستوں کے لئے بھی اپنا ووٹ دے سکتے ہیں۔
(2)پارلیمینٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں عورتوں کو بڑی تعداد میں محفوظ نشستیں فراہم کی گئی ہیں۔
(3) پارلیمینٹ کے ارکان کو یہ حق بھی دیا گیا ہے کہ وہ (ماسوائے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے، انتخاب کے مواقع پر ہارس ٹریڈنگ کی مخالفت سے اختلاف کے ہر مسئلے پر اپنی مخالفانہ رائے دے سکتے ہیں اور اختلاف رائے کا پورا حق انہیں حاصل ہے۔ چودھویں آئینی ترمیم، جس کی رو سے ضمیر کے مطابق اپنی رائے دینے کا حق ان سے چھین لیا گیاتھا اسے فوری طور پر منسوخ کیا جاتا ہے۔
(4)سپریم جوڈیشل کونسل اور چیف جسٹس صاحبان کو اس بات کا اختیار ہوگا کہ وہ کسی بھی جج کے خلاف ریفرنس دائر کرسکتے ہیں۔ اس سے قبل یہ اختیار صرف ملک کے صدر ہی کو حاصل تھا۔
(5) ججوں کی تقرری سے قبل، صدر مملکت کے لئے چیف جسٹس سے ضروری مشاورت کرنا لازمی ہوگا۔
(6) ووٹ دینے کی غرض سے، اکیس برس کی عمر میں تخفیف کرکے اسے اٹھارہ برس کردیا گیا ہے جس کے نتیجے میں نوجوان نسل کو مزید اختیارات حاصل ہوں گے۔
(7) ملک کے ایسے علاقوں کو پارلیمنٹ میں اضافی نشستیں دے دی گئی ہیں جن کی پارلیمینٹ میں اس سے قبل نمائندگی کم تھی۔ (8) سیاسی جماعتوں کو اس بات کا پابند کردیا گیا ہے کہ وہ پارٹی کے اندر انتخابات کرائیں گی۔
(9) قرضوں کے نادہندگان، جرائم میں ماخوذ اور بھگوڑوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوگی۔
(10)صوبوں کو پابند کردیا گیا ہے کہ وہ مقامی حکومتیں تشکیل دیں اور منتخب عوامی نمائندوں کو اختیارات نچلی سطح تک منتقل کردیں۔
(11)حکومت کو یہ اختیارات دیئے گئے ہیں کہ وہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے موقع پر عارضی، عبوری اور غیر جانبدار حکومتیں قائم کرسکے۔
(12) جج صاحبان، جن میں وہ تمام سینئر جج صاحبان بھی شامل ہیں، جواب بھی ملازمت میں ہیں اور 2000ء میں پی سی او کے تحت حلف لے چکے ہیں ان تمام کو بدستور قانونی حیثیت حاصل رہے گی۔
بہر نوع صدر مملکت کے حوالے سے سترہویں آئینی ترمیم میں دو متنازع شقیں شامل ہیں۔
(الف) آرٹیکل 58(2)a کے تحت وزیراعظم (جسے صرف ایک ہی ایوان یعنی قومی اسمبلی نے منتخب کیا ہے) اپنی صوابدید کے عین مطابق اسمبلی کو تحلیل کرسکتا ہے۔ ایسا ہی اختیار جو مقابلتاً ذرا نرم ہے صدر مملکت کو بھی حاصل ہوگا، جسے زیادہ بڑے اور وسیع انتخابی ادارے نے منتخب کیا ہے جو قومی اسمبلی، سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کا منتخب کردہ ہے۔ بہرحال صدر کے قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا فیصلہ، پندرہ یوم کے اندر اندر سپریم کورٹ کو ریفر کیا جاسکتا ہے جس پر سپریم کورٹ تیس یوم کے اندر اندر فیصلہ صادر کرنے کا پابند ہوگا۔ یہ فیصلہ آخری اور حتمی ہوگا۔
(ب) تینوں مسلح افواج کے سربراہوں کا تقرر صدر مملکت کریں گے آئین کے تحت صدر مملکت کو کسی قسم کے انتظامی اختیارات حاصل نہیں ہیں اور تمام انتظامی فیصلے وزیراعظم کو کرنا ہوتے ہیں۔ آئین کے مطابق تو ایسا ہی ہونا چاہئے۔ تاہم صدر کی حیثیت سے جنرل مشرف نے جو اختیارات استعمال کئے وہ اس لئے بھی تھے کہ آرمی چیف کا عہدہ بھی انہی کے پاس تھا۔ اب آصف علی زرداری زیادہ اختیارات کے حامل صرف اس وجہ سے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت بھی انہی کے ہاتھوں میں ہے۔ ہمیں طاقت کی سیاست کے اسرار و رموز کو سمجھنا ہوگا۔ اگر صدر زرداری کو بحیثیت صدر منتخب نہ کیا جاتا تو وہ دوسری سونیا گاندھی بن سکتے تھے اور اگر سونیا گاندھی بھارت کی صدارت کا عہدہ قبول کرلیتیں تو وہ بھی زرداری کی طرح مکمل اختیارات کی حامل بن سکتی تھیں اور ان کا اثر و رسوخ بھی کانگریس پر بدستور قائم رہتا۔
اب میں اپنے قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ وہ میری ان معروضات کو بغور پڑھنے کے بعد اپنے نتائج خود اخذ کریں تاہم منتخب عوامی نمائندوں سے کہوں گا کہ ازراہ کرم سترہویں ترمیم کے خلاف کوئی فیصلہ کرنے سے پیشتر قطعاً غیر جذباتی ہو کر سوچیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ”ماورائے آئین“ مداخلت کو آپ محض خواہش کے زور پر روک نہیں سکتے ہاں آپ ایک ”سیفٹی والو“ کے ذریعے اسے فاصلے پر رکھ کر اس سے اپنا دامن بچا سکتے ہیں جو کسی بھی سیاسی بحران اور تعطل کو حل کرنے کے لئے کام آسکتا ہے۔
تازہ ترین