ہیلی فیکس(زاہدانورمرزا) واقعہ کربلا سوزوگداز کے تاثرات کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی کمالات اور نفسانی امتیازات کے جملہ اسرار کا خزینہ ہے۔ معرکہ کربلا سے علم تہذیب کے ماہر اور شریعت و احکام کے متبحر عالم و فقیہ بھی رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی جماعت اہل سنت یو کےاینڈاوورسیز ٹرسٹ کے علماءومشائخ نے محرم الحرام کی مجالس سےخطاب کرتےہوئےکیا۔ ڈاکٹر پیر سید عبدالقادر شاہ جیلانی نے دارالعلوم جیلانیہ والتھم سٹو میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسین ؓاور آپ کے انصار نے روز عاشور وہ عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے جس کی نظیر کائنات میں نہ اس سے قبل ممکن ہوئی اور نہ اس کے بعد ہو سکتی ہے۔
علامہ پروفیسر سید احمد حسین شاہ ترمذی نے جامعہ الزہرا فرانسس سٹریٹ ہیلی فیکس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسینؓ نے اپنی قربانی میں کمال انسانیت کا کوئی باب ایسا نہیں تھا جس کا نمونہ پیش نہ کیا ہو۔ علامہ قاضی عبدالعزیز چشتی نے جامعہ اسلامیہ غوثیہ لوٹن میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام عالی مقامؓ اور ان کے جانبازوں کا ہر طرز عمل ایک اسرار رموز کا خزانہ تھا،جس میں انسانی کمالات کی بلند ترین مثالیں موجود ہیں۔ مفتی محمد خان قادری نے دارالعلوم جیلانیہ بری میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جملہ شہدا کربلا نے ثابت قدمی، استقلال، خودداری، صدق و امانت،اخلاص و صبر اورحق پرستی کی لازوال تاریخ رقم کی۔ پیر سید انور حسین کاظمی نے بیڈ فورڈ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت حسین ؓکا ہراقدام خالص تبلیغی شان رکھتا تھا۔
صاحبزادہ سید مظہر حسین شاہ گیلانی نے لندن میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسینؓ کی شہادت نے اسلامی تعلیمات کو پھر سے زندہ کر دیا اور آمریت کی بنیادیں متزلزل ہو گئیں۔ علامہ عبد الرحمٰن نقشبندی نے بریڈ فورڈ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سید الشہداء کی بے مثل قربانی نے اسلام کو قیامت تک کے لئے زندہ کر دیا۔ پیر سید نور احمد شاہ کاظمی نے لندن میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رسول کریمؐ نے امت کو دو عظیم الشان چیزیں عطا فرمائی ہیں ایک قرآن مجید اور دوسری عترت رسول۔ ان سے محبت ہی ایمان ونجات کا ذریعہ ہے۔ محقق برطانیہ علامہ طارق مجاہد جہلمی نے کہا کہ اہل بیت مصطفٰی کی مثال کشتئ نوح کی مثال ہے جو اس سے وابستہ رہے گا وہی نجات پائے گا۔ مفتی ساجد لطیف قادری نے کہا کہ صدیاں بیت گئیں مگر سانحہ کربلا کی یاد ہر دم تازہ ہے۔ مولانا سید زین العابدین، صاحبزادہ سید محمد حیدر ترمذی، مولانا قاضی عبد الرشید چشتی، صاحبزادہ ضیاء المصطفی چشتی، مولانا انعام الحق قادری، قاری عاصم حسین مرزا، حافظ اشتیاق حسین قادری، مولانا حافظ محمد افضل چشتی، خلیفہ عبدالرحمن قادری،صاحبزادہ محمد حسنات قادری، علامہ محمد فاروق چشتی،علامہ ضیاء الاسلام ہزاروی، علامہ نیاز احمد صدیقی، پیر سید رشید حسین شاہ جماعتی اور الشیخ عمر رمضان قادری نے مجالس شہداء میں خطاب کرتے ھوئے حضرت امام عالی مقام کی بارگاہ میں زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