• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حضرت بایزید بسطامی اور پانچ سوراہب,,,,سحر ہونے تک … ڈاکٹر عبدالقدیرخان

اللہ تعا لیٰ نے ہمیں نہ صرف مختلف شکل و صورت میں پیدا کیا ہے بلکہ ہمارا کردار بھی ایک دوسرے سے مختلف بنایا ہے۔ اسی طرح ہمارا ذوق ادب بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ میں اپنے بارے میں یہ عرض کروں گا کہ مجھے طالب علمی کے زمانہ سے ہی اسلامی تاریخ ، اردو ادب اور مشہور لوگوں کی سوانح حیات پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ بہت سی کتابیں میری پسندیدہ ہیں اور آج بھی ان کی ورق گردانی کرکے لطف اندوز ہوتا ہوں۔ تمام پرانے شعراء کے کلام کا مطالعہ محبوب مشغلہ ہے۔ پسندیدہ کتابوں میں نسیم حجازی کی کتابیں، الفاروق ، روڈ ٹو مکّہ، غبار خاطر، اردو کی آخری کتاب وغیرہ وغیرہ بہت پسند ہیں۔ قرآن، سیرت النبی کے علاوہ ابنِ بطوطہ کا سفر نامہ اور تذکرةُ الاُولیاء مجھے بہت پسند ہیں۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارے لئے تذکرةُالا ُولیاء بہت مفید اور معلوماتی کتاب ہے۔ اس میں چھیانوے اولیاء کرام کے زندگی کے حالات اور ان کے مکاشفات کے بارے میں نہایت دلچسپ واقعات بیان کئے گئے ہیں۔
تذکرةُالا ُولیآء حضرت فریدالدین عطار کی تصنیف کردہ ہے جو خود بھی اولیاء اللہ کا مرتبہ رکھتے تھے۔ اس کو شائع ہوئے تقریباً آٹھ سو سال ہوگئے ہیں۔ حضرت عطار پانچ سو تیرہ ہجری کو نیشاپور کے مضافات میں پیدا ہوئے تھے اور وہیں چھ سو ستائیس کو ایک تاتاری سپاہی کے ہاتھوں جام شہادت نوش فرمایا۔
اس کتاب میں حضرت بایزید بسطامی کا تذکرہ بھی ہے۔ یہ اپنے وقت کے بہت بڑے ولی اللہ مانے جاتے تھے۔ آپ کے بارے میں حضرت جُنید بغدادی نے فرمایا تھا کہ حضرت بایزید  کو اولیاء میں وہی رُتبہ حاصل ہے جو حضرت جبرائیل  کو ملائکہ میں۔ تذکرةُالاولیاء میں حضرت بایزید کے بارے میں بہت سی معلومات ہیں مگر ایک بہت اہم واقعہ بیان نہیں کیا گیا ہے۔ میں نے مناسب سمجھا کہ وہ آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ یہ واقعہ مولانا الحاج کپتان واحد بخش سیال چشتی صابری نے اپنی تصنیف رُوحانیتِ اسلام (الفیصل ناشران و تاجران کتب لاہور) میں تفصیلی طور پر بیان کیا ہے۔ یہ وہی کپتان سیال ہیں جنہوں نے اسلام آباد اےئر پورٹ پر بوئنگ 747جس کے پہیہ نہیں کھلے تھے بحفاظت اُتار دیا تھا اور کسی مسافر کو خراش تک نہیں آئی تھی۔ میں ان کی اس کتاب سے حضرت بایزید اور پانچ سو عیسائی پادریوں کے مسلمان ہونے کا واقعہ حرف بحرف پیش کر رہا ہوں۔
حضرت بایزید بسطامی
کے دستِ حق پرست پرپانچ صد (۰۰۵) عیسائیوں کا مشرف بہ اسلام ہونا
