بات ہو رہی تھی ملک و قوم کی… میں نے ان کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تو وہ میری آنکھوں میں مچلتا سوال سمجھ گئے اور کہا ”ارے میاں۔ جب کسی گھر یا خاندان پر ناگہانی مصیبتیں اور آفتیں نازل ہوتی ہیں تو وہ صدقہ و خیرات کر کے اور قرآنی آیات پڑھ کر ان آفتوں سے نجات کی دعا کرتے ہیں لیکن جب کسی قوم پر دنیاوی و آسمانی آفات نازل ہونے لگیں تو وہ وقت اجتماعی توبہ و استغفار کا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو توبہ و استغفار بہت پسند ہے اس لئے اگر یہ عمل خلوص نیت سے کیا جائے تو مصائب اور آفات ٹل جاتی ہیں۔“
ہاں تو میں عرض کر رہا تھا کہ ذکر ہو رہا تھا ملک و قوم کا اور میں مسلسل اندیشوں کے بادلوں میں کھویا سوچ رہا تھا کہ خدا جانے کیوں میرا ملک آج کل ہر قسم کی آفات، مسائل، چیلنجز اور مصائب میں گھرا ہوا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے صرف ہم ہی دنیاوی اور آسمانی آفات کی زد میں ہیں۔ کوئی دن نہیں گزرتا کہ کوئی ناگہانی مصیبت نازل نہ ہوتی ہو اور پوری قوم کو سوگوار نہ کر جاتی ہو۔ جس طرف دیکھو ملک میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں جس میں سے کچھ خون تو ہم خود بہا رہے ہیں باقی رہی سہی کسر حادثات و واقعات اور آسمانی آفات پوری کر دیتی ہیں۔ ابھی کل ہی مارگلہ کی پہاڑیوں سے طیارہ ٹکرایا اور اسلام آباد کی سرسبز و شاداب وادی میں خون کی ندیاں بہنے لگیں۔ جہاز بھی صرف دس سال پرانا اور پائلٹ بھی نہ صرف انتہائی تجربہ کار اور منجھا ہوا بلکہ نہایت عبادت گزار ان تمام زمینی انتظامات اور احتیاطوں کے باوجود طیارے کے مسافروں کا مارگلہ کی پہاڑیوں میں قطرہ قطرہ خون بہاتے ہوئے شہید ہونا کیا مقدر کا فیصلہ تھا؟ اس طیارے میں سوار مسافر کیا کیا خواب آنکھوں میں سجائے اسلام آباد آ رہے تھے۔ کوئی ہنی مون کے پروگرام بنا رہا تھا تو کسی کو یوتھ پارلیمنٹ میں اپنے جوہر دکھانے تھے، کسی کو اہم میٹنگ میں جانا تھا تو کوئی اپنے رشتے داروں اور دوستوں سے ملنے کے لئے بے چین تھا۔ سارے خواب ٹوٹ گئے، سینکڑوں گھروں میں صف ماتم بچھ گئی اور پاکستان کا جھنڈا سوگوار ہو کر اپنے اصل مقام سے نیچے اتر آیا۔ اب آپ انکوائریاں کرتے رہیں کہ اس حادثے کا کیا سبب تھا، پائلٹ نے لمبا چکر کیوں لگایا، لینڈنگ روٹ کیوں بدلا گیا، یہ کوئی سبوتاژ یا تخریبی کارروائی تو نہیں تھی لیکن جانے والے جا چکے اور اب کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ ایک زخم ہے جو کبھی مندمل نہیں ہو گا۔
