• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
”یمن میں دہشت گردی پنپ رہی ہے۔ یمن سے پوری دنیا کو خطرات لاحق ہیں۔ یمن میں انتہاء پسندی کے خاتمے کے لیے 28 جنوری کو لندن میں اجلاس منعقد کرنے کی تجویز دی جاتی ہے۔“ یہ الفاظ برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن کے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دے کر کہا کہ وہ یمن سے دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرے۔ اس بیان کے دو دن بعد امریکہ کے صدر بارک اومابا بھی میدان میں کود پڑے۔اوباما نے خطاب کرتے ہوئے کہا: ”افغانستان، پاکستان، صومالیہ اور یمن وہ ممالک ہیں جہاں دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں اور وہ امریکہ پر خونی حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔“ افغانستان اور پاکستان کے بارے میں دس سال سے لگے ہوئے ہیں، لیکن صومالیہ اور یمن کا اس طرح ذکر پہلی مرتبہ کیا ہے۔ حالات سے لگتا ہے شاید اب یمن کی باری آنے کو ہے۔ ”یمن کی باری کیوں ہے“ اس پر تبصرے و تجزیے سے قبل یمن کی قدیم و جدید تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں تاکہ بات سمجھنے میں آسانی ہو۔ یمن دنیا کے قدیم ترین تہذیبی مراکز میں سے ایک ہے۔ 9 ق م اور 6ء کے درمیان اس ”تجارتی مرکز“ پر مختلف حکومتوں کا کنٹرول رہا۔ قدیم رومی اسے ”Arabia Felix“ خوشحال عرب کے نام سے پکارتے تھے۔ یمن میں قوم سبا کا عہد 1100 تا 115 قبل مسیح کا ہے۔ دسویں صدی قبل مسیح میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے عہد میں یمن پر ملکہ بلقیس حکمران تھی۔ 115قبل مسیح میں قوم سبا کی ایک شاخ حمیر نے قوت حاصل کی۔ حمیری بادشاہوں نے آبپاشی کے لئے بہت سے بند تعمیر کیے۔ سب سے بڑا بند ”سدمأرب“ 542 تا 570ء کے درمیان تباہ ہوا۔ حمیری سلطنت کے آخری فرمانروا ذونواس نے اکسومی حبشیوں سے شکست کھائی۔ اکسومیوں نے 72 سال یہاں حکومت کی۔ ابرہہ ”حکمران یمن“ نے 570ء میں خانہ کعبہ پر حملے کا سفر کیا اور تباہ ہوا۔ 598ء میں یمن پر ایرانی قابض ہوگئے۔ 6 ہجری بمطابق 628ء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف حکمرانوں کو دعوتِ اسلام دی تو اس وقت شاہِ ایران خسروپرویز کی طرف سے یمن کا گورنر بازان تھا۔ 8ہجری میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا اور وہاں سب سے بڑا قبیلہ ہمدان مسلمان ہوگیا۔ 10ہجری میں قبیلہ مذحج بھی مسلمان ہوگیا اور حضرت علی  کو حضوراکرم نے وہاں قاضی کے فرائض تفویض کردیئے۔ ریاست نبوی میں حضرموت کا علاقہ ایک صوبہ تھا۔ بعدازاں خلافتِ راشدہ، اُمیہ اور عباسیہ سے ہوتا ہوا سولہویں صدی کے بعد خلافت عثمانیہ کا حصہ رہا۔ 1918ء میں اس کا ایک حصہ شمالی یمن خلافت عثمانیہ سے الگ ہوگیا جو 1962ء میں جمہوریہ بن گیا۔ 1839ء میں برطانوی سامراج نے عدن کی بندرگاہ پر قبضہ کرلیا۔ ستمبر 1839ء میں اسے اپنی نوآبادی بنالیا۔ 28 سال بعد 1967ء میں عدن پر قبضہ ختم کردیا گیا چنانچہ یہ علاقہ جنوبی یمن کی آزاد ریاست بن گیا۔ شمالی وجنوبی یمن 22 مئی 1990ء کو متحد ہوگئے۔ یہ ایک جمہوری ریاست ہے۔ ملک کا سرکاری نام ”الجمہوریة الیمنیة“ ہے۔ اس کا یوم آزادی 22 مئی 1990 ہے۔ یہ دن ہر سال جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔یہ ملک دنیا کے نقشے میں عرض بلد پر 16 درجے شمال اور طول بلد پر 48 درجے مشرق کے نقطہٴ اتصال کے اردگرد واقع ہے۔ س کا کل رقبہ 527970 مربع کلومیٹرہے ۔ رقبے کے اعتبار سے یہ دنیا کا 49 واں بڑا ملک ہے اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کا 51 واں ملک ہے۔ اس میں 99.9 فیصد مسلمان ہیں۔ عرب97.5 فیصد، افریقی عرب 1.2 فیصد اور دیگر 1.2 فیصدہیں۔ یمن میں فی کس آمدنی 1000 ڈالر ہے۔ اس کی سرحدوں کی مجموعی لمبائی 1746 کلومیٹر ہے۔ عمان کے ساتھ 288 کلومیٹر اور 1458 کلومیٹر سعودی عرب کی سرحد لگتی ہے جبکہ 1906 کلومیٹر ساحل سمندر ہے۔اس ملک میں دنیا کی بلند ترین چوٹی ”جبل النبی شعیب “بھی واقع ہے۔ یمن کی صنعتی پیداوارمیں خام تیل، پیٹرول کی صفائی، تجارتی جہازوں کی مرمت، سوتی کپڑا اور چمڑے کا سامان تیار کیا جاتا ہے۔ یمن کی معدنی پیداوار میں سونا، سیسہ، نکل، تانبا، پیٹرولیم، قدرتی گیس، معدنی نمک، کوئلہ اور سنگِ مرمرہے۔ تیل کے مصدقہ ذخائر 3.72 بلین بیرل اور گیس کے مصدقہ ذخائر478.6 بلین مکعب میٹرہیں۔ تیل کی پیداوار 387500 بیرل یومیہ ہے۔ملک یمن محل وقوع کے اعتبار سے مشرقِ وسطیٰ میں جزیرہٴ نمائے عرب کے جنوب مغربی کونے پر ہے۔ اس کے مشرق میں بحیرہٴ عرب، شمال مشرق میں سلطنت عمان، شمال میں سعودی عرب، مغرب میں بحیرہٴ احمر اور جنوب مغرب میں خلیج عدن واقع ہے۔ گویا یمن ”حجاز مقدس “کے ساتھ واقع ہے۔ سامراجی قوتیں یہاں نیا محاذ کھول کر ”حرمین شریفین“ کے اردگرد اپنی موجودگی بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ مسلم دنیا کے روحانی مراکز کے گرد صلیبی حصار قائم کیا جا سکے۔ سی آئی ا ے کی زہریلی رپورٹوں کی بنیاد پر مغربی ذرائع ابلاغ میں کئی دنوں سے یمن میں القاعدہ کے مراکز موجودگی کا پروپیگنڈا بالکل اسی طرح کیا جا رہا ہے جس طرح عراق میں خطرناک کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کا پروپیگنڈا کیا جا تا رہا۔ افغانستان، عراق اور پاکستان کے بعد اب یمن میں القاعدہ کی موجودگی کا شوشہ چھوڑ کر دراصل استعماری طاقتیں عالم اسلام کے خلاف صلیبی جنگ کا دائرہ مزید پھیلا کر عرب دنیا میں اس جنگ کا ایک اور محاذ کھولنا چاہتی ہیں۔ عالمی حالات پر گہری نظر رکھنے والے دانشوروں کا کہناہے یمن میں امریکہ اور یورپ کی مداخلت اسلامی دنیا کے لئے خطرناک مضمرات کا باعث ہو سکتی ہے بالخصوص حرمین کے تحفظ کے حوالے سے یہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے ۔ اسلامی دنیا کو اس معاملے پر خاموش نہیں رہنا چاہئے۔ سامراج کو بھی چاہئے کہ وہ یمن پر حملے سے باز رہے ورنہ اس کے خلاف نفرت میں مزید بلکہ شدید اضافہ ہوجائے گا۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اگر یمن سمیت مسلم دنیا میں انتہاء پسندی پر تشویش ہے تو انہیں اس کے بنیادی اسباب پر بھی غور کرنا چاہئے۔ کیا یہ حقیقت نہیں مشرق وسطیٰ میں اسرائیل نے مسلمانوں کاجینا حرام کر رکھا ہے، ایشیاء میں بھارت کا ہمسائے ممالک کے ساتھ رویہ انتہائی جارحانہ رہا ہے، حال ہی میں بھارت کے آرمی چیف جنرل ”دیپک کپور“ چین اور پاکستان کو جنگ کی برہنہ دھمکی دے چکے ہیں جبکہ مریکا، برطانیہ اور ان کے اتحادیوں نے مل کر مسلم دنیا کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے۔ کیا ایسے حالات میں ”بین المذاہب رواداری کا فروغ” اور ”دینا میں قیام امن“ کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتاہے؟
تازہ ترین