• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکہ کو جنگ کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے!,,,, سیّد معظم حئی

کبھی آپ نے غور کیا کہ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد جب سے امریکہ کو دنیا کے معاملات میں باقاعدہ سپر پاور کی حیثیت حاصل ہوئی ہے تب سے لے کر آج تک کوئی بھی عشرہ ایسا نہیں گزرا جب دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں کوئی ملٹی نیشنل یعنی کثیرالقومی جنگ نہیں ہوئی ہو۔ 50ء کی دہائی میں 1950ء سے لے کر 1953ء تک کوریا کی جنگ جاری رہی جس میں کوئی پچیس لاکھ کے قریب کورین باشندے ہلاک یا زخمی ہوئے۔ 50ء کی دہائی ختم ہو رہی تھی کہ ویت نام کی جنگ کا آغاز ہو گیا۔ 26/ستمبر 1959ء سے 30/اپریل 1975ء تک ہونے والی اس جنگ میں تقریباً پندرہ لاکھ اکیاسی ہزار جنوبی ویت نامی، بیس لاکھ شمالی ویت نامی، سات لاکھ کیمبوڈیائی اور لاؤس کے پچاس ہزار شہری ہلاک ہوئے۔1970ء کا عشرہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ 27/دسمبر 1979ء سے باقاعدہ افغان جنگ کا آغاز ہوگیا جو 15/فروری 1989ء تک جاری رہی۔ آج تک صحیح طور پر پتہ نہیں چل سکا کہ اس جنگ میں کتنے افغان باشندے ہلاک ہوئے۔ مختلف جائزوں میں یہ تعداد سات لاکھ سے لے کر بیس لاکھ تک بتائی جاتی ہے۔ 90ء کی دہائی کا آغاز ہوا ہی تھا کہ خلیج کی جنگ لڑی گئی۔ کہنے کو تو اس پہلی عراق جنگ میں چند ہزار عراقی اور کویتی باشندے ہلاک ہوئے تاہم اس جنگ کے بعد عراق پر عائد کی جانے والی اقوام متحدہ کی پابندیوں کے نتیجے میں کہتے ہیں کہ تقریباً پندرہ لاکھ تک عراقی شہری جن میں تقریباً پانچ لاکھ بچے بھی شامل تھے اپنی جان سے گئے۔ اقوام متحدہ کی ان پابندیوں سے پہلے عراق میں نومولود بچوں میں اموات کی شرح 1000 میں 47 تھی جو ان پابندیوں کے بعد بڑھ کر 1000 میں 108 ہو گئی۔ نئی صدی اور نئی دہائی کے ساتھ پہلے افغان اور پھر عراق جنگ شروع ہوئی۔ افغان جنگ میں اب تک تقریباً تیس ہزار تک باشندے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دوسری عراق جنگ میں اب تک تقریباً تیرہ لاکھ عراقی ہلاک ہو چکے ہیں اور ابھی یہ جنگیں ختم نہیں ہوئیں۔
ان تمام جنگوں میں لاکھوں کی تعداد میں بے گناہ نہتے انسانوں کی ہلاکت کے علاوہ جو دوسرا عنصر مشترک ہے وہ ہے امریکہ کی موجودگی۔ ان تمام جنگوں میں امریکہ کسی نہ کسی طرح شامل رہا ہے بلکہ پہلی افغان جنگ کو چھوڑ کر ان تمام جنگوں میں امریکی سپاہی فرنٹ لائن پر موجود رہے ہیں۔ وہ تمام لوگ جو امریکہ میں موجود عام انصاف اور جمہوری روایات کے معترف ہیں، اس بات پر حیران ہوتے ہیں کہ آخر ہر کثیرالقومی جنگ میں امریکہ ہی کیوں موجود ہوتا ہے اور لاکھوں بے گناہ باشندے کو ہلاک کرتا ہے۔ بہت سے امریکی دانشور اس کا جواب دیتے ہیں کہ امریکہ نے یہ تمام جنگیں نظریئے کی بنیاد پر لڑی ہیں مثلاً 80ء کی دہائی تک آزاد دنیا کو کمیونزم کے خطرے سے بچانے کیلئے 90ء کی دہائی میں کویت کو آزاد کرانے کیلئے اور 2000ء کی پہلی دہائی میں اسلامی اور اب انتہاپسند دہشت گردی سے دنیا کو محفوظ کرنے کیلئے۔ یہی امریکی دانشور یہ بھی کہتے ہیں کہ اکثر امریکہ نے مجبور ہو کر ان جنگوں میں حصہ لیا۔ حالات و واقعات ایسے ہوئے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی امریکہ کو کئی جنگوں میں حصہ لینا پڑا۔ اگر آپ اس بارے میں تاریخ سے پوچھیں تو اسے ان امریکی دانشوروں سے اختلاف ہے مثلاً امریکی حکومت نے 4/اگست 1964ء کو الزام لگایا کہ گلف آف ٹونکن کے سمندر میں اس کے بحری جہازوں پر ویت نامیوں نے حملہ کیا۔ اس حملے کی بنیاد پر امریکی کانگریس نے گلف آف ٹونکن قرارداد (Gulf of Tonkin resolution) منظور کی جس نے امریکی صدر لنن جانسن کو جنوب مشرقی ایشیا میں فوجی آپریشنز کرنے کا اختیار دیا، جس کے بعد ویت نام میں امریکہ کی جنگ کا باقاعدہ آغاز ہو گیا۔ تاہم تاریخ میں کئی غیر جانبدار مبصرین نے 4/اگست 1964ء کے واقعے کی حقیقت پر شبہ ظاہر کیا، یہاں تک کہ 2005ء میں امریکہ کی اہم ترین سیکورٹی ایجنسی NSA نے اپنے ڈی کلاسیفائڈ پیپرز میں اس بات کا اعتراف کیا کہ 4/اگست 1964ء کو ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔
25/جولائی 1990ء میں عراق میں موجود امریکی سفیر کی صدام حسین سے ملاقات کے جو ریکارڈ سامنے آئے ہیں ان میں امریکہ کی طرف سے صدام حسین کو کویت کے ساتھ تنازع میں غیر جانبدار رہنے کے اشارے ملتے ہیں مثلاً امریکی سفیر Glaspie نے کہا کہ عرب تنازعات جیسے آپ کے کویت کے ساتھ جھگڑے میں ہماری کوئی رائے نہیں، امریکہ کا کویت کے معاملے کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں۔ امریکی اہلکار کہتے ہیں کہ صدام حسین حکومت نے اس ملاقات کے ریکارڈ میں الفاظ کی ہیر پھیر کی، تاہم امریکی سفیر اور صدام حسین کی اس ملاقات کے چند دن بعد ہی 31/جولائی کو اس وقت کے امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ جان کیلی نے کانگریس کے روبرو بیان دیا کہ امریکہ کی کوئی کمٹمنٹ نہیں کہ وہ کویت کا دفاع کرے اور امریکہ کا کویت کا دفاع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اگر عراق حملہ کر دے۔ دنیا بھر کے کئی غیر جانبدار مبصرین یہ سمجھتے ہیں کہ دراصل امریکہ کی جانب سے صدام حسین کو کویت پر حملہ کرنے کے وہ ڈھکے چھپے مگر واضح سگنل تھے کہ جن کے بعد اس نے 2/اگست 1990ء کو کویت پر حملہ کر دیا۔ ہم ان ہی دنوں میں تھوڑا آگے جائیں تو پتا چلتا ہے کہ کویت پر عراق کے قبضے کے فوراً بعد خلیج میں امریکی فوجوں کی بڑی تعداد کی آمد میں ایک بڑی رکاوٹ اپنی سر زمین پر امریکی فوجیوں کو اترنے کی اجازت دینے میں سعودی حکومت کی ہچکچاہٹ تھی۔ سعودی حکومت مقامات مقدسہ کی موجودگی کی وجہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے احساسات کا خیال رکھتے ہوئے سعودی سرزمین پر امریکی فوجوں کی آمد سے گریز کرنا چاہتی تھی، تاہم امریکی محکمہٴ دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کے پاس ایسی سیٹلائٹ تصاویر ہیں جن میں کویت سعودی سرحد پر ڈھائی لاکھ عراقی فوجی ڈیڑھ ہزار ٹینکوں کے ساتھ سعودی عرب پر حملہ کرنے کی پوزیشن میں موجود ہیں۔ 11/ستمبر 1990ء کو امریکی صدر جارج بش سینئر نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس کو بتایا کہ عراقی فوجیں اور ٹینک (کویت کے) جنوب میں پہنچ کر سعودی عرب کیلئے خطرہ بن چکے ہیں۔ امریکہ ہی کے ایک اخبار سینٹ پیٹرز برگ ٹائمز نے ٹھیک ان ہی دنوں ان ہی علاقوں کی سیٹلائٹ تصاویر روسی کمرشل سیٹلائٹ سے حاصل کیں جن میں اس علاقے میں کوئی عراقی فوجی نظر نہیں آتا۔ تاہم مقصد حاصل ہو چکا تھا، امریکی فوجیں تیل سے مالامال خطے میں نہ ختم ہونے والے عرصے کیلئے قدم جما چکی تھیں۔
20/مارچ 2003ء کو عراق پر حملے سے پہلے بھی امریکی صدر جارج بش جونیئر نے حملہ کرنے کی کچھ ایسی ہی وجوہات دیں۔ شروع میں اس نے کہا کہ عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں پھر اس میں مزید اضافہ کر دیا کہ صدام حسین اور القاعدہ کے دہشت گردوں میں قریبی تعلق موجود ہے۔ مارچ 2003ء سے لے کر اب تک امریکی افواج کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والا ایک بھی ہتھیار نہیں مل سکا، یہاں تک کہ خود امریکیوں نے تسلیم کیا کہ یہ جھوٹ تھا۔(جاری ہے)
تازہ ترین