دوسری طرف نگاہ ڈالو تو ایک عجیب سی سوچ گھیر لیتی ہے۔ ابھی کل تک ملک میں خشک سالی کا دور دورہ تھا صوبے پانی کی قلت پر احتجاج کر رہے تھے اور آپس میں لڑ رہے تھے۔ فصلیں سوکھ رہی تھیں اور دھان کے سرسبز پتے منہ کھولے پانی کے قطروں کے لئے ترس رہے تھے۔ ڈیمز میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول تک پہنچ چکی تھی جس کے سبب نہ ہی صرف آبپاشی کا نظام درہم برہم ہو رہا تھا بلکہ لوڈ شیڈنگ میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔ مختلف مقامات پر بارش کے لئے نماز استسقاء ادا کی گئی اور ہفتوں تک مساجد میں بارش کے لئے ہاتھ اٹھا اٹھا کر اور بلبلا بلبلا کر دعائیں کی گئیں۔ اب ابر رحمت برسنا شروع ہوا تو برستا ہی چلا گیا۔ نتیجے کے طور پر سیلابوں نے پورے ملک میں تباہی مچا دی۔ ابر رحمت آسمانی آفت بن گیا۔ سینکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں، ان گنت لوگ سیلابی ریلوں میں بہہ گئے، ہزاروں گھر تباہ ہو گئے اور لاکھوں کو پانی نے گھیر لیا۔ گلیاں کوچے برساتی نالے بن گئے، ڈیمز پانی سے بھر گئے اور اسلام آباد کے ڈیم کے سپل اوور کھولنے پڑے۔ دیکھتے ہی دیکھتے سارا ملک جل تھل ہو گیا اور پختون خواہ خیبر آسمانی آفات تلے لرزنے لگا۔ ابھی چند ہفتے قبل ہی عطاء آباد جھیل نے تباہی مچائی اور ہزاروں لوگوں کو بے گھر کر دیا تھا۔ رہی سہی کسر موجودہ بارشوں اور سیلابوں نے نکال دی۔ ایک طرف قبائلی علاقوں اور وزیرستان اور سوات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دہشت گردوں کی کارروائیوں کے سبب انسانی خون بہہ رہا ہے تو دوسری طرف آسمانی آفت کی بجلیاں گر رہی ہیں۔ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے، ریاستی اداروں اور پرائیویٹ فوجوں کے درمیان جنگ جاری ہے، کوئٹہ سے باہر قومی جھنڈا لہرانا اور ترانہ پاکستان بجانا جرم بن چکا ہے دوسری طرف سیلابوں نے تباہی برپا کر دی ہے۔ پاکستان کے تجارتی دل کراچی میں ایک طرف ٹارگٹ کلنگ نے ساری قوم کو تشویش اور غم میں مبتلا کر رکھا ہے تو دوسری طرف سیلابی پانی سے بعض سڑکیں اور گلیاں ندی نالوں کا سماں پیش کر رہی ہیں۔ پنجاب کے کچھ اضلاع بارشوں اور سیلابوں کی تباہی کے سبب آفت زدہ قرار دیئے جا چکے ہیں تو دوسری طرف دہشت گردی اور فرقہ وارانہ فسادات نے خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے۔ غربت اور مہنگائی پورے ملک پر راج کر رہی ہے اور بخشش و برکات کے مبارک مہینے رمضان کی آمد کا استقبال کرنے کے لئے نہ صرف تاجر حضرات اپنی جیبوں کے منہ کھول رہے ہیں بلکہ حکومت نے ابھی سے چینی کی قیمت میں اضافہ کر کے مہنگائی کا بگل بجا دیا ہے، اس کے بعد گھی بناسپتی گھی اور آٹے کی باری ہے۔ حکومت کے قائم کردہ چند سستے بازار قوم کا پیٹ کیسے بھریں گے؟ ذخیرہ اندوز ظالم لوگ ہیں، چینی مافیہ نہ صرف سنگدل ہے بلکہ اقتدار میں بھی بیٹھا ہوا ہے۔ آسمانی آفات اور قدرت کی سزا سے بے خوف آٹا اور چینی مافیا ضرور اپنا رنگ دکھائے گا اور رمضان کے مقدس مہینے میں لوگوں کو لوٹے گا اور تجربہ یہی ہے کہ حکومت خاموش تماشائی بنی ہمارے لٹنے کا منظر دیکھتی رہے گی۔ جس ملک میں ذخیرہ اندوز، اسمگلر، عوام کا خون چوسنے والے مافیاز، انسانی جانوں سے کھیلنے والے اور قتل و غارت سے جی بہلانے والے گروہ، حج اور نماز کے ساتھ ساتھ ڈھٹائی سے جھوٹ بولنے والے اور کم تولنے والے تاجر، جوئے اور شراب و زنا کے اڈے چلانے والے کوتوال اور محافظ اور قومی وسائل و خزانہ لوٹ کر غیرممالک میں کھربوں روپوں کی جائیدادیں بنانے والے سیاسی لیڈرز اور حکمران ہوں وہ ملک آسمانی آفات اور اپنوں کے ہاتھوں قتل و غارت کا نشانہ اور عبرت کی مثال کیوں نہ بنے، ایسے ملک اور ایسی قوم پر خدا کی رحمتیں اور آسمانی برکات کیونکر نازل ہوں۔
