• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پختونخوا۔ دلائل اور لہجے کی بحث....صاحبزادہ حمید اللہ

”پختونخوا“ نام کا مسئلہ اٹھارویں ترمیم کے ذریعے حل ہوکر آئین پاکستان کا جز بن گیا مگر بعض گندم نما جو فروش کالم نگاروں کے پیٹ میں مسلسل مروڑ اٹھ رہے ہیں۔ پہلی بحث تو یہ ہے کہ ”پختونخوا“ خالص پشتو زبان کا لفظ ہے جس میں ”خوا“ (KAWA) کے معنی ”طرف“ یا ”جانب“ کے ہیں یہ ایک مفرد لفظ ہے جسے ملک کے نام نہاد دانشور مرکب اور ”پشتون“ یا ”پختون“ اور ”خواہ“ پر مشتمل سمجھتے ہیں جو ایک گمراہ کن تصور ہے۔ اس لفظ کا تلفظ بلوچستان کے پشتون یا جنوبی پشتونخوا والے ”پشتونخوا“ سے اور خطہ و ملحقات یعنی ”خیبر پختونخوا“ کے پختون ”پختونخوا“ سے کرتے ہیں کیونکہ ان کے لہجے میں ” “ کو ”خ“ سے ادا کرتے ہیں جو پشتو حروف تہجی کا سب سے مشکل حرف ہے۔ ہارون الرشید اور دوسروں کے تراشے ہوئے منفرد تجزیہ کار بھی اسے ”پشتونخواہ“ بروزن ”تنخواہ“ لکھتے ہیں جیسے ”خیرخواہ“ اور ”بدخواہ“ جیسے الفاظ ہوتے ہیں۔ حالانکہ اس میں فارسی کے لاحقے ”خواہ“ کا دخال درست نہیں ہارون الرشید کا ایک ماہ پہلے کا لکھا ہوا مضمون تو 20/اپریل کے ”جنگ“ میں کالم نگار کی درخواست پر دوبارہ چھپ جاتا ہے اور رشید قیصرانی کا زہر بھرا مضمون بھی انیس اپریل 2010ء کے ”جنگ“ میں دوبارہ چھپ جاتا ہے جو سوائے ڈیڑھ کروڑ پشتونوں کی دلآزاری کے اور کچھ بھی نہیں۔ دوسری طرف ہمارے قلموں میں کالم مچل رہے ہیں مگر کسی قومی یا ملک گیر جریدے میں چھپنے کی کوئی سبیل نہیں۔
وہی قاتل، وہی ثالث، وہی منصف ٹھہرے
اقربا میرے کریں قتل کا دعویٰ کس پر
بقول غالب
ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں
کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے
”پشتونخواہ“ کا ترجمہ انگریزی میں صحیح کیا جاسکتا ہے اور وہ ہے PAKHTOONDOM بروزن (KINGDOM) یا (ENGLAND) جو کہ (ANGAL-LAND) سے مل کر بنا ہے۔ جو لوگ اس لفظ کے ساتھ ”ہ“ کا اضافہ کرتے ہیں وہ اپنی طرف سے فارسی کی ایک بھونڈی ترکیب وضع کرتے ہیں جس سے غیر پشتونوں کی دلآزاری کے ساتھ ساتھ پشتونوں کی خودغرضی اور خود پرستی ٹپکتی ہے۔ حالانکہ پشتون تو غیرمتعصب قوم ہے جو بزدلی اور عیاری سے کوسوں دور ہے۔
انہوں نے اٹھارویں صدی عیسوی میں روہیل کھنڈ، رامپور، بھوپال اور شمالی ہند کے دیگر اقطاع میں حکومتیں قائم کیں اور وہیں کے ہورہے۔ لودھی اور سوری تو پندرہویں اور سولہویں صدی عیسوی کے خالص پشتون سلاطین تھے اور ہند کی پہلی اسلامی سلطنت کے بانی مجاہد اعظم شہاب الدین غوری شہید تو خالص پشتون اور خاک غور افغانستان کے باشندے تھے۔ پھر ایسی دلنواز تاریخی اہمیت رکھنے والی قوم کو تعصب کا الزام دینا طعنہ زنی کے سوا اور کچھ نہیں۔ آسمان کا تھوکا منہ پر ہی آتا ہے۔
اور ”پختونخوا“ کا نام تو باسٹھ سالہ جدوجہد کے بعد اس صورت میں ملا ہے کہ اس کے ساتھ ”خیبر“ کی پخ لگا دی گئی ہے۔ بہرحال یہ سرحد سے اچھا ہے۔ یہ پاکستان کے تمام پشتونوں کا متفقہ مطالبہ ہے۔ ابھی تو ”فاٹا“ کو بھی اور بلوچستانی پشتونوں کو بھی اس ”پشتونخوا“ کا حصہ بننا ہے اگر اس کے افغانستان سے ملنے کا خدشہ ہے تو خود میں اتنی ”اسلامیت“ اور ”عدالت“ کا جوہر پیدا کیجئے کہ افغانستان ہی سارے کا سارا آپ کی جھولی میں پکے ہوئے پھل کی طرح آگرے۔ امریکہ کی خاطر اپنے بہادر مسلمان پشتونوں کو ”ڈرون“ طیاروں اور جیٹ بمباروں سے مارنا کس اسلام کی خدمت ہے؟
اتنی نہ بڑھا پاکیٴ داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ، ذرا بند قبا دیکھ

تازہ ترین