حضرت شیخ بایزید بسطامی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں ایک سفر میں خلوت سے لذّت حاصل کر رہا تھا اور فکر میں مستغرق تھا اور ذکر سے اُنس حاصل کر رہا تھا کہ میرے دل میں ندا سنائی دی، اے بایزید دَرِسمعان کی طرف چل اور عیسائیوں کے ساتھ ان کی عید اورقربانی میں حاضر ہو۔ اس میں ایک شاندار واقعہ ہوگا۔ تو میں نے اعوذباللہ پڑھا اور کہا کہ پھر اس وسوسہ کو دوبارہ نہیں آنے دوں گا۔ جب رات ہوئی تو خواب میں ہاتف کی وہی آواز سنی۔ جب بیدار ہوا تو بدن میں لرزہ تھا۔ پھر سوچنے لگا کہ اس بارے میں فرمانبرداری کروں یا نہ تو پھر میرے باطن سے ندا آئی کہ ڈرو مت کہ تم ہمارے نزدیک اولیاء اخیار میں سے ہو اور ابرار کے دفتر میں لکھے ہوئے ہو لیکن راہبوں کا لباس پہن لو اور ہماری رضا کے لئے زنّار باندھ لو۔ آپ پر کوئی گناہ یا انکار نہیں ہوگا۔ حضرت شیخ فرماتے ہیں کہ صبح سویرے میں نے عیسائیوں کا لباس پہنا زنار کو باندھا اور دَیر سمعان پہنچ گیا۔ وہ ان کی عید کا دن تھا مختلف علاقوں کے راہب دیر سمعان کے بڑے راہب سے فیض حاصل کرنے اور ارشادات سننے کے لئے حاضر ہو رہے تھے میں بھی راہب کے لباس میں ان کی مجلس میں جا بیٹھا۔ جب بڑا راہب آکر ممبر پر بیٹھا تو سب خاموش ہو گئے۔ بڑے راہب نے جب بولنے کا ارادہ کیا تو اس کا ممبر لرزنے لگا اور کچھ بول نہ سکا گویا اس کا منہ کسی نے لگام سے بند کر رکھا ہے توسب راہب اور علماء کہنے لگے اے مرشد ربّانی کون سی چیز آپ کو گفتگو سے مانع ہے۔ ہم آپ کے ارشادات سے ہدایت پاتے ہیں اورآپ کے علم کی اقتدا کرتے ہیں۔ بڑے راہب نے کہا کہ میرے بولنے میں یہ امر مانع ہے کہ تم میں ایک محمّدی شخص آ بیٹھا ہے۔ وہ تمہارے دین کی آزمائش کے لئے آیا ہے لیکن یہ اس کی زیادتی ہے۔ سب نے کہا ہمیں وہ شخص دکھا دو ہم فوراً اس کو قتل کر ڈالیں گے۔ اُس نے کہا بغیر دلیل اور حجت کے اس کو قتل نہ کرو، میں امتحاناً اس سے علم الادیان کے چند مسائل پوچھتا ہوں اگر اس نے سب کے صحیح جواب دیئے تو ہم اس کو چھوڑ دیں گے، ورنہ قتل کردیں گے کیونکہ امتحان مرد کی عزّت ہوتی ہے یا رسوائی یا ذِلّت۔ سب نے کہاآپ جس طرح چاہیں کریں ہم آپ کے خوشہ چیں ہیں۔ تو وہ بڑا راہب ممبر پر کھڑا ہوکر پکارنے لگا۔ اے محمّدی، تجھے محمّد کی قسم کھڑا ہو جا کہ سب لوگ تجھے دیکھ سکیں تو بایزید رحمةاللہ علیہ کھڑے ہو گئے۔ اس وقت آپ کی زبان پر رب تعالیٰ کی تقدیس اور تمجید کے کلمات جاری تھے۔ اس بڑے پادری نے کہا اے محمّدی میں تجھ سے چند مسائل پوچھتا ہوں۔ اگر تو نے پوری وضاحت سے ان سب سوالوں کا جواب باصواب دیا تو ہم تیری اتباع کریں گے ورنہ تجھے قتل کردیں گے۔ تو بایزید رحمةاللہ علیہ نے فرمایا کہ تو معقول یا منقول جو چیز پوچھنا چاہتا ہے پوچھ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اور ہمارے درمیان گواہ ہے۔ تو اس پادری نے کہا۔
وہ ایک بتاؤجس کا دوسرا نہ ہو اور وہ دو بتاؤ جن کا تیسرا نہ ہو اور وہ تین جن کا چوتھا نہ ہو اور وہ چار جن کا پانچواں نہ ہو اور وہ پانچ جن کا چھٹا نہ ہو اور وہ چھ جن کا ساتواں نہ ہو اور وہ سات جن کا آٹھواں نہ ہو اور وہ نو جن کا دسواں نہ ہو اور وہ دس جن کا گیارہواں نہ ہو اور وہ بارہ جن کا تیرہواں نہ ہو۔