ہم امریکی مہروں کی جانب سے وکی لیکس پر بحث کر کر کے نڈھال ہو رہے ہیں، ابھی انہوں نے صرف پچھتر ہزار صفحات ”لیک“ یا بے نقاب کئے ہیں جبکہ پندرہ ہزار کسی اور موقع کے لئے اٹھا رکھے ہیں۔ ایک طرف افغان جنگ اور دہشت گردی کے خلاف مہم میں سب سے زیادہ نقصان ہمارا ہوا ہے۔ سینکڑوں فوجی شہید ہوئے ہیں اور کئی ہزار شہری نشانہ بنے ہیں۔ پچاس ارب ڈالر کا خرچہ ایک محتاط اندازہ ہے۔ میرے نزدیک تو اس جنگ میں شہید ہونے والے فوجیوں اور سرکاری اہل کاروں کی تعداد یقینا ہزاروں میں ہو گی، گھروں سے ہجرت کرنے والے اور جڑنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ ہمارے مقابلے میں امریکی جانی نقصان اور نیٹو فورسز کی ہلاکت کی تعداد بہت کم ہے۔ اتنا خون بہانے کے باوجود امریکی کانگریس، امریکی دانشور اور امریکی لیڈرز نہ صرف پاکستان پر منافقت اور ڈبل گیم کا الزام لگا رہے ہیں بلکہ انہیں یقین ہے کہ پاکستان نے اسامہ اور اس کے ساتھیوں کو بھی پناہ دے رکھی ہے اور وہ ملا عمر اور طالبان کی بھی امداد کر رہا ہے۔ اس فضا سے فائدہ اٹھا کر بھارت بھی ہمیں دھمکا رہا ہے، جنگ اور انتقام کے نغمے گا رہا ہے اور اب برطانوی وزیراعظم بھی بھارت یاترا کے دوران اکھاڑے میں اتر آئے ہیں اور پاکستان پر الزامات کی بارش کر کے بھارت کو خوش کر رہے ہیں۔ برطانوی حکمران پارٹی کی چیئرپرسن سعیدہ وارثی چند روز قبل پاکستان میں تھیں اور ہم خوشی سے نہال ہو رہے تھے۔ ابھی ہماری خوشی کا جوش بھی کم نہیں ہوا کہ سعیدہ وارثی کی پارٹی کے وزیراعظم نے ہم پر نشانے باندھ کر فائرنگ شروع کر دی ہے۔ تفصیل میں جاؤں تو ان خطرات، مصائب، مسائل اور آفتاب پر کتاب لکھی جا سکتی ہے جو پاکستان کو گھور رہے ہیں یا پھر آسمان سے نازل ہو کر پاکستان کی دھرتی کو لہولہان کر رہے ہیں۔ شاید انہی آزمائشوں سے گزر کر پاکستانی قوم کو صحیح معنوں میں ایک مضبوط قوم بننا ہے لیکن کل تو ایک راز ہے جو صرف میرا رب ہی جانت ہے۔ میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ جب کسی قوم پر اس طرح کی آفات، حادثات اور مصائب کا کڑا وقت آئے اور زمینی و آسمانی آفات کے سبب خون بہنے لگے تو وہ وقت اجتماعی توبہ و استغفار کا ہوتا ہے۔ توبہ و استغفار اللہ سبحانیٰ و تعالیٰ کو بہت پسند اور عزیز ہے بشرطیکہ اس میں خلوص نیت شامل ہو لیکن ہمارا مسئلہ تو یہ ہے کہ قوم کا ایک حصہ توبہ و استغفار میں مصروف ہو تو دوسرا حصہ لوٹ مار میں مصروف ہوتا ہے، قوم آزمائشوں کی چکی میں پس ر ہی ہو تو لیڈران حضرات عیش و عشرت سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں اور … اور … اور بس…؟؟