• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر اسرار احمد۔ اک چراغ اور بجھا....صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود

گھنٹی بجی، میں نے فون اٹھایا تو دوسری طرف ایک شخص کے زارو قطار رونے کی آوازیں سنائی دیں۔ جنہوں نے مجھے پریشان کر دیا۔ میں نے دو تین بار ہیلو کہا تو اس شخص نے اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے آنسوؤں بھری آواز میں کہا ”کیا آپ نے یہ خبر سنی۔ ڈاکٹر اسرار احمد انتقال فرما گئے۔“ اتنی سی بات کرکے وہ پھر رونے لگا اور آہ وزاریاں کرنے لگا۔ مجھے یوں لگا جیسے ایک دم سانپ سونگھ گیا ہو۔ ایک جھٹکا لگا اور میں چند لمحوں کے لئے گم سم سا ہو گیا۔ میں نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور اس شخص کو حوصلہ دینے کے لئے عرض کیا کہ موت کا ذائقہ ہر ایک کو چکھنا ہے۔ ہم سب قطار میں کھڑے اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔ بس یہی زندگی ہے۔ میرے نزدیک مبارک ہے وہ انسان اور وہ زندگی جو دنیا میں مختصر سے قیام کے دوران دینی، مذہبی، ملی یا قومی خدمت سرانجام دے کر تاریخ کاحصہ بن جائے۔ تاریخ کے اوراق پر انمٹ نقوش چھوڑ جائے اور اپنے پیچھے ایسا خلا چھوڑ جائے جسے برسوں تک پر نہ کیا جاسکے۔ موت کا وقت تو مقرر ہے اور اس اصول کا اطلاق اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے پیارے بندوں اور نبیوں پر بھی ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اللہ کے پیارے، عشق الٰہی اور عشق رسول سے منور مرکر بھی نہیں مرتے، صرف دنیا کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں جبکہ ہم جیسے مٹی کے ساتھ مٹی ہو جاتے ہیں۔ دیکھا جائے تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے اور اپنے حبیب سے عشق کرنے والوں، دین کی خدمت کرنے والوں اور امت ِ محمدی کی خدمت کرنے والوں کو یہ ایک چھوٹا سا انعام بخشتا ہے کہ وہ مر کر بھی زندہ رہتے اور ابدی حیات پاتے ہیں۔
ڈاکٹراسرار احمد صاحب جنہیں مرحوم لکھتے ہوئے میرا قلم کانپتا ہے ایک بہت بڑا قومی، دینی اور ملی اثاثہ تھے۔ عظیم اسکالر، عظیم پاکستانی، عظیم مصنف اور عظیم دوست اور رہنما تھے۔ میں نے انہیں عام طور پر ملکی حالات کے بارے میں تشویش میں مبتلا دیکھا جو ان کی وطن سے محبت کا تقاضا تھا اور اسی حوالے سے استحکام پاکستان کا پروگرام ان کے مقاصد میں ایک اہم مقام رکھتا تھا۔ وہ کئی برسوں سے استحکام پاکستان کے لئے عملی جدوجہد کر رہے تھے اور اس موضوع پر سیمینار منعقد کروارہے تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ ان کا پاکستان سے عشق اور قائداعظم سے قلبی لگاؤ نہ ہی صرف ہم دونوں کے درمیان ایک قدرِ مشترک تھی بلکہ یہ حوالہ ہمارے درمیان ایک مضبوط ذہنی رشتے کی بنیاد بھی بن گیا تھا۔ اگرچہ ڈاکٹر صاحب سے میری ملاقاتیں زیادہ نہیں تھیں جو میری محرومی اور روایتی کاہلی کا شاخسانہ ہے لیکن ڈاکٹر صاحب جہاں مجھے استحکام پاکستان کے ضمن میں کبھی کبھار یاد فرما لیا کرتے تھے وہاں یہ کبھی نہیں ہوا کہ قائداعظم  کے حوالے سے میری کسی لکھاری سے بحث یا قلمی جنگ چھڑی ہو تو ڈاکٹر صاحب نے مجھے بطور خاص فون کرکے شاباش اور دعانہ دی ہو۔ ان کی وفات سے مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں ایک کرم فرما کے دست ِ شفقت اور ایک مہربان کی دعا سے محروم ہو گیا ہوں۔
زندگی بڑی ظالم ہے یہ پہلے دیتی اور پھر چھین لیتی ہے۔ عمر کے ایک حصے میں آپ کو مخلص دوست اور دل سے چاہنے والے مہربان ملتے چلے جاتے ہیں جو زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں اور انسان انہی کو مکمل زندگی سمجھنے لگتا ہے۔ پھر وہ وقت آتا ہے جب وہ ایک ایک کرکے ان سے محروم ہونے لگتا ہے، محفل کے چراغ ایک ایک کرکے بجھنے لگتے ہیں، اردگرد تاریکی کے سائے بڑھنے اور پھیلنے لگتے ہیں اور پھر ایک دن وہ اپنے آپ کو بالکل تنہا محسوس کرنے لگتا ہے۔ میری زندگی کی عزیز متاع بلکہ اسے فکری محور کہنا چاہئے پروفیسر مرزا محمد منورمرحوم تھے جن کی طفیل مجھے شورش کاشمیری، پروفیسر کرامت حسین جعفری، عظیم شاعر حفیظ جالندھری، حمید جالندھری مکتبہ کارواں اور ڈاکٹر اسرار احمد جیسی عظیم، منفرد، ناقابل فراموش اور زمانہ ساز شخصیات سے طویل دوستی کا اعزاز حاصل ہوا۔ ہماری اس ہفتہ وار محفل میں مجیب الرحمن شامی کے قہقہے اور نوکیلے فقرے، بشیر احمد ارشد مرحوم کی سنجیدگی ، شیخ اشرف مرحوم کی ترکی ٹوپی اور رانا اکرام مرحوم کی بے ساختگی جن سب پر شورش کاشمیری کا صرف ایک بھرپور قہقہہ بھاری ہوتا تھا۔ محبت اورخلوص کے چراغ جلاتی اور موسم کے مطابق آئس کریم یا چائے کا لطف دوبالا کردیتی تھی۔ ڈاکٹر اسرار احمد اس محفل کا حصہ نہیں تھے لیکن ان سے مرزا محمد منور کے ساتھ میری ملاقاتیں رہتی تھیں۔ ایک ایک کرکے یہ چراغ بجھتے گئے اور شامی صاحب جیسے ”بقایا“ نے بہتر محفلیں سجالیں کہ وہ ہمیشہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہے ہیں۔ یوں عمر کے آخری حصے میں ہم ہیں اور دشت ِ تنہائی ہے لیکن یہ کیا کم ہے کہ اس عہد کی عہدساز شخصیات سے دوستی اور یادوں سے دامن بھرا ہوا ہے جو فکر کو تقویت اور روح کو فرحت بخشتی ہیں۔ بقول شاعر:
اکثر شب ِ تنہائی میں، کچھ دیر پہلے نیند سے
گزری ہوئی دلچسپیاں، بیتے ہوئے دن پیار کے
بنتے ہیں شمع زندگی اور ڈالتے ہیں روشنی
میرے دلِ صد چاک پر
نوجوان دوستو! زندگی پہلو بدلتی رہتی ہے، زندگی کا سفر رواں دواں رہتا ہے لیکن اس سفر میں اگر کچھ برس سایہ دار اور خوشبودار درختوں کی گھنی چھاؤں کے تلے گزر جائیں اور اپنے عہد کے بڑے لوگوں کی رفاقت اور محبت مل جائے تو یہی زندگی کا قیمتی ترین اثاثہ ہوتا ہے۔ مجھے دینی معاملات میں رہنمائی کی ضرورت محسوس ہوتی تھی تو اپنے عزیز دوست ڈاکٹر غلام مرتضیٰ کی طرف رجوع کرتا تھا۔ بے رحم ہاتھوں اور سنگدلوں نے انہیں گولیوں سے چھلنی کرکے مجھے ایک دوست سے محروم کردیا۔ ان کے بعد جب ضرورت پڑتی تو ڈاکٹر اسرار صاحب کو فون کرتا اور رہنمائی چاہتا، آج میری زندگی کا وہ باب بھی بند ہو گیا ہے۔کبھی کبھار علامہ جاوید غامدی صاحب کو زحمت دینا چاہوں تو رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔ اللہ اللہ خیر سلا۔ اس تھوڑ ے سے عرصے میں مجھے پہ در پہ تین صدموں نے نڈھال کر دیا ہے جن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں تھا۔ سب سے پہلے میرے دیرینہ دوست مظفر محمد علی گئے جو اعلیٰ پائے کے افسانہ نگار اور لکھاری تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ نہایت مخلص انسان تھے۔ ان کے فوراً بعد سید قاسم محمود نے داغ مفارقت دیا جن کی محنت، لگن، مستقل جدوجہد اور علم دوستی کا میں حد درجہ مداح تھااور ان سے فون پر رابطہ بھی رہتا تھا۔
میں نے مدینہ منورہ کی حاضری کے دوران ان دونوں دوستوں کے لئے نہایت دردمندی سے دعائیں کیں۔ ابھی ان صدموں کو ”سہلا“ ہی رہا تھا کہ آج ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی وفات ایک اور صدمے کا داغ لگا گئی۔ روشنی کا ایک اور چراغ بجھا گئی۔ڈاکٹر صاحب سے میری شناسائی کئی دہائیوں پر محیط تھی اور میرا ان سے پہلا رابطہ مریض اور معالج کا رابطہ تھا۔ ساٹھ کی دہائی کے وسط میں، میں گورنمنٹ کالج لاہور میں طالب علم تھا اور پھر وہیں لیکچرار بن گیا۔ اس زمانے میں میرے گلے کو خراب رہنے کی عادت تھی۔ ایک روزپروفیسر مرزا منورصاحب مجھے ڈاکٹر صاحب کے کرشن نگر والے کلینک لے گئے اور پھر یہ حاضری اکثر ہونے لگی۔ پھر میری آنکھوں کے سامنے ڈاکٹر اسرار احمدصاحب نے عربی، قرآن اور اسلام کے گہرے مطالعے کا سفر شروع کیا، ایم اے اسلامیات کیا اور پھر دن رات محنت کرکے ان علوم پراس قدر دسترس حاصل کی کہ بقول اقبال:
مقام ہم عصروں سے ہو اس قدر آگے
کہ سمجھے منزل مقصود کارواں تجھ کو
کی عملی اور زندہ مثال بن گئے۔ آج ڈاکٹر صاحب ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن ان کا کام، ان کا نام، ان کے دینی کارنامے اور ان کی تحریک ان کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھے گی کہ تیز سے تیز آندھی بھی ان چراغوں کو بجھا نہیں سکتی بلکہ میں تو محسوس کرتا ہوں کہ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ ان چراغوں کی روشنی بڑھتی چلی جاتی ہے جس سے زندگی کی راہیں روشن ہوتی چلی جاتی ہیں۔ موت برحق ہے۔
اس سے کسی کو مفر اور استثنیٰ حاصل نہیں لیکن مبارک ہے وہ موت جو انسان کو مار کر بھی مار نہ سکے کیونکہ عاشقان الٰہی، عاشقان رسول، دین کے خادم اور پیامبر، انسانیت کے غم کا بوجھ اٹھانے والے اور ملک و ملت کی بے پایاں خدمت کرنے والے نظروں سے اوجھل ہو کر بھی زندہ رہتے ہیں، ان کا نام اور کام تاریخ کے صفحوں کو گرماتا اور لوگوں کے دلوں کو تڑپاتا رہتا ہے۔ دوستو! نعمت اور مبارک ہے ایسی زندگی اور مبارک ہے ایسی موت…
تازہ ترین