اور وہ قوم بتاؤجو جھوٹی ہو اور بہشت میں جائے اور وہ قوم بتاؤ جو سچّی ہو اور دوزخ میں جائے اور بتاؤ کہ تمہارے جسم سے کون سی جگہ تمہارے نام کی قرارگاہ ہے اور الْذارِیاتِ ذروًا کیا ہے اور اَلْحاَمِلَاتِ وِقْراً کیا ہے اور اَلْجَارِیَاتِ یَسْرًا کیا ہے اور اَلْمُقَسِّمَاتِ اَمْرًا کیا ہے۔ اور وہ کیا ہے جو بے جان ہو اور سانس لے۔ اور ہم تجھ سے وہ چودہ پوچھتے ہیں جنہوں نے رَبُّ العالمین کے ساتھ گفتگو کی اور وہ قبر پوچھتے ہیں جو مقبور کو لے کر چلی ہو اور وہ پانی جو نہ آسمان سے نازل ہوا ہو اور نہ زمین سے نکلا ہو اور وہ چار جو نہ باپ کی پشت اور نہ شکم مادر سے پیدا ہوئے ۔ اور پہلا خون جو زمین پر بہایا گیا۔ اور وہ چیز پوچھتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہو اور پھراس کو خرید لیا ہو اور وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا پھر نا پسند فرمایاہو۔ اور وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہو پھر اس کی عظمت بیان کی ہو اور وہ چیز جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہو پھر خو د پوچھا ہو کہ یہ کیا ہے۔ اور وہ کون سی عورتیں ہیں جو دنیا بھر کی عورتوں سے افضل ہیں اور کون سے دریا دنیا بھر کے دریاؤں سے افضل ہیں اور کون سے پہاڑ دنیا بھر کے پہاڑوں سے افضل ہیں اور کون سے جانور سب جانوروں سے افضل ہیں اور کون سے مہینے افضل ہیں اور کون سی راتیں افضل ہیں اور طَآمَّہ کیا ہے۔ اور وہ درخت بتاؤ جس کی بارہ ٹہنیاں ہیں اور ہر ٹہنی پر تیس پتّے ہیں اور ہر پتّے پر پانچ پھُول ہیں دو پھُول دھوپ میں اور تین پھُول سایہ میں ۔ اور وہ چیز بتاؤجس نے بیت اللہ کا حج اور طواف کیا ہو نہ اُس میں جان ہو اور نہ اُس پر حج فرض ہو۔ اور کتنے نبی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے اور اُن میں سے رُسول کتنے ہیں اور غیر رسُول کتنے۔ اور وہ چار چیزیں بتاؤ جن کا مزہ اور رنگ اپنا اپنا ہو اور سب کی جڑ ایک ہواور نقیر کیا ہے اور قطمیر کیا ہے اور فتیل کیاہے اور سبدولبد کیا ہے طَم ّ وَرم ّ کیا ہے۔ اور ہمیں یہ بتاؤ کہ کتّا بھونکتے وقت کیا کہتا ہے اور گدھا ہینگتے وقت کیا کہتا ہے اور بیل کیا کہتا ہے اور گھوڑا کیا کہتا ہے اور اونٹ کیا کہتا ہے اور مور کیا کہتا ہے اور بلبل کیا کہتا ہے اور مینڈک کیا کہتا ہے جب ناقوس بجتا ہے تو کیا کہتا ہے۔ اور وہ قوم بتاؤ جن پر اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی ہو اور نہ انسان ہوں اور نہ جن اور نہ فرشتے ۔ اور یہ بتاؤ کہ جب دن ہوتا ہے تو رات کہاں چلی جاتی ہے اور جب رات ہوتی ہے تو دن کہاں چلا جاتا ہے۔ تو حضرت بایزید بسطامی نے فرمایا کہ کوئی اور سوال ہو تو بتاؤ۔ وہ پادری بولا کہ اور کوئی سوال نہیں۔ آپ نے فرمایا اگر میں ان سب سوالوں کا شافی جواب دے دوں تو تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایمان لاؤ گے۔ سب نے کہا ہاں، پھر آپ نے کہا اے اللہ تو ان کی اس بات کا گواہ ہے۔
یک زمانہ صحبت با اُولیا
بہتر اَز صَد سالہ طاعتِ بے ریا
(جاری ہے)
تازہ ترین